Saturday, June 4, 2016

چندا رے چندا ۴

اللہ تعالٰی نے انسان کو عقل عطا کی ہے اور علم کی نعمت سے بھی نوازا ہے، اللہ اور فرشتوں  کے مابین انسان کی تخلیق کے معاملہ پر ہونے والے مکالمہ سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔
فلکیات کا علم بھی دیگر علوم کےساتھ ساتھ آجکل بہت اہمیت کا حامل ہے۔اسی علم کی بدولت انسان آج ستاروں پر کمند ڈال چکا ہے، لیکن قابو میں نہیں آتا تو بس مہتاب۔
جب آفتاب کے طلوع اور غروب پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں اور نمازوں کے اوقات اپنے اپنے مسلک کے مطابق نقشہ جات دیکھ کر متعین کر لئے گئے ہیں تو چندا ماما کی موجودگی کی شہادت پر اختلاف ہماری ہٹ دھرمی کو ظاہر کرتا ہے جس کا منطق سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ بات بارہا دہرائی جا چکی ہے کہ چاند کا موجود ہونا اور دکھائی دینا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ علم فلکیات چاند کے ہونے کا وثوق کے ساتھ بتا سکتی ہے،یعنی چاند افق پر موجود ہے یا نہیں، سورج سے پہلے غروب ہو گا یا بعد میں، افق پر اسکی اونچائی کتنی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ان سب معلومات کی درستگی اپنی جگہ مگر چاند کی رویت اسے خالی آنکھ سے دیکھنے کا تقاضہ کرتی ہے۔
کل بروز اتوار، مورخہ ۵ جون ۲۰۱۶ کو پاکستان میں ۲۸ شعبان المکرم ۱۴۳۷ ہوگی۔نئے چاند کی پیداِئش پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق صبح ۸ بجے ہوگی۔ پیدائش قمر کا یہ تخمینہ علم فلکیات کے کلیوں کی بدولت لگایا جاتا ہے۔ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ فلکیات کے کلیوں سے ہی  آفتاب کے طلوع و غروب کے نقشہ جات تیار ہوتے ہیں، لہٰذا فلکیات کا علم چاند کی پیدائش بھی ریاضی طور پر درست بتائے گا۔
تو صاحب کراچی میں کل غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر گیارہ گھنٹوں سے کچھ اوپر ہوگی۔ اتنی عمر کا چاند دکھائی نہیں دے سکتا۔مزید یہ کہ سورج کے ڈوبنے کے پندرہ منٹ کے بعد چاند بھی ڈوب جائے گا۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ غروب آفتاب کے ہوتے ہی اندھیرا نہیں ہو جاتا بلکہ خاصی روشنی رہتی ہے۔ ایسے میں کسی بھی فلکی جرم کو دیکھنا ناممکن ہے۔
واضح رہے کہ پشاور میں غروب آفتاب اور مہتاب میں فرق گیارہ منٹ کا ہے، یعنی کراچی کے دورانیہ سے بھی کم لہٰذا وہاں تو چاند نظر آنا گدھے کے سر پر سینگ اُگ آنے کے مترادف ہوگا۔
ہمارا اس بلاگ کے لکھنے کا مقصد محض سائنس کے حقائق بیان کنا ہے، کسی بھی مذہبی، سیاسی یا معاشرتی گرہ یا طبقہ پر تنقید کرنا نہیں۔ اس کے باوجود بھی اگر کل ملک میں چاند نظر آنے کا اعلان ہوا تو وہ سائنسی اعتبار سے ناقص ہوگا۔

ہمارے آسٹریلیا کے دوستوں کے لئے بھی یہ بتاتے چلیں کہ کل وہاں بھی چاند کا نظر آنا نا ممکن ہے اور اگر وہاں رمضان المبارک کے آغاز کا اعلان ہوتا ہے تو وہ محض پیدائش قمر کے لحاظ سے ہو گا۔

Monday, February 15, 2016

تصویرِ ہمدرداں ۔ جنے لہور نئی ویکھیا

پس منظر کے لئے گذشتہ بلاگ یہاں پڑھیں۔

یہ جنوری سن دو ہزار چار کے آخری ہفتے کا ذکر ہے کہ ہم بحیثیت انچارج اگزیمینشن سیل کے مسسز گلزار کے ساتھ لاہور روانہ ہوئے۔ اس سفر کا مقصد یہ تھا کہ حکیم صاحب کے نام سے جاری کردہ وظائف دینے کی خاطر لاہور کے ہونہاروں کا  تحریری اور زبانی امتحان لیا جائے اور فاونڈیشن کو نتیجہ ارسال کیا جائے۔ امتحانی پرچے خصوصی طور پر تیار کئے گئے تھے- میٹرک پاس اور انٹر پاس امیدواران کی فہرست کے مطابق پرچے اور امتحانی مواد ہم نے پیک کروا دیا تھا۔
چھبیس جنوری کی شام کو مسسزگلزار اور ہمیں، یامین ڈرائیور نے جناح انٹرنیشنل کے ڈومیسٹک ٹرمینل پر سرکاری گاڑی میں چھوڑا۔ یامین، ہمدرد میں چلتے پھرتے اخبار کا درجہ رکھتے تھے، صاحب لوگوں کے ڈرائیور ہونے کی وجہ سے ان سے ہم لوگ تفریحا یہ پوچھا کرتے کہ اب کے برس تنخواہ میں کتنا اضافہ متوقع ہے، یا  آج کل ایڈمینسٹریشن اور میڈم کے حالات کیسے چل رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ان کی گفتگو غور سے سننا پڑتی تھی کیونکہ انکے بولنے کا ایک خاص انداز تھا کہ وہ معمولی بات کو بھی غیر معمولی بنا دیتے تھے۔
پرواز کا وقت ساڑھے چھ بجے کا تھا مگر فنی خرابی کے باعث پینتیس منٹ کی تاخیر سے اڑان ہوئی۔ فضائی میزبان، عمر شریف کے لطیفوں کی ہو بہو تصویر تھیں کہ جن سے جام بھی طلب کیا جاتا تو تتے پانی کا مزہ دیتا۔ اس کے برعکس کھانا لذ یذ تھا۔ اتنے میں لاہور آن پہنچا اور ہمعلامہ اقبال کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترے جہاں سردی بارہ درجہ سینٹی گریڈ تھی۔ ہمارے استقبال کے لئے جناب علی بخاری صاحب موجود تھے، ان کا نام گو کہ ہمارے پی ٹی انسٹرکٹر الحاج اصغر علی بخاری سے ملتا ہے مگر ہمارے بخاری صاحب والی عادات ان میں مفقود تھیں۔
علی بخاری نے ہمیں گاڑی میں لادا تو ہم لوگوں نے چھوٹتے ہی کسی کتب خانہ جانے کی فرمائش داغ دی، اس پر انھوں نے ہمیں تحیر آمیز نگاہوں سے گھورا مگر لاہوری گرم جوشی کے ساتھ فرض میزبانی ادا کرتے ہوئے لالہ زار کتاب گھر پر گاڑی رکوائی، ہم وہاں انٹر، میٹرک کی ڈھیروں کتابیں خریدیں اور دو ہزار کا بل ایڈمنسٹریٹر حافظ پرویز صاحب کے لئے تحفتا رکھ لیا۔
ہمارا پڑاو مرکز ہمدرد، لاہور کی عمارت میں تھا۔ مسسز گلزار کو حکیم صاحب کے زیر استعمال رہنے والا کمرہ دیا گیا اور ہمیں اسی کمرے کے بالمقابل ٹھکانہ ملا۔ سامان وغیرہ ترتیب دینے کے بعد مسسز گلزار کے ساتھ خشک میواجات کی ضیافت اڑائی اور ہماری اور عمارت کی چوکیداری پر مامور گارڈ کے تعاون سے چائے پی۔ آدھی رات کے قریب یہ سطور قلمبند کیں اور سو پڑے۔
اگلی صبح قریبا ساڑھے ساتھ بجے باقاعدہ بیدار ہوئے، میڈم کے ہاتھ کی بنائی کافی پی اور باہر نکل گئے، سردی ایسی تھی کہ اس سے لطف اندور ہوا جا سکتا تھا۔لب سڑک ایک مسجد کی محراب سے سمتوں کا تعین کیا تو پتہ چلا کہ مرکز ہمدرد کا مرکزی دروازہ مغرب کی جانب ہے جبکہ سڑک لٹن روڈ شمالا جنوبا گزرتی ہے۔
ہمدرد مرکز سے جنوبی سمت جو سڑک سیدھی نکلتی ہے وہ پرانی انارکلی جاتی ہے، ہم اسی سڑک پر واقع ایک چھوٹے سے 'شان ہوٹل' میں بیٹھے اور ناشتہ کیا۔
مسسز گلزار سےجو قارئین واقف ہیں انھیں انکی خصوصیات بتلانے کی ضرورت نہیں، پر نافاقف قارئین اتنا جان لیں کہ یہ  اپنے زمانے کی ٹیبل ٹینس کی قومی چیمپیئن ، تاریخ  کی استاد، سینٹ جوزف کالج کراچی کی پرنسپل اور کراچی کی پرانی رہائشی ہیں، خاصی دنیا دیکھ چکی ہیں اور خاصی پریکٹیکل خاتون ہیں۔ اردو میں انکی گفتگو محترمہ بینظیر بھٹو کی اردو کی یاد دلاتی ہے۔

