Friday, October 23, 2020

فریدی سیریز پر تبصرہ

 ہمارا پچھلا بلاگ ابن صفی کی عمران سیریز پر تھا، اس بار ہم انکی فریدی سیریز پر بات کریں گے۔

ابن صفی اپنے ہر ناول کا دیباچہ پیشرس کے عنوان سے لکھا کرتے تھے۔ اپنے ابتدائی دور کے ایک پیشرس میں وہ لکھتے ہیں کہ ان کے زمانے میں زیادہ تر مصنفین اردو میں ریوایتی عشق و محبت کی داستانوں کو بیان کرتے تھے یا بازاری قسم کے گھٹیا ناولز عام تھے۔ گنتی کے لکھاری انگریزی یا دیگر زبانوں کے شاہکاروں کے تراجم کرتے تھے مگر سری یعنی جاسوسی ادب اردو میں ناپید تھا۔ ایک محفل میں انھیں کسی بزرگ ادیب نے یہ کہ کر ٹہوکا دیا کہ میاں جاسوسی ادب اردو میں صرف جنسی کہانیوں میں ہی ملتا ہے۔ 
ابن صفی نے اس بات کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا اور کمال احمد فریدی جیسا لازوال کردار تخلیق کر ڈالا۔ فریدی کہ جو شروع کے ناولز میں اپنے ارتقائی مراحل سے گزرتا ہے، اولا انسپکٹر فریدی کہلاتا ہے اور ترقی کر کے اعزازی طور پر کرنل بنا دیا جاتا ہے، چھوٹے موٹے مجرموں پر ہاتھ نہیں ڈالتا مگر ام اور ملک دشمنوں کو کہیں کا نہیں چھوڑتا۔ اعصابی جنگ ہو یا ہاتھ پیر چلانے ہوں، ہیلی کاپٹر اڑانا ہو یا پیرا شوٹ سے چھلانگ لگانا ہوں وہ ہر میدان میں اپنا لوہا منوایا نظر آتا ہے۔ سنگ ہی آرٹ کی بدولت گولیوں سے بچتا ہے تو میک اپ اور آواز بدلنے کے فنون کے باعث کوئی بھی روپ دھارنے کی مہارت رکھتا ہے۔ سانپوں کو پالتا ہے اور اپنی کوٹھی میں سانئنسی تجربہ گاہ بھی رکھتا ہے، مطالعہ میں غرق ہوتا ہے تو اپنے کتب خانہ میں گھنٹوں بسر کر لیتا ہے۔ ڈانس فلور پر ہوتا ہے تو دیسی بدیسی رقص کی تمام حرکات و سکنات انجام دے ڈالتا ہے۔ غرض انگریزی مقولہ یو آسک فار اٹ، وی ہیو اٹ کے مصداق کبھی بھی کچھ بھی کر سکتا ہے۔
اس کا ساتھی سارجنٹ ساجد حمید جو بعد میں کیپٹن حمید کے نام سے جانا جاتا تھا، کسی طور بھی کرنل فریدی سے کم نہیں۔ کرنل فریدی کو اپنے بڑے بھائی اور باپ کا درجہ دیتا ہے بلکہ پیار سے فادر ہارڈ اسٹون کہتا ہے۔ ہارڈ اسٹون اس وجہ سے کہ فریدی صنف مخالف سے جتنا دور بھاگتا ہے حمید اتنا ہی لڑکیوں میں مقبول ہے اور ان سے ہمہ وقت دوستی کا خواہاں رہتا ہے۔ مگر یہ دونوں کردار اپنی طبیعتوں میں تضادات کے باوجود ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ فریدی مجرموں کے لئے یقینا ہارڈ اسٹون ہے مگر حمید کو اگر ذرا سی بھی خراش آجائے تو ایک پر شفقت باپ اور زخم دینے والوں کے لئے بھوکا شیر بن جاتا ہے۔
ان دونوں میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ علی عمران کی طرح یہ دونوں بھی صنف مخالف پر بری نظر نہیں ڈالتے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک ناول میں کیپٹن حمید کو ایک کیس میں کسی لڑکی کے ساتھ میک اپ میں ایک ہی کمرے میں مجبورا رات گزارنا پڑتی ہے تو وہ نیند کی گولیاں کھا کر سو پڑتا ہے کہ رات میں کہیں اس سے کوئی اخلاق سے گری ہوئی حرکت نہ ہوجائے۔
ہمارے اس بلاگ کا مقصد فریدی اور حمید کے قصیدے بیان کرنا نہیں ہے بلکہ ہم ابن صفی کے قلم کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں کہ جس کی مدد سے انھوں نے نوجوان نسل کی کردار سازی کی۔
اگر آپ ہمارے بیان کی تصدیق کرنا چاہیں تو ان کے فریدی سیریز کے ناولز کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں۔

