Wednesday, April 14, 2010

آسٹریلیا میں خیمہ زنی - کوما براستہ کینبرا-2


چالان کروانے اور برگر کھانے کے بعد دوبارہ سفر کا آغاز ہوا، اب فکر تھی نماز عصر کی اور ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ اگلی منزل کون سی ہو گی. راستے میں گاڑیوں میں گیس بھروائی اور ساتھ ہی تصویر کشی کا سلسلہ بھی جاری رہا. قریبا سوا چھے بجے ہم دارالحکومت کینبرا میں داخل ہو چکے تھے. طے یہ ہوا کہ یہیں عصر اور مغرب ادا کر لی جائیں اور پھر آگے کا سفر کیا جاے.
آج کی جدید دنیا میں ہم سب جی پی ایس کے استمعال سے واقف ہیں کہ یہ رہنما کا کام دیتے ہیں. مگر سفر کے آغاز میں ہی ہم پر یہ بات آشکارہ ہو گئی کہ یہ رہنما آپ کو بھٹکا بھی سکتے ہیں اگر نقشاجات ٹھیک طور پر موجودہ معلومات کے مطابق نہ ہوں. تو ہوا کچھ یوں کہ تین تین جی پی ایس ہوتے ہوے بھی ہم صحیح سمت کا تعین نہ کر پاے اور آخر میں کام آیا تو نوکیا کا ای 71. لہٰذا ہم کینبرا کی سڑکوں سے گزرتے ہوے با لآ خر مسجد کینبرا آن پوہنچے.
کینبرا کا ذکر کریں تو یوں سمجھ لیں کہ اسلام آباد کی نقل بنا کر آسٹریلیا میں بسا دی گئی ہے. من و عن وہی سڑکیں اور بناوٹ دکھائی دی.
اب آتے ہیں خانہ خدا کی طرف، مسجد کینبرا وہاں کے مؤذن کے مطابق سن ١٩٦٠ میں تعمیر کی گئی تھی. اس مسجد کی خاص بات یہ ہے کہ اس پر عربی خیمہ کی مانند نوکیلی چھتری نما دوپختہ چھتیں تعمیر کی گئی ہیں اور جنوبی جانب ایک مینار ہے. فیصل مسجد کی طرح اسکی مغربی سمت بھی پہاڑ ہیں. وضو خانہ اور استنجا خانہ ساتھ ہی ہیں اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہاں پر دیسی استنجا خانہ ہے، جسے دیکھ کر بے اختیار وطن کی یاد آگئی. عصر اور مغرب ادا کر کے ایمان تازہ ہو گیا کیوں کہ امام صاحب نہایت خوش الحان تھے.
نمازوں کے بعد دوبارہ سفر کا آغاز ہوا منزل تھی ١٢٠ کلو میٹر دور کوما (کاف کوالٹے پیش کے ساتھ پڑھا جاے) اب تک ہم لگ بھگ ٣٠٠ کلو میٹر کا سفر کر چکے تھے. یہ سفر اندھیرے کا تھا. مقررہ رفتار سے گاڑی دوڑاتے رات میں کوما کی حدود میں داخل ہوے، یہ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے مگر تمام سہولتوں سے آراستہ ہے.
جاری ہے

8 comments:

  1. offcourse theres more to come.....ab sirf like like like....aur wow wow wow hoga....LOL

    ReplyDelete
  2. Khatam karoo yaar iss Shaitan key aant ko..
    I think its more lengthier than AROND THE WORLD IN 60 DAYS

    ReplyDelete
  3. Bohut khoob..yani ab sufur nama likha jaraha hai..

    ReplyDelete
  4. very nice and interesting....... next episode ka intezaar hai ab.....

    ReplyDelete
  5. Awam un naas ko muttala kiya jata hai ke Ayaz Sb ke pur israriyat ki bina par hum ne LIKE aur WOW kehna chor diya hai..... ;)

    ReplyDelete
  6. Thanks everybody for comments
    @Shahbaz Wadiwala: Everybody has right to say 'wow', like or comment on the blog, thanks for your commenting twice ;)

    ReplyDelete
  7. v nice sir ....waiting for the next :)

    ReplyDelete
  8. good one sir ji...shahbaz tu nahi sudhray ga! :)

    ReplyDelete