جاری ہے

نوٹ: ان دنوں ہم انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کی سہولیات سے محروم تھے اور سفروں کے دوران باقاعدہ ڈائری لکھا کرتے تھے۔ یہ بلاگ پرانی ڈائری کی مدد سے تحریر کیا جا رہا ہے۔

Tuesday, February 2, 2016

تصویر ہمدرداں،قصہ معروضی امتحانات کا

اس سلسلے کا آخری بلاگ ہم نےپانچ برس پہلے تحریر کیا تھا۔آج اس سلسلہ کو دوبارہ شروع کرتے ہیں اور گردش ایام کو پیچھے کی طرف دوڑاتے ہیں۔
حکیم محمد شہید کی یاد میں ہمدرد فاونڈیشن نے میٹرک اور انٹر پاس طلبہ و طالبات کے لئے دو دو سالوں کے وظیفہ کا اعلان کیا تھا، پہلے سال یہ وظیفے صرف کراچی کے طلبہ و طالبات کو دیئے گئے، بعد میں ان کا دائرہ لاہور اور پشاور تک بڑھا دیا گیا۔ بورڈ کے سالانہ امتحان میں اعلٰی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں اور معاشی اعتبار سے مستحق طلبہ و طالبات کو یہ وظائف دیئے جانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ سن ۲۰۰۳ کے آخری ایام کا ذکر ہے کہ مسز گلزار کے پاس فاونڈیشن سے خط آیا جس میں ان وظاِئف کی تفصیل تھی اور ان سے سفارشات طلب کی گئی تھیں کہ متذکرہ وظائف کس طور پر دیئے جائیں؟ ہم ان دنوں کالج اور اسکول میں معروضی سوالات پر مشتمل کوئز کرانے میں ماہر ہو چکے تھے اور مسسز گلزار نے ہمیں داخلہ امتحان اور معروضی مقابلوں کا انچارج بنا دیا تھا۔
سن ۱۹۹۸ میں جب ہم ہمدرد میں استاد ہوئے تھے کالج میں داخلے محض امیدوار کا روبرو انٹرویو لینے پر ہوا کرتے تھے۔ ہمارے ہمدرد میں قدم جمنے کے بعد، محترم طارق ظفر اور محترم حسن احمر کے مشورہ پر یہ ہم ہی تھے جنھوں نے مسسزگلزار سے ایک فیلڈ ٹرپ کے دوران یہ بات منوائی کہ آئندہ کالج کے داخلے تحریری امتحان کے بغیر نہیں ہوں گے۔
پنجابی کی کہاوت ہے کہ 'جیہڑا بولے اوہی کنڈا کھولے'، سو مسسز گلزار نے ہمیں یہ ذمہ داری سونپی کہ تحریری امتحان کا مواد تیار کرو۔ ہم نے ہر مضمون کے استاد سے معروضی سوالات تیار کروائے اور انھیں کمپیوٹر پر منتقل  کر کےان کے جوابات کی الگ کنجی یعنی 'کی' وضع کی۔ یہ ساری ڈیزائنگ ہماری تھی۔ عزیزم صالح جتوئی سے ہم نے ایک ٹرانسیرنسی بنوائی جو جوابات کے نشانات پر مشتمل تھی کہ اسکی مدد سے جوابی پرچہ میں الف، ب، ج، د، پر لگائے گئے امیدوار کے نشانات با آسانی جانچے جا سکتے تھے اور محض چند لمحوں میں صحیح جوابات کی گنتی ہو سکتی تھی۔
اس ساری تفصیل کے بیان کرنے کے دو مقاصد ہیں اول یہ کہ آئندہ کے بلاگز کا پس منظر واضح ہو سکے اور دوسرا یہ کہ ہم پندرہ سولہ برس پہلے کی بات کر رہے ہیں کہ جب ہمدرد اسکول میں کمپیوٹر گنتی کے تھے اور انٹرنیٹ ندارد تھا۔ مزید یہ کہ کالج کی عمر تین چار برس تھی سو جو نظام وضح کیا جا رہا تھا وہ عدم سے وجود پا رہا تھا اور اس میں مسسز گلزار کا ہم پر اعتبار شامل تھا۔
جب یہ سارا عمل پایہ تکمیل تک پہنچا تو ہم نے داخلہ فارمز کی بھی فہرست تیار کی اور امیدواران کی تعداد اور منتخب کردہ مضامین کے مطابق پرچوں کی کاپیاں تیار کروائیں اور تحریری امتحان کے مکمل لوازمات کے ساتھ امتحان منعقد کیا۔ ممتحن کی ڈیوٹیز اور امتحانی ہالز کے نمبر تک ہم نے خود ترتیب دیئے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ نتیجہ اسی دن مرتب دیا۔
اس ابتدائی معروضی طرز کے امتحان کی کامیابی کے بعد مسسز گلزار نے ہمیں زبانی اور معاشی داد کےساتھ ساتھ یہ ذمہ داری مستقل طور پر سونپ دی۔ ہم تحریری معروضی  کوئز کرانے کے انچارج مقرر کر دیئے گئے اور اس کام کا ماہانہ معاوضہ ہماری تنخواہ میں شامل کردیا گیا۔ اس وقت ہم سمیت تمام اساتذہ تنخواہ کے ہندسوں کو کوئی خاص اہمیت نہ دیتے تھے بلکہ کام کرنا چاہتے تھے یہی وہ خلوص تھا کہ جو ہمدرد کی بنیادوں میں حکیم صاحب کے ہاتھوں بھرا تھا۔ ہم کبھی بھی اپنے آپ کو ملازم نہیں سمجھتے تھے کیونکہ مسسز گلزار تمام اساتذہ کو ایک کنبہ کی مانند رکھتی تھیں۔ اسلئے کوئی نوکری نہیں کرتا تھا بلکہ دل سے کام کرتا تھا۔
آنے والے برسوں میں داخلہ امتحان کے علاوہ ہر جماعت اور کلیہ کے مطابق معروضی طرز امتحان کے الگ الگ پرچے تخلیق کر لئے گئے اور ان کا تمام ریکارڈ ترتیب دیا گیا، حتٰی کہ ہر پرچے کا الگ نمبر شمار اس پر درج ہوتا تاکہ کوئی مواد ادھر ادھر نہ ہو سکے۔

اس تمام پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے قارئین اگلے بلاگ کا انتظار فرمائیں۔