Monday, September 21, 2020

عمران سیریز پر تبصرہ

جب سے پرانے گانوں کو نئے انداز میں پیش کرنے کا رواج ہوا ہے اس سے بھی پہلے سے کسی کے تخلیق کردہ کرداروں پر مشتمل کہانیاں لکھنے کا سلسلہ چلا آرہا ہے۔ سن اسی اور نوے کی دہائی میں جہاں ہم مرحوم اشتیاق احمد کی انسپکٹر جمشید سیریز کے دلدارہ تھے وہیں مظہر کلیم کی عمران سیریز کے بھی رسیا تھے اور انہی کو اس کردار کا خالق سمجھتے تھے، بھولے بھالے دور کے معصوم قاری تھے نا، شاید اسی لئے۔
مگر جب شعور و آگاہی کی منازل طے کیں تو یہ عقدہ کھلا کہ علی عمران کا کردار جناب اسرار احمد المعروف ابن صفی مرحوم کی تخلیق ہے۔
ہم اپنے طالب علمی کے زمانے میں ابن صفی کے شاہکاروں تک رسائی حاصل نہیں کر پائے، مگر شادی بچوں اور نوکری کے بعد اکیسویں صدی میں انکی عمران سیریز کے تمام ناول پڑھ ڈالے۔
سن 1955 سے 1980 تک کے 25 برسوں میں انھوں نے 120 ناول لکھے جن میں مرکزی کردار علی عمران ہی تھا۔ 
ہم کیونکہ سائنس کے طالب علم ہیں اور ادب میں سائنس فکشن سے واقف ہیں اس لئے یہ بات پورے وثوق سے کہ سکتے ہیں کہ ابن صفی نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں جن سائنسی خیالات کو بطور فکشن پیش کیا وہ آج فیکٹ یعنی حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔ مثلا ایک ناول میں عمران لکڑی کے ایک تختہ پر بجلی کے تاروں کی مختلف لمبائی سے اینٹینا بنا کر کسی کی گفتگو سننا چاہتا ہے۔ یہ خیال آج کی سائنس میں ملٹیپل اینٹینا ایرے کے طور پر موجود ہے جس کی مدد سے ایک مخصوص تعدد کا حیطہ یعنی فریکوئنسی رینج معلوم کیا جا سکتا ہے۔
ادبی اعتبار سے ان کے کرداروں کی تہیں ہیں۔ علی عمران کے کردار کی جہتیں ہر ناول میں ایک کے بعد ایک کر کے سامنے آتی ہیں۔ اگر اس سیریز کے ناول ترتیب وار پڑھے جائیں تو ان میں ایک ربط ملتا ہے جو قاری کو اس سلسلے سے جڑے رہنے پر مجبور کرتا ہے۔
سسپنس کی بات کریں تو ان کا انداز تحریر کسی بھی طور آگاتا کرسٹی سے کم نہیں، ایکشن میں بھی ابن صفی اپنے کرداروں کو مافوق الفطرت نہیں بناتے بلکہ انھیں زخم بھی لگتے ہیں اور وہ بے ہوش بھی ہوتے ہیں۔
بظاہر احمق نظر آنے والا علی عمران جہاں ایک طرف سوپر فیاض کو بلیک میل کرتا ہے تو دوسری طرف ایکسٹو کا کردار ادا کرتا ہے، ایک جانب اپنے باورچی سے مونگ کی دال بنانے پر واویلا کرتا ہے تو دوسری جانب جولیا کی چکنی چوڑی باتوں سے کوسوں دور بھاگتا ہے۔ لیکن ان تمام تضادات کے باوجود ایک چیز جو ان کے کرداروں کو دوسروں سے ممتاز بناتی ہے وہ ہمارے ادب میں موجود روایتی عشق و محبت سے فرار ہے۔ ان کے کرداروں بالخصوص علی عمران کا صنف مخالف سے کوسوں دور بھاگنا اور اپنے دامن کو پاک صاف رکھنا ایسے اوصاف ہیں جو ہمیں جیمز بانڈ جیسے کرداروں میں بھی نہیں ملتے، یہاں یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم جیمز بانڈ پر تنقید کر رہے۔
کم کہے کو زیادہ جانیں اور اگر اب تک آپ ابن صفی کے ناول نہیں پڑھ سکے تو وقت نکال کر اول تا آخر پڑھ ڈالئے ہمارا دعوی ہے کہ بیسویں صدی کے ناول آپ کو اکیسویں صدی کے لکھے ہوئے لگیں گے۔
آئندہ ہم ابن صفی کی جاسوسی دنیا یعنی فریدی سیریز کا ذکر کریں گے۔

