Wednesday, May 5, 2010

آسٹریلیا میں خیمہ زنی - آسٹریلیا کا بلند ترین مقام ہمارے قدموں تلے-5


ابھی ہم جنڈا بائین جھیل کی خوبصورتی کے سحر میں ہی تھے کہ کچھ 27 کلو میٹر کے فاصلے پر درہ شارلٹ ہمارا منتظر تھا. گو کہ ہمیں کوئی درہ تو دکھائی نہ دیا مگر اس مقام کی آسٹریلیا میں خاصی اہمیت ہے. اول یہ کہ یہ ملک کا سب سے بلند مقام ہے جو 1857میٹر کی بلندی رکھتا ہے اب اگر اس بلندی کو پاکستان کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو یہ ہماری ملکہ کوہسار مری سے بھی 400 میٹر کم ہے. اس مقام کی دوسری اہمیت اسکے برفیلے پہاڑ ہیں اور انہی برف پوش کوہ و بیاباں کی بدولت موسم سرما میں یہاں اسکینگ (یعنی برف پر پھلسنے کے کھیل) ہوتی ہے تیسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ مقام آسٹریلیا کیلیے بجلی پیدا کرنے کا منبع بھی ہے (اسکی تفصیل ہم آگے بیان کریں گے).
یہاں پہنچنے کے دوران کچھ کچھ مری جیسا سفر رہا جس میں سڑک کے ایک جانب پہاڑ تو دوسری جانب کھائی آ جاتی تھی. اونچائی کی وجہ سے اچھی خاصی سردی محسوس ہو رہی تھی. گاڑیوں سے اترتے ہی ایک کپکپی سی طاری ہو گئی. ہمارے جسم آہستہ آہستہ بیرونی درجہ حرارت کے عادی ہو گئے اور ہم یہاں چہل قدمی کرنے لگے. یہاں پر ایک صدیوں پرانا درخت تھا جسے مقدس مانا جاتا ہے اور عام عقیدہ ہے کہ اس پر مرنے والوں کی روحیں آتی ہیں. اس درخت کا رنگ آتشی گلابی تھا جو دیکھنے میں تو خاصا دلکش تھا مگر اس روایت کی بدولت پراسرار لگ رہا تھا. یہ جگہ کسی حد تک سطح مرتفع تھی جس کے دونوں جانب کھائیاں تھیں، سڑک سے ہٹ کر دوسری جانب ہموار ڈھلوانیں تھیں جن کو دیکھ کر بخوبی اندازہ ہوا کہ یہیں اسکینگ ہوتی ہو گی. یہاں تصویر کشی کے بہت سے مناظر تھے لہذا سب نے زاویے، پس منظر اور اندازبدل بدل کر تصاویر بنوائیں. کچھ لوگوں نے تو پوز کی خاطر گرم کپڑے اتار کر صرف ٹی شرٹ میں بھی تصویر کھینچوائی. کیونکہ یہاں پر گاڑی کی پارکنگ محدود دورانیے کی تھی اس وجہ سے آدھ گھنٹے سے کم وقت میں ہم دوبارہ گاڑیوں میں آن بیٹھے.
اب ہم اگلی منزل کی جانب اترے مقام کا نام تھا تھریڈ بو، یہ ایک کسی قدر تنگ سی وادی ہے جو جدید سہولتوں سے آراستہ ہے اور شمالا جنوبا پھیلی ہے. یہاں کافی تعداد میں سیاح آتے ہیں جس کے با عث یہ وادی پر رونق تھی. یہاں ایک لمبی سڑک پر مٹر گشت کیا اور کافی پی.
نماز ظہر کیلیے مقام کا انتخاب کیا اور عمران نے اذان دی، واڈی والا کی امامت میں سر بسجود ہوے، اقبال کی نظم شکوہ میں ہم نے افریقه کے تپتے ہوۓ صحراؤں اور یورپ کے کلیساؤں کے ساتھ آسٹریلیا کی وادیوں کا بھی اضافہ کر دیا. یہ اسی مالک کی دی ہوئی توفیق تھی جو ہمیں اس دیارغیر میں بھی اپنی رحمت کی لپیٹ میں لیے ہوے تھی، جس نے ہمیں اس قطعہ اراضی پر بھی اپنے ہونے کا یقین دلایا اور ہمارے یقین اور ایمان کی تازگی کو ایک نئی جلا بخشی. بقول مظفر وارثی
ع دکھائی بھی جو نہ دے نظر بھی جو آرہا ہے وہی خدا ہے
جب ہم تھریڈ بو سے کوما کیلیے روانہ ہوے تو شام کے ساے لمبے ہو رہے تھے، عصر واپس مقام خیمہ زنی پہنچ کر ادا کی، کچھ ہی دیر میں مغرب بھی پڑھی اور رات کے مرغ تکہ کی تیاری میں لگ گئے.
جاری ہے

2 comments:

  1. wahh !! itni sardi k kaanp rahe the log ,,,yeh sakht garmi main parh kar maza aya ! tasveer k sirf T Shrt pe bhi guzara hosakta hai ye bhi hairankun tha :) mager us maqadas darkht par yakeenan sunday ko rush lag jata hoga :D...khair bohat acha , informative aur refreshing hai ye blog ...god job srr (y)

    ReplyDelete
  2. i have some reservations about the language you chose to write.

    idea is good

    but there are mistakes in choosing the word for writing the script.

    ReplyDelete