Friday, November 27, 2015

اشتیاق احمد کے نام

 از کراچی
27 نومبر 2015
پیارے انکل اشتیاق احمد
اسلام علیکم،
امید ہے کہ آپ جنت میں ہونگے، دل چاہا کہ خراج عقیدت کے طور پر آپ پر ایک مضمون لکھوں، مگر پھر سوچا کہ کیوں نا آپ کو براہ راست ہی مخاطب کر لیا جائے۔ آپ کی حیات تو سسپنس سے بھرپور کہانیوں پر مشتمل رہی لیکن آپکی وفات بھی آپ کے ناولز کے کیسسز کی طرح تفتیش کا شکار ہو گئی۔
سترہ نومبر کو بورڈنگ کرا کے  آپ کراچی کے ہوائی اڈے سے ملکِ عدم کے سفر پر چل دیئے اور ہمارے جیسے بہت سے قارئین کو سوگوار چھوڑ گئے۔ 
'دھت تیری کی'، ' یہ تو کسی ناول کا نا م ہو سکتا ہے'، 'جلتی ہے میری جوتی' جیسے تکیہ کلام اور ان کے ادا کرنے والے کردار، محمود، فاروق اور فرزانہ یتیم ہوگئے ہمیں ڈر ہے کہ کہیں یہ یتیم کسی کاروباری مصنف کے ہتھے نہ چڑھ جائیں اور وہ انھیں اپنی کمائی کا دھندہ بنا ڈالے۔
آپ کے لکھے ناولز کے ذریعہ ناشرین نے تو خوب دولت کمائی اور آپ محض دال روٹی پر ہی رہے ۔ کیا کریں کہ آپ کی پیدائش آپ کے اختیار میں نہ تھی ورنہ اگر آپ فرنگیوں کے ملک میں ہوتے توہر طور سے جے کے رولنگ کے ہم پلہ ہوتے۔
ہماری آپ سے ملاقات کی خواہش کبھی پوری نہ ہو سکی، مگرہمیں یہ شرف ضرور حاصل ہے کہ آپ ہمارے لکھے خطوط کا جواب دیتے تھے۔
یہ سن چھیاسی، ستاسی کا ذکر ہے کہ اسکول میں ہم سے سینیئر طلبہ آپ کے ناول پڑھا کرتے تھے ایک آدھ بار ان سے مستعار لے کر آپ کے ناول پڑھنا شروع کئے تو پھر انکا چسکا ہی پڑ گیا۔
اس زمانے میں ہمیں روزانہ ایک اٹھنی جیب خرچ کے لئے ملا کرتی تھی اور محلے کی لائبریری سے آپ کے ناول ایک روپے یومیہ کرائے پر ملا کرتے تھے. ہم اور ہمارے برادر خرد اپنے جیب خرچ کے پیسے ملا کر ہر نیا آنے والا ناول لائبریری سے لے کر پڑھتے اور آئندہ آنے والے ناولزکا انتظار کرتے۔
آپکی 'دو باتیں' اور'ناول پڑھنے سے پہلے'سے لے کر اگلے ناول کی جھلکیاں ایک ہی نشست میں پڑھنے کے ہم نے کئی ریکارڈ قائم کیے. مزہ تب آتا جب آپ کا لکھا کوئی خاص نمبر شائع ہوتااور ہم موسم گرما کی تعطیلات میں رات دیر تک جاگ کر اسے ختم کرنے کی تگ و دو کرتے۔
آپ کے کرداروں کی نوک جھونک اور محاورات کی جنگ نے ہماری اردو خوب نکھاری اور ہم اسکول میں نہایت روانی کے ساتھ اردو کی بلند خوانی کرتے تھے، واضح رہے کہ اردو ہماری مادری زبان نہیں ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی کچھ لکھنے کی عادت ہوئی تو آپ کا اندازِ تحریر ہمارے سامنے تھا- آج اگر ہم تھوڑا بہت لکھ سکتے ہیں تو اسکی وجہ بھی یہی ہے آپ کے جملوں کی روانی نے ہمیں اس جانب راغب کیا۔
یاد آیا آپ نے چاند ستارے کے نام سے ایک ماہنامہ بھی جاری کیا تھا، تب تک ہمارا جیب خرچ بڑھ چکا تھا اور ہم ہر ماہ یہ رسالہ خریدا کرتے تھے۔ مگر آپکا یہ رسالہ شاید مالی مشکلات کا شکار ہو گیا اور جلد ہی آپ نے اسے بند کر دیا.شیخ غلام علی اینڈ سنز سے لے کر اٹلانٹس پبلیکیشنز تک آپ لکھاری ہی رہے اور کاروباری نہ بن سکے۔
ہمیں اشتیاق پبلیکیشنز کا ساندہ کلاں والا پتہ زبانی یاد ہوگیا تھا جو آپ کے ناولز میں درج ہوتا تھا اور اس پر ہم آپکوخط لکھتے تھے۔
جاسوسی اور سسپنس سے بھرپور ناول لکھنا تو آپ کی شخصیت کا ایک پہلو تھا اور اپنی تحریروں میں آپ ہمیں حالات حاضرہ سے بھی روشناس کرواتے تھے. اس کے ساتھ ساتھ، ختم نبوت کے عقیدہ کو نوجوان نسل میں واضح کرنے کا جو کام آپ نے کیا وہ آپ کے لئے تا قیامت صدقہ جاریہ رہے گا۔ اسلام کے بنیادی عقائد بشمول عقیدہ توحید کے بارے میں، ہم آپ کے ناولز کے آخر میں دیئے گئے اوراق سے استفادہ کرتے۔
آپ کے ناولز کی طرح ہمدرد کا نونہال بھی ہم باقاعدگی سے پڑھتے تھے، آپ کی کہانیاں اس میں شائع ہونے لگیں بلکہ ماضی قریب سے تو آپ ہر ماہ ایک کہانی اس میں لکھ رہے تھے۔ آج جب ہمارے بچے نونہال پڑھتے ہیں تو آپ کی کہانی دیکھ کر ہم انھیں آپ کے بارے میں بتاتے ہیں۔
ابھی پچھلے ماہ صاحبزادی اپنے اسکول کی لائیبریری سے آپ کا ایک ناول پہلی بار پڑھنے کو لائیں تو ہم نے انھیں آپکے تخلیق کردہ کرداروں کے بارے میں بتایا۔ اس پرصاحبزادے بھی آپ کے ناول پڑھنے پر کمر بستہ ہو گئے۔ مگر ابھی وہ محض دس برس کے ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ وہ کے ناولز کی روانی کا ساتھ نہیں دے پائیں گے۔ صاحبزادی جو کہ بارہ برس کی ہیں ، نے خوب سمجھ کر آپ کے ناولز پڑھنا شروع کردیئے ہیں۔ حالیہ منعقد ہونے والے کتب میلے سے ہم نے انھیں  آپ کے ناولز خرید کر دیئے اور آج کل وہ انھیں پڑھ رہی ہیں۔ ان کے پڑھنے سے پہلے ہم نے انھیں پڑھا، ناول گو کہ پرانے تھے اور ہمارے زیرِ مطالعہ رہ چکے تھے مگر دوبارہ پڑھ کر بھی ہم بور نہیں ہوئے, ان سطور کے منظر عام پر آنے تک ہماری اولاد متذکرہ ناولز پڑھ چکی ہے۔
انکل آپ اب ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں انسان کے اعمال ہی اسکے کام آتے ہیں ہمیں یقین ہے کہ اللہ آپ کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں پکڑائے گا، کیونکہ آپ نے اپنے قلم کے ذریعہ ہم لوگوں میں خوشیاں بانٹیں ہیں اور ہمیشہ اصلاحی ادب لکھا ہے۔ ملکِ خداداد کے حاکم بھلے ہی آپ کو کسی اعزاز سے نہ نوازیں آپ کے قاریئن کی کثیر تعداد آپ کے حق میں سدا دعا گو رہے گی۔
اللہ آپ کے درجات کو بلند فرماکر ،جنت کے اعلٰی درجے میں جگہ عطا فرمائے، آمین۔
فقط
 آپکی تحاریر کا ایک قاری 

