Thursday, March 11, 2010

بلا عنوان


ایک تازہ ترین مشاہدے نے ہمیں یہ بلاگ لکھنے پر مجبور کر دیا ہے، قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک کام کی غرض سے ہمارا اپنے اسکول کی سال اول کی ایک پروفیسر کے دفتر جانا ہوا تو وہ خاصی مصروف دکھائی دیں. ایک صاحب ان کے دفتر میں تھے اور چند ایک باہر قطار میں منتظر تھے، ہم بھی باہر کھڑے ہو گئے. اسی لمحے صدر مدرس یعنی ہیڈ آف دی اسکول تشریف لاے اور بے دھڑک پروفیسر کے کمرے میں گھس گئے. اس پر باہر موجود ایک منچلے طالب علم نے آوازہ کسا کہ قطار میں آئیے. بظاہر معمولی سی بات تھی مگر ذھن کے دریچے ماضی کی جانب ہوے کہ جب محمود و ایاز ایک ساتھ صف آرا ہوتے تھے، یا امیر المومنین کا دامن ایک ادنی غلام بھی پکڑ سکتا تھا اور ان سے برابری کی بنیاد پر سوال کر سکتا تھا. اور جب یہ ہوتا تھا تو مسلمان پوری دنیا پر حمکرانی کرتے تھے. مگر اب بقول غالب
ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
گستاخی فرشتہ ہماری جناب میں
سو ہم کب گفتار کا غازی بننے کے بجاتے کردار کا غازی بننا پسند کریں گے؟ ہم لوگوں کا المیہ کچھ ایسا ہے کہ جیسے کسی خاندان کی سونا اگلتی زمین ہو اور اس پر خوب فصل ہوتی ہو پھر کسی کارن وہ زمین بیچنا پڑ جاے اور دو تین نسلوں کے بعد اسی خاندان کا کوئی فرد اپنے بچوں کے ساتھ اس زمین کے پاس سے گزرے تولہلہاتے کھیتوں کو دیکھ کر اپنے بچوں سے کہے کہ بیٹا دیکھو یہ تمہارے آباؤ اجداد کی زمین تھی. مگر کیا کریں کہ یہ لہلہاتی کھیتیاں اب دوسروں کے ہاتھوں سراب ہوتی ہیں تو ظاہر ہے کہ زمین ان کے لئے ہی سونا اگلے گی.
جب تک ہم ذات پات ،عہدہ، کرسی اور امارت و غربت پر لوگوں کو تقسیم کرتے رہیں گے تو استحصال جاری رہے گا.ہمارے معاشرے میں انتشار کی وجہ بھی شاید یہی ہے کہ ہم دوسروں کو ہمیشہ نیچا دکھانے کی کوشش میں سرگرم رہتے ہیں یوں تعمیری سوچ و توانائی فرد و معاشرے دونوں میں پنپنے ہی نہیں پاتی.حکومت یا سیاست دانوں پر الزام دھرنا بہت آسان ہے مگر اپنے آپ کو بدلنا نہایت مشکل کام ہے کہ بقول شاعر
نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنی خبر،رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر
پڑی اپنی برائیوں پہ جب اپنی نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا
ایسی صورت حال میں ہم اپنی نئی نسل سے پر امید ہیں کہ یہ معاشرے میں تبدیلی لا سکتی ہےاور ہم یقینا بہتری کی جانب گامزن ہو سکتے ہیں. ہم عموما گزرے وقت کا ذکر کرتے ہیں اور حل کو برا کہتے ہیں مگر ایک حدیث کے مطابق مومن حال میں زندہ رہتا ہے. تو حال میں زندہ رہنے پرہی مستقبل بہتر ہو سکتا ہے. آپ کیا سمجھتے ہیں ؟

11 comments:

  1. InshALLAH ..Future 'll be bright

    ReplyDelete
  2. Good ji, btw sir the point is made, that gone are the days of equality, now a days we see too much discrimination on what is materialistic.

    ReplyDelete
  3. Baat pakistanis ki general psych k khilaaf hai magar durust hai k haal main zinda rehnay se hi mustaqbil behtar hosakta hai....

    ReplyDelete
  4. I agree wid aarij'z comments.. nobody care'z abt others.. they do understand the problem but neva try to overcome..neva sacrifice!

    ReplyDelete
  5. Well... Its true.. But... i will only say one thing... We ones ruled the planet for some reason and that is totally missing today... We from the very inception are making mistakes and never learning from them... One should start correcting him/herself and Inshallah things will be better in no time... : )


    "Action speaks louder than words.."

    Its time for some serious action... GODSPEED Pakistan...

    ReplyDelete
  6. v true n congrats writer u have already taken a step ahead after writing this ...our future is definitely very bright inshallah !

    ReplyDelete
  7. nice ;) thz is hall happening bcz we hve forgot the teaching of our religion we are following western culture. bt still hope for the best for Pakistan

    ReplyDelete
  8. Ayaz bhai...awesome piece of writting..looking forward to read more blogs from you..And i agree..to make ones future better, we should work on the present rather than criticizng it..Work on the present and the future will be bright..after all u reap what u sow..:)

    ReplyDelete