Monday, May 17, 2010

رب کا شکر ادا کر بھائی

آج صبح بیدار ہونے پر فجر پڑھی، ایک دم سے خیال آیا کہ یہ روز و شب گذرتے جاتے ہیں اور ہم اپنی عمر کی چونتیس بہاریں تو دیکھ ہی چکے ہیں، مگر ان چونتیس برسوں میں اس پروردگار کا شکر کتنی بار بجا لاے. کسی نے سلام کیا اور حال پوچھا تو جواب سلام کے بعد ہم میں سے بہت سوں کا جملہ یہی ہوتا ہے 'الله کا شکر ہے' گو کہ یہ بھی ایک انداز ہے زبان سے شکر ادا کرنے کا. مگر ہم عملا رب کا شکر ادا نہیں کر رہے ہوتے. ایک ای میل شائد آپ لوگوں نے بھی پڑھی ہو اس مضمون کو تمثیلی انداز میں کچھ یوں بیان کرتی ہے کہ ایک شخص کو جنت کا دیدار ہوا وہاں مختلف شعبہ جات تھے کہ جہاں فرشتے کاموں پر معمور تھے. ایک شعبہ میں کافی رش دکھائی دیا تو اس شخص نے سوال کیا کہ یہاں پر اس قدر رش کیوں ہے اور آخر یہاں ہو کیا رہا ہے؟ جواب ملا کہ اس جگہ پر زمین سے لوگوں کی دعائیں آتی ہیں اور ان کو قلم بند کیا جاتا ہے. آگے بڑھنے پر دوسری جگہ بھی بہت سے فرشتے کام میں مصروف نظر آے، یہاں پر ان دعاؤں کے مطابق آرڈر تیار ہو رہا تھا اور زمین پر لوگوں تک انکی خواہشات کے مطابق ان کی حاجت روائی کا بندو بست کیا جا رہا تھا. اسی شعبہ میں آگے پڑھنے پر ایک کمرے میں ایک عدد فرشتہ با لکل فارغ بیٹھا دکھائی دیا تو اس شخص نے نہایت تعجب سے سوال کیا کہ تم خالی ہاتھ کیوں بیٹھے ہو کوئی کام کیوں نہیں کر رہے؟ فرشتے نے جواب دیا کہ میرا کام دعاؤں کے پورا ہونے کے بعد ان کی رسید درج کرنے کا ہے، زمین سے کوئی رسید موصول ہو گی تو میں اسے رجسٹر میں لکھوں گا نا !
سو ہمارا حال یہی ہے کہ ہم مالک سے تقاضہ کرتے ہیں کہ یہ اسی کی ہی شان ہے جس کو چاہے اور جسقدر چاہے نوازے. مگر جب باری شکر کی آتی ہے تو ہم سے یہ کلمہ ادا نہیں ہوتا. بچپن میں بڑوں سے ایک شعر سنا کرتے تھے اور اس وقت محظوظ ہوتے تھے کہ یہ کیسی بات ہے، شعر کچھ یوں تھا کہ
رب کا شکر ادا کر بھائی
جس نے ہماری گاے بنائی
وقت کے ساتھ ساتھ اس شعر کا مطلب سمجھ میں آتا گیا کہ شکر ادا کرنا ایسا ہی ہے جیسے سانس لینا کیونکہ یہ سانس کا نظام بھی اگر بے ترتیب ہو جاے تو یہ وجود کسی قابل نہیں رہتا. ہم کوئی عالم تو نہیں ہیں مگر الله سے تعلق کی بابت اتنا ضرور محسوس کرتے ہیں کہ جو مالک ہمارے ساتھ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قربت رکھتا ہے وہ کبھی بھی کسی پر اسکی استطاعت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا اور نہ ہی اسے تنہا چھوڑتا ہے. اور نہیں تو کم از کم ہم نماز پنجگانہ میں اس مالک کے سامنے ایک انداز سے شکر تو بجا لا سکتے ہیں لہٰذا اس کا اہتمام ضروری ہے.
ہر حال میں رہا جو ترا آسرا مجھے
مایوس کر سکا نہ ہجوم بلا مجھے
اسی مالک کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں یہ سطورلکھنے اور آپ کو پڑھنے کی توفیق دی.
کسی کو تاج وقار بخشے، کسی کو ذلت کے غار بخشے
جو سب کے ماتھے پہ مہر قدرت لگا رہا ہے وہی خدا ہے

7 comments:

  1. very creative and interesting......

    ReplyDelete
  2. Nice allah well know about his creation so he wrote in the QURAN many years ago K BESHAK INSAN NASHUKRA HE

    ReplyDelete
  3. Jazak Allah to all,
    @Aasma: quite true

    ReplyDelete
  4. Very nice. Like it ! : )

    ReplyDelete
  5. Soo True....We should thanks Allah for the blessing bestowed.

    ReplyDelete