Saturday, June 4, 2016

چندا رے چندا ۴

اللہ تعالٰی نے انسان کو عقل عطا کی ہے اور علم کی نعمت سے بھی نوازا ہے، اللہ اور فرشتوں  کے مابین انسان کی تخلیق کے معاملہ پر ہونے والے مکالمہ سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔
فلکیات کا علم بھی دیگر علوم کےساتھ ساتھ آجکل بہت اہمیت کا حامل ہے۔اسی علم کی بدولت انسان آج ستاروں پر کمند ڈال چکا ہے، لیکن قابو میں نہیں آتا تو بس مہتاب۔
جب آفتاب کے طلوع اور غروب پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں اور نمازوں کے اوقات اپنے اپنے مسلک کے مطابق نقشہ جات دیکھ کر متعین کر لئے گئے ہیں تو چندا ماما کی موجودگی کی شہادت پر اختلاف ہماری ہٹ دھرمی کو ظاہر کرتا ہے جس کا منطق سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ بات بارہا دہرائی جا چکی ہے کہ چاند کا موجود ہونا اور دکھائی دینا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ علم فلکیات چاند کے ہونے کا وثوق کے ساتھ بتا سکتی ہے،یعنی چاند افق پر موجود ہے یا نہیں، سورج سے پہلے غروب ہو گا یا بعد میں، افق پر اسکی اونچائی کتنی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ان سب معلومات کی درستگی اپنی جگہ مگر چاند کی رویت اسے خالی آنکھ سے دیکھنے کا تقاضہ کرتی ہے۔
کل بروز اتوار، مورخہ ۵ جون ۲۰۱۶ کو پاکستان میں ۲۸ شعبان المکرم ۱۴۳۷ ہوگی۔نئے چاند کی پیداِئش پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق صبح ۸ بجے ہوگی۔ پیدائش قمر کا یہ تخمینہ علم فلکیات کے کلیوں کی بدولت لگایا جاتا ہے۔ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ فلکیات کے کلیوں سے ہی  آفتاب کے طلوع و غروب کے نقشہ جات تیار ہوتے ہیں، لہٰذا فلکیات کا علم چاند کی پیدائش بھی ریاضی طور پر درست بتائے گا۔
تو صاحب کراچی میں کل غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر گیارہ گھنٹوں سے کچھ اوپر ہوگی۔ اتنی عمر کا چاند دکھائی نہیں دے سکتا۔مزید یہ کہ سورج کے ڈوبنے کے پندرہ منٹ کے بعد چاند بھی ڈوب جائے گا۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ غروب آفتاب کے ہوتے ہی اندھیرا نہیں ہو جاتا بلکہ خاصی روشنی رہتی ہے۔ ایسے میں کسی بھی فلکی جرم کو دیکھنا ناممکن ہے۔
واضح رہے کہ پشاور میں غروب آفتاب اور مہتاب میں فرق گیارہ منٹ کا ہے، یعنی کراچی کے دورانیہ سے بھی کم لہٰذا وہاں تو چاند نظر آنا گدھے کے سر پر سینگ اُگ آنے کے مترادف ہوگا۔
ہمارا اس بلاگ کے لکھنے کا مقصد محض سائنس کے حقائق بیان کنا ہے، کسی بھی مذہبی، سیاسی یا معاشرتی گرہ یا طبقہ پر تنقید کرنا نہیں۔ اس کے باوجود بھی اگر کل ملک میں چاند نظر آنے کا اعلان ہوا تو وہ سائنسی اعتبار سے ناقص ہوگا۔

ہمارے آسٹریلیا کے دوستوں کے لئے بھی یہ بتاتے چلیں کہ کل وہاں بھی چاند کا نظر آنا نا ممکن ہے اور اگر وہاں رمضان المبارک کے آغاز کا اعلان ہوتا ہے تو وہ محض پیدائش قمر کے لحاظ سے ہو گا۔