Thursday, July 16, 2015

چندا رے چندا-۳

اس موضوع پرگذشتہ دو بلاگز، اول اور دوم میں ہم ہلکے پھلکے انداز میں اظہارِ خیال کر چکے ہیں۔ اب کی بار چاند کے آج کے ڈیٹا کا ذکر کرتے ہیں۔ آج پاکستان میں سرکاری طور پر ۲۸ رمضان المبارک ۱۴۳۶ ہجری ہے اور وطن میں چند ایک مقامات پر رمضان کی ۲۹ تاریخ ہے۔

سائنسی اعتبار سے نئے چاند کی پیدائش آج بروز جمعرات پاکستانی معیاری وقت کے مطابق صبح چھ بجکر چوبیس منٹ پر ہے، لہٰذا آج جب وطن کے مختلف علاقوں میں مغرب کا وقت ہو گا تو چاند کی عمر کم و بیش ساڑھے بارہ یا تیرہ گھنٹے ہو گی۔ مزید یہ کہ پاکستان میں بیشتر مقامات پر آج جب سورج غروب ہو گا اس وقت چاند ڈوب چکا ہوگا، یعنی افق سے نیچے جا چکا ہوگا۔ اس حقیقت کی روشنی میں سائنسی لحاظ سے آج پاکستان میں کسی بھی مقام پر چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں۔ یہاں تک کہ کوئی طاقتور دوربین بھی چاند کو نہیں دیکھ سکتی کیونکہ وہ افق پر ہو گا ہی نہیں۔

عرب ممالک بشمول سعودی عرب والوں کے اگر آج چاند کا اعلان کرتے ہیں تو وہ نئے چاند کی وجہ سے تو درست مانا جا سکتا ہے مگررویت ہلال کے لحاظ سے قطعی طور پر اپنی سائنسی حیثیت نہیں رکھتا۔

 برِاعظم ایشیا، یورپ اور آسٹریلیا کے تمام ممالک میں بھی مندرجہ بالا صورتِ حال ہے۔ آسٹریلیا میں کیونکہ موسمِ سرما ہے اس لئے وہاں آجکل مغرب شام پانچ ،ساڑھے پانچ بجے ہی ہو جاتی ہے۔ اگر ہم سڈنی کی مثال لیں تو آج وہاں غروبِ آفتاب شام پانچ بجکر چار منٹ پر ہے اور اس وقت چاند کی عمر مشکل سے چھ گھنٹے ہو گی جو کسی بھی طورپررویت کے قابل نہیں۔

اس ساری تفصیل کا مقصد ہے کہ ہم اپنی عقل کو کام میں لائیں اور میڈیا، مولوی حضرات اور محکمہ موسمیات کو الزام دینے کے بجائے چاند کی سائنس پر تھوڑا سا غور کر لیں تو بنا کسی الجھن کا شکار ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ مولویوں نے روزہ کھایا ہے یا نہیں، کیونکہ ہم سہل پسندی میں اس قسم کے بیانات داغنے سے قطعی طور پا باز نہیں آتے۔

احباب کی ایک محفل میں ایک دوست فرمانے لگے کہ اگر کوئی رمضان کا چاند خود دیکھے تو اس کا روزہ رکھنا بنتا ہے، یعنی اسے ماہِ صیام کا آغاز کرنا چاہیئے۔ ہم کہیں گے کہ با لکل اسے رمضان کا آغار کرنا چاہیئے مگر اس بات کا یقین کر لے کہ واقعی اس دن چاند نظر آنے کا فلکیاتی ڈیٹا موجود تھا یا نہیں۔ اگر علمِ فلکیات کہتا ہے کہ اس دن غروبِ آفتاب سے پہلے ہی مہتاب غروب ہو چکا تھا تو پھر اللہ اللہ خیر سلا۔

فیس بک کے جہادی بھی بڑھ چڑھ کر چاند پر بحث میں حصہ لیتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ انھیں چاند کے بارے میں اتنی ہی معلومات ہوتی ہے جتنی ماریا شیراپووا کو ٹنڈولکر کے بارے میں ہے-

محترم انور مسعود نے اہلِ ہمت کا مریخ کی جانب بڑھنے کا تذکرہ کیا تھا، تا دمِ تحریر پلوٹو کی تازہ اور قریب ترین تصاویر آچکی ہیں اور ہم چاند دکھائی دینے اورنظرنہ آنے پر بحث میں مصروف ہیں کیونکہ ہم اُلٹے سیدھےچکروں میں پڑ کر اپنے اصل سے ناتا توڑ چکے ہیں اسی لئے،

