Friday, April 16, 2010

آسٹریلیا میں خیمہ زنی - سونا خیموں میں-3


داخلی گرزگاہ پر سڑک سے متصل قصبہ سے متعلق معلومات آویزاں تھیں، وہاں سے کچھ راستوں کا اندازہ لگایا اور قصبہ میں داخل ہوے، ایک ہوٹل سے خیمہ زنی کی جگہ کا پتہ کیا، معلوم ہوا کہ کوما سے باہر جاتے ہوے ایک عدد کاروان سراے ہے.سو سیدھی سڑک پر قصبہ سے باہر نکلے ہی تھے کہ لب سڑک سنوٹیلز Snowtels Family Caravan Park خاندانی کارواں سراۓ (نام کے اس اردو ترجمہ کو پڑھ کر کوما جانے والے ہمسفر ضرور ہنسیں گے). خیر جب ہم وہاں پہنچے تو رات کے ٩ بج چکے تھے اور دفتر کی روشنی بجھ چکی تھی. دروازہ کھٹکھٹانے پر ایک عمر رسیدہ خاتون نے استقبال کیا اور ہمیں ٹہرنے کی اجازت دی. باورچی خانہ اور غسل خانہ مفت تھے. خیموں کے لیے اپنی پسند کی کوئی بھی جگہ کے انتخاب کی سہولت عنایات کی گئی. انہوں نے کارواں سراۓ کا ایک نقشہ دیا کہ اس میں سے آسانی سے کوئی جاہ ڈھونڈھ لی جاے. اب اندھیرا اس قدر تھا کہ ہمیں گاڑیوں سے اتر کر پیدل ہی جگہ کا تعین کرنا پڑا، باورچی خانے کے ساتھ قدرے ہموار زمین پر خیمہ زنی کا فیصلہ کیا گیا اور گاڑیوں کی روشنی میں خیمے گاڑے گئے. عمران، شہباز اور فراز علی اس میں پیش پیش تھے. خیمے برابر پیمائش کے نہ تھے لہٰذا طے ہوا کہ تین اور پانچ افراد کے سونے کی ترتیب رہے گی. ہمارے خیمے میں فراز علی، عمران اور راقم السطور تھے اور باقی افراد دوسرے خیمے تھے. مگر دونوں جانب حالات کچھ یوں تھے کہ بقول شاعر
ع پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے
خیمے لگانے کے بعد منہ ہاتھ دھونے اور تازہ دم ہونےکی خاطر جب ہم غسل خانوں کی جانب گئے تو وہاں کی صفائی کا معیار دیکھ کر حیران رہ گئے کہ نہ تو وہاں پان کی پیکیں تھیں، نہ مخصوص فون نمبر اور نہ ہی اجنتا اور الورا کے نمونے. اسقدر صاف ستھرے غسل اور استنجا خانے تو ہم نے وطن کے پانچ ستاروں والے ہوٹلوں میں بھی نہیں دیکھے.
رات کے کھانے میں قیمہ اور روٹی تھی، کھانا کھا کر سو پڑے کہ اگلے دن پہاڑوں کی سیر کو جانا تھا.
جاری ہے

4 comments:

  1. M.Moiz Ullah khanApril 16, 2010 at 9:27 PM

    Alfaaz ka chunao,burmala tashbihaat aor manzur nigari kamaal ki hai....

    ReplyDelete
  2. very nice and interesting......anxiousily waiting for next episode....

    ReplyDelete
  3. Aisay Toilets ko use karnay ka faida???
    As Yousafi says. "Hamain Fahush Batoon kay bajai IMLA key Ghaltioon par ziada Ghussa aata"

    ReplyDelete