Monday, February 15, 2016

تصویرِ ہمدرداں ۔ جنے لہور نئی ویکھیا

پس منظر کے لئے گذشتہ بلاگ یہاں پڑھیں۔

یہ جنوری سن دو ہزار چار کے آخری ہفتے کا ذکر ہے کہ ہم بحیثیت انچارج اگزیمینشن سیل کے مسسز گلزار کے ساتھ لاہور روانہ ہوئے۔ اس سفر کا مقصد یہ تھا کہ حکیم صاحب کے نام سے جاری کردہ وظائف دینے کی خاطر لاہور کے ہونہاروں کا  تحریری اور زبانی امتحان لیا جائے اور فاونڈیشن کو نتیجہ ارسال کیا جائے۔ امتحانی پرچے خصوصی طور پر تیار کئے گئے تھے- میٹرک پاس اور انٹر پاس امیدواران کی فہرست کے مطابق پرچے اور امتحانی مواد ہم نے پیک کروا دیا تھا۔
چھبیس جنوری کی شام کو مسسزگلزار اور ہمیں، یامین ڈرائیور نے جناح انٹرنیشنل کے ڈومیسٹک ٹرمینل پر سرکاری گاڑی میں چھوڑا۔ یامین، ہمدرد میں چلتے پھرتے اخبار کا درجہ رکھتے تھے، صاحب لوگوں کے ڈرائیور ہونے کی وجہ سے ان سے ہم لوگ تفریحا یہ پوچھا کرتے کہ اب کے برس تنخواہ میں کتنا اضافہ متوقع ہے، یا  آج کل ایڈمینسٹریشن اور میڈم کے حالات کیسے چل رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ان کی گفتگو غور سے سننا پڑتی تھی کیونکہ انکے بولنے کا ایک خاص انداز تھا کہ وہ معمولی بات کو بھی غیر معمولی بنا دیتے تھے۔
پرواز کا وقت ساڑھے چھ بجے کا تھا مگر فنی خرابی کے باعث پینتیس منٹ کی تاخیر سے اڑان ہوئی۔ فضائی میزبان، عمر شریف کے لطیفوں کی ہو بہو تصویر تھیں کہ جن سے جام بھی طلب کیا جاتا تو تتے پانی کا مزہ دیتا۔ اس کے برعکس کھانا لذ یذ تھا۔ اتنے میں لاہور آن پہنچا اور ہمعلامہ اقبال کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترے جہاں سردی بارہ درجہ سینٹی گریڈ تھی۔ ہمارے استقبال کے لئے جناب علی بخاری صاحب موجود تھے، ان کا نام گو کہ ہمارے پی ٹی انسٹرکٹر الحاج اصغر علی بخاری سے ملتا ہے مگر ہمارے بخاری صاحب والی عادات ان میں مفقود تھیں۔
علی بخاری نے ہمیں گاڑی میں لادا تو ہم لوگوں نے چھوٹتے ہی کسی کتب خانہ جانے کی فرمائش داغ دی، اس پر انھوں نے ہمیں تحیر آمیز نگاہوں سے گھورا مگر لاہوری گرم جوشی کے ساتھ فرض میزبانی ادا کرتے ہوئے لالہ زار کتاب گھر پر گاڑی رکوائی، ہم وہاں انٹر، میٹرک کی ڈھیروں کتابیں خریدیں اور دو ہزار کا بل ایڈمنسٹریٹر حافظ پرویز صاحب کے لئے تحفتا رکھ لیا۔
ہمارا پڑاو مرکز ہمدرد، لاہور کی عمارت میں تھا۔ مسسز گلزار کو حکیم صاحب کے زیر استعمال رہنے والا کمرہ دیا گیا اور ہمیں اسی کمرے کے بالمقابل ٹھکانہ ملا۔ سامان وغیرہ ترتیب دینے کے بعد مسسز گلزار کے ساتھ خشک میواجات کی ضیافت اڑائی اور ہماری اور عمارت کی چوکیداری پر مامور گارڈ کے تعاون سے چائے پی۔ آدھی رات کے قریب یہ سطور قلمبند کیں اور سو پڑے۔
اگلی صبح قریبا ساڑھے ساتھ بجے باقاعدہ بیدار ہوئے، میڈم کے ہاتھ کی بنائی کافی پی اور باہر نکل گئے، سردی ایسی تھی کہ اس سے لطف اندور ہوا جا سکتا تھا۔لب سڑک ایک مسجد کی محراب سے سمتوں کا تعین کیا تو پتہ چلا کہ مرکز ہمدرد کا مرکزی دروازہ مغرب کی جانب ہے جبکہ سڑک لٹن روڈ شمالا جنوبا گزرتی ہے۔
ہمدرد مرکز سے جنوبی سمت جو سڑک سیدھی نکلتی ہے وہ پرانی انارکلی جاتی ہے، ہم اسی سڑک پر واقع ایک چھوٹے سے 'شان ہوٹل' میں بیٹھے اور ناشتہ کیا۔
مسسز گلزار سےجو قارئین واقف ہیں انھیں انکی خصوصیات بتلانے کی ضرورت نہیں، پر نافاقف قارئین اتنا جان لیں کہ یہ  اپنے زمانے کی ٹیبل ٹینس کی قومی چیمپیئن ، تاریخ  کی استاد، سینٹ جوزف کالج کراچی کی پرنسپل اور کراچی کی پرانی رہائشی ہیں، خاصی دنیا دیکھ چکی ہیں اور خاصی پریکٹیکل خاتون ہیں۔ اردو میں انکی گفتگو محترمہ بینظیر بھٹو کی اردو کی یاد دلاتی ہے۔

جاری ہے

نوٹ: ان دنوں ہم انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کی سہولیات سے محروم تھے اور سفروں کے دوران باقاعدہ ڈائری لکھا کرتے تھے۔ یہ بلاگ پرانی ڈائری کی مدد سے تحریر کیا جا رہا ہے۔