ع  ثریّا سے زمیں پہ آسماں نے ہم کو دے مارا

Saturday, May 23, 2015

چینی شہرِ بہاراں کا حال

مارچ ۲۰۱۵ کے آخری ایام کی ایک سہ پہر تین بجے کے لگ بھگ ہم چین کے پھولوں کے شہر کُنمنگ کے مرکز میں واقع  ہوٹل کراون پلازہ کی سولہویں منزل کے کمرہ نمبر سترہ میں داخل ہو رہے تھے۔ اب کی بار ہم کراچی سے براستہ کولمبو، کُنمنگ پہنچے تھے۔ ہمارا ارادہ لنکا ڈھانے کا نہیں تھا بلکہ سری لنکا کی ہوائی کمپنی والے ہمیں ڈھونے پر معمور تھے۔ یہ سفر  طیارے  کی کولمبو سے روانگی میں تاخیر کے باعث خاصی تھکا وٹ والا ثابت ہوا۔ اور ہم نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں کے مصداق پوری رات بندرانائکے کے ہوائی اڈے پرگزارا کئے۔
خدا خدا کر کے چھے گھنٹوں کی تاخیر کے بعد ہم فجر میں چھے بجے کولمبو سے روانہ ہوئے اور قریبا سات گھنٹوں کی تاخیر سے دوپہر دو بجے کُنمنگ کے چھوٹے سے بین الاقوامی ہوائی  اڈے پر اُترے۔ ہوائی اڈے پر ہمیں لینے کے لئے ہمارے میزبانوں کی جانب سےٹیکسی موجود تھی جس نے ہمیں ہوٹل پہنچادیا۔
چین کا یہ ہمارا چوتھا سفر تھا، گذشتہ تین دوروں میں ہم بیجنگ ہی آتے رہے تھے مگر اب کی بار چین کے جنوب مشرق میں میانمار کی سرحد سے متصل صوبہ یُنّان کا دارالحکومت ہماری منزل تھا۔ جسے بجا طور پر پھولوں کا شہر یا شہرِ بہاراں کہتے ہیں۔ سال کےبارہ مہینے یہاں بارش ہوتی ہے یا درجہ حرارت اعتدال پر رہتا ہے۔ گو کہ اس شہر کا خطِ استوا سے شمال کی جانب اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا ہمارے کراچی کا مگر ساحلِ سمندر نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کراچی کی طرح بہار اور خزاں والی تپش نہیں ہوتی۔
ہوٹل والوں کے طعام کے اوقات چینی قسم کے تھے، ناشتہ سات تا ساڑھے دس تک ہوتا تھا، ظہرانہ ساڑھے بارہ سے اڑھائی بجے تک اور عشائیہ کا وقت عصر کے وقت کے کچھ دیر بعد شروع ہو کر عشاء پر ختم ہو جاتا تھا۔ ان دنوں وہاں غروبِ آفتاب سات بیس کے لگ بھگ ہوتا تھا۔سو تین بجے ہوٹل پہنچنے والے کو کھانے کے لئے ساڑھے چھے بجے تک کا انتظار کرنا پڑا۔ ہم نے ان تین گھنٹوں میں اپنا حلیہ درست کیا اور کچھ سستا لئے۔ کھانے کے لئے ڈائننگ ہال میں گئے تو دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے مندوبین سے بھی ملاقات ہوئی۔ اب کھانے میں سے حرام طعام کو الگ کرنے کا ایک بڑا چیلنج ہمارے سامنے تھا۔ ہم نے ایک پیالی چاول اُبالنے کا آرڈر دیا اور مچھلی کا ایک بڑا قتلہ بھی تلوا لیا۔ پھل، سبزیوں کی سلاد اور ابلے ہوئے چنوں کی چاٹ بھی خود ہی بنا ڈالی اور سیر ہو کر کھایا۔ مغرب ادا کی اور لمبی تان کر سو گئے، عشاء رات کے آخری پہر میں آنکھ کھلنے پر پڑھی۔
اگلے دن فجر میں بیدار ہوئے اور نماز کے بعد تیار ہو کر سات بجے ہی ناشتہ کے لئے چلے گئے۔
ناشتہ کے بعدمیٹنگ تھی، کہ جس میں ہم پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔ پاکستان اور چین کی دوستی ہمیں جہاں دیگر شعبہ جاتِ زندگی میں نظر آتی ہے وہیں سائنس کا میدان بھی اس سے خالی نہیں۔ چین نے ایشیا اور بحرالکاہل کے ممالک پر مشتمل مشترکہ سائنسی منصوبوں کی ایک تنظیم بنام ایپسکو  بنا رکھی ہے، پاکستان اس کا سرگرم رکن ہے۔ اس تنظیم میں خلائی سائنس کے کافی منصوبے شامل ہیں۔ دیگر ارکان میں تھائی لینڈ، پیرو، بنگلہ دیش، ترکی، منگولیا اور ایران شامل ہیں۔ہم اب تک جتنی دفعہ بھی چین گئے، اسی تنظیم میں پاکستان کی نمائندگی کی خاطر گئے اور ہر بار تنظیم  کے خرچہ پر گئے، گویا چینی  ہمارے میزبان رہے۔
چینی مندوبین کی پریزنٹیشن کے بعد ہمیں لب کشائی کے لئے کہا گیا۔ ہم نے قریبا آدھ گھنٹہ اپنے خیالات کا ظہار کیا جو کہ ایجنڈے کا حصہ نہ تھا یعنی فی البدیہہ تھا، مگر ہم ذہنی طور پر اس کے لئے تیار تھے۔ ہمارے تاثرات اور بیان کردہ سائنسی حقائق کو خاصا سراہا گیا، کیونکہ یہ اس منصوبہ سے حاصل کردہ ڈیٹا سے متعلق تفصیلات تھیں جو ہم نے پاکستان میں چینی انسٹرومنٹ سے لی تھیں اور کسی میٹنگ یا کانفرنس میں پہلی بار پیش کی جا رہی تھیں۔
ظہرانہ میزبانوں کی جانب سے ہی کراون پلازہ کی اُسی چوتھی منزل پرتھا جس پر میٹنگ منقعد کی جا رہی تھی۔ یہاں دو کرداروں کا تعارف ضروری ہے، مسٹر اینڈ مسسز چودھری۔ چودھری صاحب پاک فوج کے ریٹائر بریگیڈیئرہیں  اورملک کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک بھی  اعلٰی فوجی اور انتطامی عہدوں پر تعینات رہ چکے ہیں، ایپسکو میں بھی اہم منصب پر فائز ہیں۔ ان کی خاتونِ اول پڑھی لکھی چودھرائن ہیں اور دونوں کی کیمسٹری بڑے مزے کی ہے۔
میٹنگ کے پہلے روز ظہرانہ کے دوران ہمیں اُن میاں بیوی کی پہلی نوک جھونک ملاحظہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ مسسز چوھدری کو اس بات پر اعتراض تھا کہ ان چینی میزبانوں نے حلال طعام کا اہتمام الگ سے کیوں نہیں کیا جبکہ چوھدری صاحب انھیں سمجھا رہے تھے کہ بی بی ایسا نہیں ہوتا، جب آپ روم میں ہوتے ہیں تو رومیوں جیسا برتاو کرنا پڑتا ہے۔ تمہیں پھل سبزی کھانے پڑ رہے ہیں تو ایک وقت کھا لو، عشائیہ پر اپنی پسند سے کچھ منگوا لینا۔خیر مسسز چوھدری چاروناچار سبزیاں زہر مار کرتی رہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ توری کی ایک دش محض ابلی ہونے کے باوجود ہمیں بڑے مزے کی لگی، اس بات کا اظہار جب ہم نے مسسز چوھدری سے کیا تو فرمانے لگیں کہ آپ کو بھوک لگی ہے تبھی آپ مزے لے لے کر کھا رہے ہیں، ورنہ گھر میں تو چوھدری صاحب کا یہ حال ہے کہ توری کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے ، یہ بات سن کے چوھدری صاحب نے اپنا ہاتھ توریوں کے ڈونگے کی جانب بڑھایا۔
ظہرانے اور نماز کے بعد دوبارہ میٹنگ کا آغاز ہوا اور سہ پہر کے بعد ہم اس دن کی کاروائی سے فارغ ہوئے۔ شام میں ہم مٹر گشست کے لئے باہر نکل گئے۔ بہار اپنے پورے شباب پر تھی اور دھوپ کے ساتھ ساتھ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے فضا کو خوشگوار بنا رہے تھے۔ہم  ہوٹل سے نکل کر دائیں ہاتھ کی سڑک پر دریا کے متوازی سیدھے چلتے رہے۔ ہمارا ہوٹل دریا کے کنارے تھا، اب دریا سے پہلا خیال یہ آتا ہے کہ اباسین نہ سہی کوئی راوی یا چناب جیسا دریا ہوگا تو قارئین اس مغالطہ میں نہ رہیں  اس دریا کی حالت ہمارے ہاں کی نہروں سے بھی گئی گزری تھی۔ ایک برساتی نالے کو چینی دریا کہنے پر بضد تھے۔
