Friday, May 14, 2010

آسٹریلیا میں خیمہ زنی - مقابلہ تصاویر کا اور واپسی-8


ہم سب آگے چل رہے تھے اور عمران صاحب کیمرہ ہاتھ میں لیے ہماری اور درختوں سے ڈھکی رہگزر کی تصویریں کھینچ رہے تھے، اسی لمحے تصویروں کی گنتی والی بات کہی گئی. ہم پہاڑ کی گول چکر کاٹ کر آگے بڑھے تو ہمارے سامنے ایک غار تھا جس کا دھانہ کافی بڑا. اس میں داخل ہوے تو ایک عجیب ہی منظر تھا اندر سے پہاڑ کی چھت میں ایک بہت بڑا سوراخ تھا اور اس سے آسمان صاف دکھائی دے رہا تھا، اس طرح کا منظر ہم نے کراچی میں پیرا ڈائز پوئنٹ پہ عمودی چٹان میں تو دیکھا تھا مگر یھاں افقی طور پر زندگی میں پہلی بار دیکھا. خیر اندر جانے پر گھپ اندھیرا تھا، اس اندھیرے میں کمی اس وقت آئی جب مدھم سے برقی قمقمے روشن دکھائی دیے. جب ہماری آنکھیں اندر کی اس مدھم روشنی سے مانوس ہوئیں تو ہم نے جانا کہ ہم ایک آہنی پل پر چل رہے تھے جو اسقدر چوڑا تھا کہ اس پر ایک وقت میں ایک ذی روح چل سکتا تھا. ماحول میں ٹھنڈک تھی اور ارد گرد چونے کی قلمیں تھیں جن سے پانی ٹپک رہا تھا اور عجب سا جلترنگ سنائی دے رہا تھا. یہاں درج معلومات پڑھنے سے پتہ چلا کہ قدیمی آسٹریلیائی باشندے ان غاروں میں رہا کرتے تھے اور شکار کی خاطر باہر نکلتے تھے. گویا کہ لغوی اعتبار سے پتھر کے دور کا منظر ہمارے سامنے تھا. چونے کی قلمیں مختلف رنگوں میں تھیں کہیں سفیداور کہیں ان میں پہاڑی عناصر کی بدولت سلیٹی رنگ نمایاں تھا. چند ایک مقامات پر ہمیں راستہ ٹٹول کر قدم رکھنا پڑے ایسے میں ایک جگہ ہمارا ہاتھ الٹے رخ پر چونے کی قلم پر پڑ گیا اور ہلکی سی خراش آ گئی اور چونا خون سے کیمیائی طور پر ملا تو 'چونا لگانے' کے محاورے کا اصل مطلب سمجھ آ گیا. جب ہم اس غار سے باہر نکلے تو سورج کی روشنی سے آنکھیں چندھیا گئیں. انہی چندھیائی آنکھوں نے ایک دیسی خاندان کو غار کی جانب جاتے دیکھا، اس میں شیر خوار سے لے کر انکل آنٹی کی عمر کے افراد تھے جو بات قابل دید و ذکر ہے وہ یہ کہ خاتون نے فیروزی رنگ کی شلوار قمیض زیب تن کی ہوئی تھی اور اس پر گلے سے لے کر دامن تک کام کیا ہوا تھا کہ جیسے کسی شادی کی تقریب سے آ رہی ہوں یا جانے والی ہوں. ہماری اس تفصیلی جزئیات نگاری پر اگر کسی کو کوئی اعتراض ہو تو ہم معذرت خواں ہیں مگر ہم نے جو دیکھا من و عن بیان کیا ہے.
یہاں سے نکلے اور شاہراہ نو ماؤنٹین کا سفر شروع کیا، پہلے ارادہ ہوا کہ مختصر راستہ (شارٹ کٹ) اختیار کیا جاے مگر جی پی ایس نے دھوکہ دیا اور ہمیں ایک عدد کچے راستے پر لے گیا، پھر تے پایا کہ شاہراہ نہ چھوڑی جاۓ اور کوما سے کینبرا کا وہی راستہ طے کیا جاۓ جس سے ہم یہاں تک آے تھے. لہٰذا ہم کوما کی طرف عازم سفر ہوے، کوما پہنچے تو ہمیں حسن، عمار، عثمان اور انکے دوست ملے جو گزشتہ رات ہی آے تھے اور آج جا رہے تھے. یہ بھی ہمارے محلہ دار ہیں اور یاسر انہی کے ساتھ رہتے ہیں. ہم نے یہاں سے گاڑیوں کی ٹنکیاں بھروا لیں اور بنا رکے دارالحکومت کینبرا جا کر دم لیا. دوسری گاری شہر میں ہم سے بچھڑ گئی اور اسلامک سنٹر جا پہنچی جبکہ ہم نے کینبرا مسجد میں ہی عصر اور مغرب ملا کر پڑھی. نماز کے بعد سڈنی جانے والی شاہرا ہ پر ملے اور طے کیا کہ اپنے اپنے طور پر سڈنی پہنچا جاتے، لہٰذا آزادانہ انداز سے گاڑیاں دوڑائی گئیں، ہم تو رہتے میں سو پڑے جب آنکھ کھلی تو سڈنی کے مضافات میں داخل ہو رہے تھے قریبا دس بجے گھر پہنچے، جب گاڑی سے اترے تو گاڑی کا میٹر 1428کلو میٹر کا کل طے کردہ فاصلہ بتا رہا تھا.

جھلکیاں
قیمہ دو دن تک کام آتا رہا.
خیمے گاڑنے میں سب نے تیزی دکھائی.
اذانوں اور نمازوں کا بقدر توفیق اہتمام رکھا گیا.
تصویروں کی گنتی میں فراز علی کا پہلا نمبر رہا.
واپسی میں عمران نے بھی گاڑی چلائی اور اس کا الکوحل ٹیسٹ بھی ہوا جو جناب نے پاس کر لیا.
سفر کے دوران سڑک پر جب کسی جانور کی لاش نظر آتی تو شہباز اور فراز علی کے درمیان بحث ہوتی کہ یہ کون سا جانور تھا، دونوں کے اس ماہرانہ بحث و مبا ہحثه پر ہمیں پابندی لگانا پڑی.
پورے سفر میں ہم زندہ کینگرو نہ دیکھ پاے البتہ مردہ کا نظارہ ضرور ہوا جو کسی گاڑی کے نیچے آگیا ہو گا.
وادی سنووئی ماونٹین کی اہمیت پر ایک بلاگ الگ سے لکھا جاے گا.
ختم شد

2 comments:

  1. MUHAMMAD MOIZULLAH KHANMay 15, 2010 at 10:54 AM

    parh kur mazah aaya..sir alfaaz k chunao per aap ko shabaash hai...pehley lug raha tha k zor sirf alfaaz per reh gaya ,mugr aesa nahi hai....tehreer bhi umdah hai

    ReplyDelete
  2. Ayaz Bhai..,,,,Great work just refreshed the whole journey......and after all I M the WINNER....in all

    ReplyDelete