Tuesday, February 2, 2016

تصویر ہمدرداں،قصہ معروضی امتحانات کا

اس سلسلے کا آخری بلاگ ہم نےپانچ برس پہلے تحریر کیا تھا۔آج اس سلسلہ کو دوبارہ شروع کرتے ہیں اور گردش ایام کو پیچھے کی طرف دوڑاتے ہیں۔
حکیم محمد شہید کی یاد میں ہمدرد فاونڈیشن نے میٹرک اور انٹر پاس طلبہ و طالبات کے لئے دو دو سالوں کے وظیفہ کا اعلان کیا تھا، پہلے سال یہ وظیفے صرف کراچی کے طلبہ و طالبات کو دیئے گئے، بعد میں ان کا دائرہ لاہور اور پشاور تک بڑھا دیا گیا۔ بورڈ کے سالانہ امتحان میں اعلٰی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں اور معاشی اعتبار سے مستحق طلبہ و طالبات کو یہ وظائف دیئے جانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ سن ۲۰۰۳ کے آخری ایام کا ذکر ہے کہ مسز گلزار کے پاس فاونڈیشن سے خط آیا جس میں ان وظاِئف کی تفصیل تھی اور ان سے سفارشات طلب کی گئی تھیں کہ متذکرہ وظائف کس طور پر دیئے جائیں؟ ہم ان دنوں کالج اور اسکول میں معروضی سوالات پر مشتمل کوئز کرانے میں ماہر ہو چکے تھے اور مسسز گلزار نے ہمیں داخلہ امتحان اور معروضی مقابلوں کا انچارج بنا دیا تھا۔
سن ۱۹۹۸ میں جب ہم ہمدرد میں استاد ہوئے تھے کالج میں داخلے محض امیدوار کا روبرو انٹرویو لینے پر ہوا کرتے تھے۔ ہمارے ہمدرد میں قدم جمنے کے بعد، محترم طارق ظفر اور محترم حسن احمر کے مشورہ پر یہ ہم ہی تھے جنھوں نے مسسزگلزار سے ایک فیلڈ ٹرپ کے دوران یہ بات منوائی کہ آئندہ کالج کے داخلے تحریری امتحان کے بغیر نہیں ہوں گے۔
پنجابی کی کہاوت ہے کہ 'جیہڑا بولے اوہی کنڈا کھولے'، سو مسسز گلزار نے ہمیں یہ ذمہ داری سونپی کہ تحریری امتحان کا مواد تیار کرو۔ ہم نے ہر مضمون کے استاد سے معروضی سوالات تیار کروائے اور انھیں کمپیوٹر پر منتقل  کر کےان کے جوابات کی الگ کنجی یعنی 'کی' وضع کی۔ یہ ساری ڈیزائنگ ہماری تھی۔ عزیزم صالح جتوئی سے ہم نے ایک ٹرانسیرنسی بنوائی جو جوابات کے نشانات پر مشتمل تھی کہ اسکی مدد سے جوابی پرچہ میں الف، ب، ج، د، پر لگائے گئے امیدوار کے نشانات با آسانی جانچے جا سکتے تھے اور محض چند لمحوں میں صحیح جوابات کی گنتی ہو سکتی تھی۔
اس ساری تفصیل کے بیان کرنے کے دو مقاصد ہیں اول یہ کہ آئندہ کے بلاگز کا پس منظر واضح ہو سکے اور دوسرا یہ کہ ہم پندرہ سولہ برس پہلے کی بات کر رہے ہیں کہ جب ہمدرد اسکول میں کمپیوٹر گنتی کے تھے اور انٹرنیٹ ندارد تھا۔ مزید یہ کہ کالج کی عمر تین چار برس تھی سو جو نظام وضح کیا جا رہا تھا وہ عدم سے وجود پا رہا تھا اور اس میں مسسز گلزار کا ہم پر اعتبار شامل تھا۔
جب یہ سارا عمل پایہ تکمیل تک پہنچا تو ہم نے داخلہ فارمز کی بھی فہرست تیار کی اور امیدواران کی تعداد اور منتخب کردہ مضامین کے مطابق پرچوں کی کاپیاں تیار کروائیں اور تحریری امتحان کے مکمل لوازمات کے ساتھ امتحان منعقد کیا۔ ممتحن کی ڈیوٹیز اور امتحانی ہالز کے نمبر تک ہم نے خود ترتیب دیئے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ نتیجہ اسی دن مرتب دیا۔
اس ابتدائی معروضی طرز کے امتحان کی کامیابی کے بعد مسسز گلزار نے ہمیں زبانی اور معاشی داد کےساتھ ساتھ یہ ذمہ داری مستقل طور پر سونپ دی۔ ہم تحریری معروضی  کوئز کرانے کے انچارج مقرر کر دیئے گئے اور اس کام کا ماہانہ معاوضہ ہماری تنخواہ میں شامل کردیا گیا۔ اس وقت ہم سمیت تمام اساتذہ تنخواہ کے ہندسوں کو کوئی خاص اہمیت نہ دیتے تھے بلکہ کام کرنا چاہتے تھے یہی وہ خلوص تھا کہ جو ہمدرد کی بنیادوں میں حکیم صاحب کے ہاتھوں بھرا تھا۔ ہم کبھی بھی اپنے آپ کو ملازم نہیں سمجھتے تھے کیونکہ مسسز گلزار تمام اساتذہ کو ایک کنبہ کی مانند رکھتی تھیں۔ اسلئے کوئی نوکری نہیں کرتا تھا بلکہ دل سے کام کرتا تھا۔
آنے والے برسوں میں داخلہ امتحان کے علاوہ ہر جماعت اور کلیہ کے مطابق معروضی طرز امتحان کے الگ الگ پرچے تخلیق کر لئے گئے اور ان کا تمام ریکارڈ ترتیب دیا گیا، حتٰی کہ ہر پرچے کا الگ نمبر شمار اس پر درج ہوتا تاکہ کوئی مواد ادھر ادھر نہ ہو سکے۔