ہم ناک کی سیدھ میں چلتے رہے اور سڑک کنارے دوکانوں سے ونڈو شاپنگ کرتے کرتے ایک چوک سے بائیں جانب مڑے۔ اس دوران اشیاء کی قیمتیں دیکھ کر ہمیں سڈنی یاد آ گیا، کیونکہ ایک مناسب سی شرٹ کی قیمت پاکستانی روپوں میں اتنی تھی کہ کراچی میں ہم اتنی قیمت میں تین اچھے برانڈ کی شرٹس خرید سکتے تھے ۔ اگلے بازار میں بھی یہی حال تھا اور جتنی اشیاء حجم میں چھوٹی ہوتی جا رہی تھیں اتنا ہی انکی قیمت بڑھتی جا رہی تھی۔ یہاں تک کہ ہم نے ایک دوکان سے خشک میوہ جات کی قیمت معلوم کی تو وہ بھی ایمپریس مارکیٹ سے زیادہ تھی۔ یہ شہر قیمتوں کے معاملہ میں بیجنگ کو بھی مات دے گیا تھا۔ جس طرح کراچی ایک غریب پرور شہر ہے اسی طرح چین میں بیجنگ کا بازار بھی تمام چینییوں کی قوتِ خرید کے اندر آتا ہے، مگر کنمنگ آکر ہمیں ایسا لگا کہ ہم ایک دم زینب مارکیٹ سے کلفٹن کے ڈالمن مال میں آ گئے ہوں کہ وہی اشیاء برانڈز کے نام پر مہنگے داموں بک رہی ہیں۔ ہمارے ملک میں آپ لان کو ہی لے لیں کہ جو سوٹ چار ہندسوں میں تمام لوازمات سمیت  با آسانی تیار ہو جاتا تھا ، اب اس کی قیمت پانچ ہندسوں سے شروع ہوتی ہے اور وہ بھی محض کپڑے کی، اس پر مزید یہ کہ اگر آپ چار لوگوں میں بیٹھیں ہوں اور کوئی اچانک پوچھ لے کہ یہ سوٹ کہاں سے لیا تو کسی برانڈ کا نام نہ لینے پر بڑی سبکی ہوتی ہے۔
کنمنگ کے بازار میں راوی چین ہی چین لکھتا تھا، متوقع ، نئے اور پرانے جوڑے ہر طرح کی خریداری میں مصروف تھے، چند ایک اپنے بچوں کے ہمراہ مچھلیوں کے سرِ راہ بنے تالابوں کے کنارے بیٹھے تھے اور کچھ کھانے پینے کے ڈھابوں اور کھوکھوں سے اپنی زبانوں اور معدوں کو تقویت پہنچا رہے تھے اور بقول انشاء،  ہم بھی وہیں موجود تھے۔
آوارہ گردی کے بعد ہوٹل پہنچے تو عصر کا وقت ہو چکا تھا، نماز کے فورا بعداستقبالی  عشائیہ تھا سو دوپہر والے ہال میں پہنچے جہاں بڑی سی گول گھومنے والے میز کے گرد پھر سے تشریف فرما ہوئے۔ اب کی بار مسسز چوھدری کی فرمائش پر چند ایک ڈشز مچھلی، جھینگے اور چاول  پر مشتمل تھیں، جن میں سب سے زیادہ چٹخارے اور مزیدار جھینگے تھے۔ ہم اب تک کے چین کے دوروں کی بدولت چینی لکڑیوں یعنی چاپ اسکٹس سے کھانے میں مہارت حاصل کر چکے ہیں اور مٹر، مونگ پھلی اور چنے تک ان لکڑیوں سے کھا سکتے ہیں۔ اس کا مزیدعملی مظاہرہ ہم نے جھینگوں کو اسٹکس کی مدد سے اٹھا کر کیا اس پر ہمارے چینی میزبان نے ہمیں داد دی،جبکہ مسسز چوھدری جھینگا کانٹے میں پروے چبا رہی تھیں۔
عشائیہ کے ساتھ ہی ہمارا دن اختتام پذیر ہوا اور ہم نے اپنے کمرے میں سکونت اختیار کی۔
اگلے دن  کا آغاز بھی گذشتہ روز کی طرح ہوا ، میٹنگ کا اختتام ظہرانہ پر ہی کر دیا گیا، گویا بقیہ پورا دن ہم آزاد تھے، سو ہم نے اپنے میزبانوں سے الیکٹرانک مارکیٹ کا پتہ لکھوایا اور ان کی ہدایت کے مطابق ہوٹل سے باہر لبِ ِسڑک ٹیکسی کا انتظار کرنے لگے۔ اس شہر میں ٹیکسی ملنا دشوار ہے۔ ایک کار والے نے ہمیں محوِ انتظار دیکھ کر اپنی گاڑی روکی اور پوچھا کہ کہاں جانا ہے، ظاہر ہے کہ اشاروں کی زبان کام میں لانا کچھ مشکل نہیں تو ہم نے مارکیٹ کا چینی زبان میں لکھا پتہ اس کے بوتھے کے سامنے کر دیا۔ اس پر اس نے کرایہ بتایا اور ہم نے اس سے بھاو تاو کیا، کیونکہ ہم چین میں پہلی بار نہیں آئے تھے اور جانتے تھے کہ یہاں بھی وطن کی طرح دام کم کروائے جا سکتے ہیں، اگر ٹیکسی ہوتی تو اس میں لازمی طور پر میٹر ہوتا اور کرایہ طے کرنے کی نوبت نہ آتی۔ تھوڑی سی بات چیت کے بعد ہم اس گاڑی میں اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھے۔ قریبا بیس منٹ کے سفر کے بعد کار والے نے ہمیں مارکیٹ پر اتارا اور کہنے لگا کہ اگر ہم چاہیں تو وہ ہمارا انتظار کر سکتا ہے، مگر ہم نے کرایہ ادا کر کے اسے 'شے شے' کہا اور ایک دوکان کی جانب قدم بڑھا دیئے۔ بیجنگ کی الیکٹرانک مارکیٹ کے سامنے کنمنگ کی اس مارکیٹ کی حیثیت ایسی ہی تھی جیسے آپ بولٹن مارکیٹ کا مقابلہ ایک کریانہ کی دوکان سے کریں۔ مگر پھر بھی یہاں کمپیوٹر  اور الیکٹرانک کی دیگر اشیاء ان کے لوازمات سمیت دستیاب تھیں۔ ہم نے اپنی مطلوبہ اشیا با آسانی خرید لیں اور ایک دوکان والے سے پوچھا کہ الیکٹرانک ڈکشنری کہاں سے ملے گی۔اس نے ہمیں بتایا کہ ہمیں  کتابوں کی دوکان پر جانا پڑے گا، ہم نے اسے سمجھایا کہ ہم کتاب نہیں خریدنا چاہتے بلکہ ڈیجیٹل ڈکشنری تلاش کر رہے ہیں۔ یہ گفتگو انگریزی میں ہو رہی تھی کیونکہ دوکان والے کو تھوڑی بہت انگریزی آتی تھی اور جو نہیں آتی تھی تو وہ ہمیں انٹرنیٹ پر ٹائپ کرنے کو کہتا اور ہمارے جملہ کا چینی ترجمہ کر کے پڑھ لیتا۔اسی پر ہم نے اسے اپنی مطلوبہ چیز کی تصویر بھی انٹرنیٹ پر دکھا دی، لہٰذا شک دور ہو گیا کہ ہم کیا ڈھونڈ رہے ہیں۔ اس پر اس نے ہمیں دوکان کا نام لکھ دیا اور کہا کہ آپ ٹیکسی میں چلے جائیں ہم نے جواب دیا کہ بھائی ٹیکسی ملتی کہاں ہے  تم ہمیں بس کا نمبر اور اسٹاپ کا نام لکھ دو آگے ہم جانیں اور ہمارا کام۔ اس سے بس کا نمبر اور منزل کا پتہ لکھوا کر ہم نے اسکا شکریہ ادا کیا اور بس اسٹاپ پہنچ گئے جو مارکیٹ میں ہی تھا۔ ایک دو منزلہ بس میں سوار ہوئے اور ڈرائیور کو پتہ دکھایا اس نے اثبات میں سر ہلایا اورٹکٹ خریدنے کا کہا، ہم نے ٹکٹ خریدا اور ایک نشست پر جا بیٹھے۔ اگلے اسٹاپ سے کالج کی چند لڑکیاں بس میں سوار ہوئیں، ان میں سے ایک قدرے یورپی لگی ہم نے اس سے پتہ دکھا کر پوچھا کہ یہ اسٹاپ کب آئے گا۔ وہ بھِی چینی ہی نکلی، مگر ہمارا سوال اسے سمجھ آگیا تھا لیکن جواب دینا اس کے لئے مشکل ہوگیا۔ اللہ بھلا کرے موبائل بنانے والوں کا کہ اب اس میں پورا جہان سما جاتا ہے، تو اس دوشیزہ نے انگریزی میں لفظ ٹرمینل لکھ کر موبائل ہمیں دکھا دیا، گویا ہمیں اس بس کے انتہائی اسٹاپ پر اترنا تھا۔
مزہ اس وقت آیا جب ڈرائیور نے ہمیں  اترنے کا اشارہ کیا کہ آخری اسٹاپ آگیاہے۔ بس سے اتر کر دیکھتے ہیں تو وہی کل والی جگہ تھی کہ جہاں ہم سبھی دیکھا کئے تھے۔ پتہ ایک دوکان والی حسینہ کو دکھایا جسے انگریزی آتی تھی، تو بولی کہ آپکی دوائے دل بیچنے والی دوکان بڑھ چکی ہے۔ہم نے اس سے پوچھا کہ کوئی اور دوکان کا پتہ بتلا دو، تو کہنے لگی کہ انگریزی ذرا ٹھہر ٹھہر کر بولیں، ہم نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر پوچھا تو اس نے ایک اور دوکان کا پتہ دیومالائی زبان میں لکھ کر دے دیا۔یہاں بھی ٹیکسی کا مشورہ دیا گیا۔ مگر ٹیکسی ملنا دشوار تھا۔ ایک آدھ ٹیکسی والا ملا بھی تو وہ پہلے سے کسی سواری کے ساتھ منسلک تھا۔ اسٹاپ پر بیٹری سے چلنے والی بے شمار سائیکلز موجود تھیں جو مرد و زن یکساں تعداد میں چلا رہے تھے۔ ہمیں اجنبی مسافر جان کر ایک سائیکل والا پوچھنے لگا کہ کہاں جانا ہے، ہم نے پتہ دکھلایا تو کہنے لگا کہ میں لے چلوں گا ہم نے اُسےپاکستان اور فرینڈ کا واستہ دے کر کرایہ کم کرنے کو کہا  تو وہ ہمیں کہنے لگا 'آجا وے بے جا سیکل تے' ۔ جب ہم مطلوبہ پتہ پر پہنچے تو وہاں  بھی دوکان بند ہو چکی تھی۔ جی میں آئی کہ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے۔ معلوم ہوا کی پانچ  بج چکے ہیں لہٰذا دوکانیں تو بند ہونی ہیں۔ ہم نے کہا کہ یہ کیسا شہر ہے جہاں دن کی روشنی میں ہی دوکانیں بند کر دی جاتی ہیں۔ وطن میں تو رات گئے تک بازار کھلے رہتے ہیں چاہے حکومت لاکھ کوشش کرے کہ مغرب کے وقت کاروبار بند کر دیا جائے تاکہ بجلی کا بحران کسی حد تک حل ہو سکے مگر ہم ٹس ے مس نہیں ہوتے۔
رات میں عشائیہ پر ہماری ملاقات جارج نامی ایک سراندیپی سے ہوئی، انھوں نے اپنا تعارف سری لنکا کے کیبن کریو کے طور پر کرایا ۔ اتفاق سے ہماری روانگی ان کے ساتھ انھی کی پرواز میں تھی، اس پر ہماری ان سے دوستی ہو گئی اور ہم نے انھیں اپنے کمرے میں آنے کی دعوت دی جو انھوں نے خوشدلی سے قبول کر لی۔ ان سے کمرے میں دنیا کے مختلف موضوعات پر گفتگو رہی۔ ہم نے ان کی تواضع پیک فرینز کے بسکٹس اور چینی سبز چائے سے کی۔ انھوں نے ہم سے گفتگو کے دوران ہی ہمیں ٹوکا کہ کہیں ہم استاد تو نہیں رہے یا ہیں؟ یہ اندازہ انھوں نے ہمارے طرزِ گفتگو سے لگایا کہ ہم انکے بقول ہر بات کی جزیئات تفصیل سے بیان کر رہے تھے۔
اگلے دن ہم سات بجے ہی ڈائننگ ہال میں  ناشتہ کے لئے موجود تھے کیونکہ پونے آٹھ بجے ہمیں کنمنگ کے مضافات میں اپنے میزبانوں اور دیگر مندوبین کے ساتھ معلوماتی دورے پر جانا تھا۔یہ مقام انتظامی طور پر تو کنمنگ میں ہی شمار ہوتا تھا مگر اس کا فاصلہ شہر سے براستہ سڑک ڈیڑھ دو گھنٹوں پر مشتمل تھا۔یہ ایک وادی نما مقام تھا جو آبادی سے کافی ہٹ کے تھالیکن سائنسی اعتبار سے یہاں دنیا کے بہترین انسرٹومنٹس اور ریڈار لگائے گئے ہیں جو کرہ ہوائی اور بالا فضائی تحقیقات میں کام آتے ہیں، یوں یہ ہمارے مطلب کی جگہ تھی جہاں صحیح معنوں میں ریڈیوسائنس کی جا رہی تھی۔ ہم دوپہر تک یہاں رہے اور کنمنگ واپس آتے ہوئےایک قریبی قصبہ میں پیزا ہٹ پر ظہرانہ کے لئے رکے۔ سہ پہر تک ہم کنمنگ کے ہوائی اڈے پر تھے کیونکہ چند مندوبین کی واپسی کی پروازوں کا وقت قریب تھا۔ وہاں  سے ہمارے میزبان بقیہ افراد کو کنمنگ کی ایک بڑی جھیل دکھانے لے گئے، جس میں جہازرانی کے ساتھ ساتھ ایک ڈیم بھی بنا ہوا ہے۔
جھیل کا پانی صاف تھا  اور کنارا شمالا جنوبا تھا، کراچی کے لحاظ سے بات کریں تو ایسا لگ رہا تھا کہ ہم سی ویو پر آفتاب کے غروب سے گھنٹہ دو گھنٹہ پہلے موجود ہیں کیونکہ سورج اور پانی کا محل وقوع سی ویو جیسا ہی لگ رہا تھا۔ لیکن اس ترتیب کے باوجود جو واضح فرق تھا وہ وہاں پر صفائی کا انتظام تھا۔ جھیل کاکنارا پختہ تھا جس پر ایک اونچی روش بچھائی گئی تھی۔ اس روش پر مختلف ٹائلز کی مدد سے ڈیزائن اور تصاویر کندہ کی ہوئی تھیں۔
ہم وہاں کچھ دیر چہل قدمی کرتے رہے اور شام ڈھلنے کے قریب ہوٹل روانہ ہوئے۔ آج کنمنگ میں ہماری آخری شام تھی، کیونکہ ہمارا جہاز رات کے دو بجے روانہ ہونا تھا۔ ہوٹل میں آخری عشائیہ سے پیشتر ہی ہم اپنا زادِ راہ باندھ چکے تھے۔  عشائیہ پر منگولیا اور تھائی لینڈ کے مندوبین سے ملاقات ہوئی اور اسلام پر گفتگو ہوتی رہی۔ شراب کی حرمت اور دیگر احکامات کے بارے میں ہم سے سوالات پوچھے گئے ، مذہب کو منطق سے سمجھنا یا سمجھانا بعض اوقات مشکل ہو جاتا ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ جیسا عظیم سائنسدان خدا کے وجود سے انکاری ہے لیکن دوسری طرف مغربی دنیا، اسلام  کے خوف میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی طرف تیزی سے راغب بھی ہو رہی ہے۔ ہم نے حتی المقدور اور اپنی ناقص معلومات کی روشنی میں انھیں تسلی بخش جوابات دیئے۔ کسی حد تک مناظرہ کی تربیت ہمیں اپنے آسٹریلیا کے آنجہانی استاد محترم کے ساتھ دو برس گزارنے پر ہو چکی تھی سو وہ کام آئی، منگول مندوب کو تو ہم نے چنگیز خان کا ذکر کر کے چپ کرادیا اور تھائی مندوب ویسےہی شریف آدمی تھے آسانی سے قائل ہو گئے۔
یہ رات کیونکہ سفر کی رات تھی لہٰذاسونے کا تو سوال نہیں تھا اور ویسے بھی گیارہ بجے ٹیکسی نے ہمیں ہوٹل سے ہوائی اڈے لے جانا تھا۔ مقررہ وقت پر ہوٹل چھوڑا اور ٹیکسی سے ہوائی اڈے کو روانہ ہوئے، دو گھنٹوں بعد کاونٹر کھلا، بورڈنگ پاس تو دے دیئے گئے ساتھ ہی معلوم ہوا کہ جہاز تاخیر سے روانہ ہوگا - ہوائی کمپنی والے تمام مسافروں کو  دو بسوں میں لاد کر واپس کنمنگ میں ایک ہوٹل لے گئے۔ یعنی ابھی کنمنگ میں ہمارامزید  آب و دانہ لکھا تھا۔ ہوائی کمپنی نے ہمیں ناشتے کے ڈبے دیئے اور رات کے تین بجے ایک مقامی ہوٹل کی پانچویں منزل پر واقع ایک کمرے میں خوابِ خرگوش کے مزے لینے کے لئے چھوڑ دیا۔ فجر میں ٹیلیفون پر خودکار الارم کے ذریعہ بیدار کیا گیا اور قریبا چھے بجے دوبارہ کنمنگ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچا دیا گیا۔ سات بجے جہاز میں جانے کی اجازت ملی۔ جہاز میں پہنچتے ہی جارج سے ملاقات ہوئی جو پیشہ ورانہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے ہمارا استقبال کرنے لگے اور تاخیر پر نہایت شرمندہ ہوئے۔ انھیں رات بارہ بجے ہی جہاز کی روانگی میں  تاخیر کا پتہ چل گیا تھا مگر اسوقت تک ہم ہوٹل سے نکل چکے تھے لہٰذا  اُن کا ہم سے رابطہ نہ ہو سکا ورنہ ان کے بقول وہ ہمیں اس تاخیر کی پیشگی اطلاع دے دیتے۔
دورانِ پرواز انھوں نے ہمارا خاص خیال رکھا اور ہمیں اکانومی میں ان کی بدولت بزنس کلاس جیسی سہولیات میسر آئیں۔ کنمنگ میں لوگوں کی آسودگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس چھوٹے سے جہاز میں اکانومی تقریبا خالی تھی اور بزنس کلاس کی تمام نشستیں پُرتھیں۔کولمبو پہنچ کر اگلی پرواز کے لئے انتظار گاہ میں چلے گئے ۔ اس میں بھی کچھ تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاز مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ مسافروں میں کثیر تعداد میمن کاروباری حضرات و خواتین کی تھی جو اپنے ساتھ فی کس چار چار ڈبوں سے کم سامان نہیں لا رہے تھے۔
جہاز سے نکلتے ہی ہمارا ستقبال کراچی کی مرطوب ہوا  نے کیا اور یوں ہمارا یہ سفر تمام ہوا۔
جھلکیاں:
کولمبو کے ہوائی اڈا پر گوتم بدھ کا ایک بہت بڑا مجسمہ موجود ہے جس کی طرف پیٹھ کر کے تصویر کھنچوانا منع ہے-
کنمنگ کے سفر میں کولمبو پر تاخیر کی وجہ سے ہمیں اضافی عشائیہ دیا گیا، جس میں سب کچھ حلال تھا، ہوائی کمپنی کا ملازم جو کہ سنہالی تھا فر فر اردو بول  رہا تھا۔
ہوائی اڈے پر مسلمانوں کے لئے باقاعدہ مصلہ کا اہتمام ہے۔
کنمنگ میں آپ بس کا سفر فقط ایک یوان میں کر سکتے ہیں۔
ہم کنمنگ میں پتہ پوچھنے کے لئے لکھا ہوا پرچہ لوگوں کو اکثر الٹا دکھاتےرہے –
چینی حکومت  انٹرنیٹ کو چھان کر عوام تک پہنچاتی ہے۔ گوگل کی کوئی بھی سہولت چین میں نا پید ہے، اسی طرح فیس بک سمیت دیگر سوشل ویب سائٹس بھی دستیاب نہیں۔ آپ کچھ بھی کریں کوئی بھی پراکسی سیٹنگ کرلیں چینی آپ کو اس سائٹس تک نہیں پہنچے دیں گے۔