اس تمام پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے قارئین اگلے بلاگ کا انتظار فرمائیں۔

Friday, November 27, 2015

اشتیاق احمد کے نام

 از کراچی
27 نومبر 2015
پیارے انکل اشتیاق احمد
اسلام علیکم،
امید ہے کہ آپ جنت میں ہونگے، دل چاہا کہ خراج عقیدت کے طور پر آپ پر ایک مضمون لکھوں، مگر پھر سوچا کہ کیوں نا آپ کو براہ راست ہی مخاطب کر لیا جائے۔ آپ کی حیات تو سسپنس سے بھرپور کہانیوں پر مشتمل رہی لیکن آپکی وفات بھی آپ کے ناولز کے کیسسز کی طرح تفتیش کا شکار ہو گئی۔
سترہ نومبر کو بورڈنگ کرا کے  آپ کراچی کے ہوائی اڈے سے ملکِ عدم کے سفر پر چل دیئے اور ہمارے جیسے بہت سے قارئین کو سوگوار چھوڑ گئے۔ 
'دھت تیری کی'، ' یہ تو کسی ناول کا نا م ہو سکتا ہے'، 'جلتی ہے میری جوتی' جیسے تکیہ کلام اور ان کے ادا کرنے والے کردار، محمود، فاروق اور فرزانہ یتیم ہوگئے ہمیں ڈر ہے کہ کہیں یہ یتیم کسی کاروباری مصنف کے ہتھے نہ چڑھ جائیں اور وہ انھیں اپنی کمائی کا دھندہ بنا ڈالے۔
آپ کے لکھے ناولز کے ذریعہ ناشرین نے تو خوب دولت کمائی اور آپ محض دال روٹی پر ہی رہے ۔ کیا کریں کہ آپ کی پیدائش آپ کے اختیار میں نہ تھی ورنہ اگر آپ فرنگیوں کے ملک میں ہوتے توہر طور سے جے کے رولنگ کے ہم پلہ ہوتے۔
ہماری آپ سے ملاقات کی خواہش کبھی پوری نہ ہو سکی، مگرہمیں یہ شرف ضرور حاصل ہے کہ آپ ہمارے لکھے خطوط کا جواب دیتے تھے۔
یہ سن چھیاسی، ستاسی کا ذکر ہے کہ اسکول میں ہم سے سینیئر طلبہ آپ کے ناول پڑھا کرتے تھے ایک آدھ بار ان سے مستعار لے کر آپ کے ناول پڑھنا شروع کئے تو پھر انکا چسکا ہی پڑ گیا۔
اس زمانے میں ہمیں روزانہ ایک اٹھنی جیب خرچ کے لئے ملا کرتی تھی اور محلے کی لائبریری سے آپ کے ناول ایک روپے یومیہ کرائے پر ملا کرتے تھے. ہم اور ہمارے برادر خرد اپنے جیب خرچ کے پیسے ملا کر ہر نیا آنے والا ناول لائبریری سے لے کر پڑھتے اور آئندہ آنے والے ناولزکا انتظار کرتے۔
آپکی 'دو باتیں' اور'ناول پڑھنے سے پہلے'سے لے کر اگلے ناول کی جھلکیاں ایک ہی نشست میں پڑھنے کے ہم نے کئی ریکارڈ قائم کیے. مزہ تب آتا جب آپ کا لکھا کوئی خاص نمبر شائع ہوتااور ہم موسم گرما کی تعطیلات میں رات دیر تک جاگ کر اسے ختم کرنے کی تگ و دو کرتے۔
آپ کے کرداروں کی نوک جھونک اور محاورات کی جنگ نے ہماری اردو خوب نکھاری اور ہم اسکول میں نہایت روانی کے ساتھ اردو کی بلند خوانی کرتے تھے، واضح رہے کہ اردو ہماری مادری زبان نہیں ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی کچھ لکھنے کی عادت ہوئی تو آپ کا اندازِ تحریر ہمارے سامنے تھا- آج اگر ہم تھوڑا بہت لکھ سکتے ہیں تو اسکی وجہ بھی یہی ہے آپ کے جملوں کی روانی نے ہمیں اس جانب راغب کیا۔
یاد آیا آپ نے چاند ستارے کے نام سے ایک ماہنامہ بھی جاری کیا تھا، تب تک ہمارا جیب خرچ بڑھ چکا تھا اور ہم ہر ماہ یہ رسالہ خریدا کرتے تھے۔ مگر آپکا یہ رسالہ شاید مالی مشکلات کا شکار ہو گیا اور جلد ہی آپ نے اسے بند کر دیا.شیخ غلام علی اینڈ سنز سے لے کر اٹلانٹس پبلیکیشنز تک آپ لکھاری ہی رہے اور کاروباری نہ بن سکے۔
ہمیں اشتیاق پبلیکیشنز کا ساندہ کلاں والا پتہ زبانی یاد ہوگیا تھا جو آپ کے ناولز میں درج ہوتا تھا اور اس پر ہم آپکوخط لکھتے تھے۔
جاسوسی اور سسپنس سے بھرپور ناول لکھنا تو آپ کی شخصیت کا ایک پہلو تھا اور اپنی تحریروں میں آپ ہمیں حالات حاضرہ سے بھی روشناس کرواتے تھے. اس کے ساتھ ساتھ، ختم نبوت کے عقیدہ کو نوجوان نسل میں واضح کرنے کا جو کام آپ نے کیا وہ آپ کے لئے تا قیامت صدقہ جاریہ رہے گا۔ اسلام کے بنیادی عقائد بشمول عقیدہ توحید کے بارے میں، ہم آپ کے ناولز کے آخر میں دیئے گئے اوراق سے استفادہ کرتے۔
آپ کے ناولز کی طرح ہمدرد کا نونہال بھی ہم باقاعدگی سے پڑھتے تھے، آپ کی کہانیاں اس میں شائع ہونے لگیں بلکہ ماضی قریب سے تو آپ ہر ماہ ایک کہانی اس میں لکھ رہے تھے۔ آج جب ہمارے بچے نونہال پڑھتے ہیں تو آپ کی کہانی دیکھ کر ہم انھیں آپ کے بارے میں بتاتے ہیں۔
ابھی پچھلے ماہ صاحبزادی اپنے اسکول کی لائیبریری سے آپ کا ایک ناول پہلی بار پڑھنے کو لائیں تو ہم نے انھیں آپکے تخلیق کردہ کرداروں کے بارے میں بتایا۔ اس پرصاحبزادے بھی آپ کے ناول پڑھنے پر کمر بستہ ہو گئے۔ مگر ابھی وہ محض دس برس کے ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ وہ کے ناولز کی روانی کا ساتھ نہیں دے پائیں گے۔ صاحبزادی جو کہ بارہ برس کی ہیں ، نے خوب سمجھ کر آپ کے ناولز پڑھنا شروع کردیئے ہیں۔ حالیہ منعقد ہونے والے کتب میلے سے ہم نے انھیں  آپ کے ناولز خرید کر دیئے اور آج کل وہ انھیں پڑھ رہی ہیں۔ ان کے پڑھنے سے پہلے ہم نے انھیں پڑھا، ناول گو کہ پرانے تھے اور ہمارے زیرِ مطالعہ رہ چکے تھے مگر دوبارہ پڑھ کر بھی ہم بور نہیں ہوئے, ان سطور کے منظر عام پر آنے تک ہماری اولاد متذکرہ ناولز پڑھ چکی ہے۔
انکل آپ اب ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں انسان کے اعمال ہی اسکے کام آتے ہیں ہمیں یقین ہے کہ اللہ آپ کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں پکڑائے گا، کیونکہ آپ نے اپنے قلم کے ذریعہ ہم لوگوں میں خوشیاں بانٹیں ہیں اور ہمیشہ اصلاحی ادب لکھا ہے۔ ملکِ خداداد کے حاکم بھلے ہی آپ کو کسی اعزاز سے نہ نوازیں آپ کے قاریئن کی کثیر تعداد آپ کے حق میں سدا دعا گو رہے گی۔
اللہ آپ کے درجات کو بلند فرماکر ،جنت کے اعلٰی درجے میں جگہ عطا فرمائے، آمین۔
فقط
 آپکی تحاریر کا ایک قاری 