ختم شُد

Sunday, January 18, 2015

تعزیتِ استادِ محترم

گذشتہ ہفتہ جامعہ این ایس ڈبلیو سے  برقی پیغام موصول ہوا کہ ہمارے استادِ محترم ڈاکٹر رابرٹ جان اسٹیننگ دنیا میں نہیں رہے۔ اس افسوس ناک خبر پر ان کی سر پرستی میں بسر کئے دو برس  آنکھوں کے سامنے ایک فلم رول کی طرح چلنے لگے۔ ان دو برسوں میں بارہا ایسے مواقع آئے کہ ہم  اُنکی علمیت اور قابلیت کے قائل ہوئے۔ حالاتِ حاضرہ ہوں یا تاریخی واقعات ، گھریلو معاملات ہوں یا  سائنسی موضوعات ، غرض  وہ دنیا جہان کے ہر موضوع پر بات کر سکتے تھے۔ ان کا سب سے پسندیدہ موضوع مذہب تھا۔ کٹر عیسائی اور مبلغ تھے جس کی بدولت دیگر مذاہب کی بھی بھرپور معلومات رکھتے تھے۔
انھوں نے اپنی پی ایچ ڈی کوئنر لینڈ، آسٹریلیا سے کی تھی اورویسٹ انڈیز میں درس و تدریس کی خدمات انجام دیتے رہے، کینیڈا میں بھی مقیم رہے اور شادی بھی وہیں کی۔ مسز کیرل ان کے ساتھ انکی مذہبی تبلیغ میں پیش پیش تھیں- دونوں میاں بیوی افریقہ کے غرباء میں دین کی تبلیغ کی خاطر انکے لئے کپڑے بھجواتے جو خاتونِ خانہ خود سیتی تھیں ۔ استادِ محترم ۶۴۵نامی ایک مقامی گرجا گھر سے وابستہ تھے، جسکا ذکر گذشتہ بلاگ میں کیا جا چکا ہے۔
جامعہ این ایس ڈبلیو سے کافی عرصہ وابستہ رہے اور ریٹائر ہونے کے بعد بھی وہیں مہمان استاد کے طور پر منسلک رہے۔ آئنو سفیرک فزکس کے ساتھ ساتھ مختلف مذاہب کے تقابلی مطالعہ پر مشتمل اختیاری مضمون آن لائن پڑھاتے تھے۔ جس میں انکے چند شاگرد مسلمان بھی ہوتے جو استادِ محترم کر اسلام کی تبلیغ کرتے۔ استادِ محترم یہ واقعات ہمیں تفصیل سے بتاتے۔
انکی ایک اور اہم ذمہ داری سائنسی تحقیقاتی مقالوں کی جانچ بھی تھی۔  وہ ناتجربہ کا ر محققین کی تکنیکی اور سائنسی غلطیاں ہمیں ماہرانہ انداز میں سناتے ۔
ہمیں اچھی طرح سے یاد ہے کہ ہماری سڈنی میں پہلا دن تھا اور ہماری استادِ محترم سے بھِی پہلی ملاقات تھی، دیگر ابتدائی اور بنیادی معلومات کے ساتھ ساتھ انھوں نے ہمیں دو برس بعد ہونے والی ایک سائنسی کانفرنس کے بارے میں بتایا اور فرمایا کہ ہمیں اس میں شرکت کرنا ہوگی۔ ان کی سفارش پر ہمیں جامعہ نہ اس کانفرنس میں سرکاری خرچ پر میلبورن بھجوایا۔
کانفرنس کی تیاری کے لئے جب ہم نے پریزینٹیشن بنائی تو استاد ِ محترم نے ہمیں اسکی ریہرسل بھی کرائی۔
ہم اُنکی دعوت پر دو بار ان کے گھر بھی حاضر ہوئے جس میں انھوں نے ہمیں اپنے دین کی تبلیغ بھی کی لیکن اللہ کے فضل و کرم سے ان کی تبلیغ کا ہم پر رتی برابر بھی اثر نہ ہوا۔ ایک بار تو ہم نے دورانِ گفتگو انھیں جتلا دیا کہ جس طرح وہ عیسائیت چھوڑ کر مسلمان ہونا پسند نہیں کریں گے اسی طرح ہم بھی ان کے ہاتھ آنے والے نہ تھے، بحث مزید بڑھی تو ہم نے کہا کہ آپ کی عیسائیت شخصیت پسندی سے ہوتی ہوئی شخصیت پرستی تک جا پہنچتی ہے، جبکہ اسلام میں خدا پرستی ہے بندہ پرستی قطعی نہیں ہے۔ ان سے مذہبی گفتگو کے دوران ہم دل ہی دل میں سورۃ الکافرون کی آیات دھرا رہے ہوتے تھے۔
وہ خون کا سرطان پال رہے تھے جو پچھتر برس کی عمر میں جان لیوا ثابت ہوا اورانکا جسدِ خاکی ،خاک میں جا ملا۔