Thursday, July 16, 2015

چندا رے چندا-۳

اس موضوع پرگذشتہ دو بلاگز، اول اور دوم میں ہم ہلکے پھلکے انداز میں اظہارِ خیال کر چکے ہیں۔ اب کی بار چاند کے آج کے ڈیٹا کا ذکر کرتے ہیں۔ آج پاکستان میں سرکاری طور پر ۲۸ رمضان المبارک ۱۴۳۶ ہجری ہے اور وطن میں چند ایک مقامات پر رمضان کی ۲۹ تاریخ ہے۔

سائنسی اعتبار سے نئے چاند کی پیدائش آج بروز جمعرات پاکستانی معیاری وقت کے مطابق صبح چھ بجکر چوبیس منٹ پر ہے، لہٰذا آج جب وطن کے مختلف علاقوں میں مغرب کا وقت ہو گا تو چاند کی عمر کم و بیش ساڑھے بارہ یا تیرہ گھنٹے ہو گی۔ مزید یہ کہ پاکستان میں بیشتر مقامات پر آج جب سورج غروب ہو گا اس وقت چاند ڈوب چکا ہوگا، یعنی افق سے نیچے جا چکا ہوگا۔ اس حقیقت کی روشنی میں سائنسی لحاظ سے آج پاکستان میں کسی بھی مقام پر چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں۔ یہاں تک کہ کوئی طاقتور دوربین بھی چاند کو نہیں دیکھ سکتی کیونکہ وہ افق پر ہو گا ہی نہیں۔

عرب ممالک بشمول سعودی عرب والوں کے اگر آج چاند کا اعلان کرتے ہیں تو وہ نئے چاند کی وجہ سے تو درست مانا جا سکتا ہے مگررویت ہلال کے لحاظ سے قطعی طور پر اپنی سائنسی حیثیت نہیں رکھتا۔

 برِاعظم ایشیا، یورپ اور آسٹریلیا کے تمام ممالک میں بھی مندرجہ بالا صورتِ حال ہے۔ آسٹریلیا میں کیونکہ موسمِ سرما ہے اس لئے وہاں آجکل مغرب شام پانچ ،ساڑھے پانچ بجے ہی ہو جاتی ہے۔ اگر ہم سڈنی کی مثال لیں تو آج وہاں غروبِ آفتاب شام پانچ بجکر چار منٹ پر ہے اور اس وقت چاند کی عمر مشکل سے چھ گھنٹے ہو گی جو کسی بھی طورپررویت کے قابل نہیں۔

اس ساری تفصیل کا مقصد ہے کہ ہم اپنی عقل کو کام میں لائیں اور میڈیا، مولوی حضرات اور محکمہ موسمیات کو الزام دینے کے بجائے چاند کی سائنس پر تھوڑا سا غور کر لیں تو بنا کسی الجھن کا شکار ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ مولویوں نے روزہ کھایا ہے یا نہیں، کیونکہ ہم سہل پسندی میں اس قسم کے بیانات داغنے سے قطعی طور پا باز نہیں آتے۔

احباب کی ایک محفل میں ایک دوست فرمانے لگے کہ اگر کوئی رمضان کا چاند خود دیکھے تو اس کا روزہ رکھنا بنتا ہے، یعنی اسے ماہِ صیام کا آغاز کرنا چاہیئے۔ ہم کہیں گے کہ با لکل اسے رمضان کا آغار کرنا چاہیئے مگر اس بات کا یقین کر لے کہ واقعی اس دن چاند نظر آنے کا فلکیاتی ڈیٹا موجود تھا یا نہیں۔ اگر علمِ فلکیات کہتا ہے کہ اس دن غروبِ آفتاب سے پہلے ہی مہتاب غروب ہو چکا تھا تو پھر اللہ اللہ خیر سلا۔

فیس بک کے جہادی بھی بڑھ چڑھ کر چاند پر بحث میں حصہ لیتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ انھیں چاند کے بارے میں اتنی ہی معلومات ہوتی ہے جتنی ماریا شیراپووا کو ٹنڈولکر کے بارے میں ہے-

محترم انور مسعود نے اہلِ ہمت کا مریخ کی جانب بڑھنے کا تذکرہ کیا تھا، تا دمِ تحریر پلوٹو کی تازہ اور قریب ترین تصاویر آچکی ہیں اور ہم چاند دکھائی دینے اورنظرنہ آنے پر بحث میں مصروف ہیں کیونکہ ہم اُلٹے سیدھےچکروں میں پڑ کر اپنے اصل سے ناتا توڑ چکے ہیں اسی لئے،

ع  ثریّا سے زمیں پہ آسماں نے ہم کو دے مارا