Friday, May 28, 2010

بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے

داغ دل ہم کو یاد آنے لگے،
لوگ اپنے دیے جلانے لگے،
پس منظر میں اقبال بانو کی پر سوز آواز میں باقی صدیقی کی غزل بج رہی تھی، سرمد اس غزل کو بار بار سنے جا رہا تھا. آج پھر وہ ماضی میں کھویا ہوا تھا.

یہ ان دنوں کی بات تھی جب وہ یونیور سٹی میں پڑھتا تھا. سیکنڈ ائیر میں آتے ہی اسکی دوستی سارہ نامی ایک لڑکی سے ہو گئی تھی، ابتدا میں یہ دونوں گروپ میں مل کر پڑھتے تھے مگر آھستہ آھستہ دونوں ایک دوسرے کے قریب آتے چلے گیے. معاملہ نوٹس کے لین دین سے کارڈز کے تبادلے تک جا پہنچا اور با لآخر ایک روز سرمد نے سارہ سے اپنے دل کی بات کہ ہی ڈالی. ادھر بھی یہی حال تھا جیسا ادھر کا سماں تھا، یوں چہار سو رنگ بکھرنے لگے اور دونوں کو زندگی حسیں لگنے لگی کہ جیسے ان دونوں نے اپنی اپنی منزل پا لی ہو. دھیرے دھیرے ان کے گروپ کے قریبا سب لوگوں کو ان کی محبت کا پتہ چل گیا کہ عشق اور مشک چھپاے نہیں چھپتے.

'ارے بھئی تم یونیور سٹی پڑھنے آتے ہو یا عشق جھاڑنے' سرمد نے اپنے دوستوں کو قدرے سخت لہجے میں ڈانٹا. 'چھوڑو یار سرمد، تم تو جذباتی ہو جاتے ہو ایک دم، اب کوئی خود ہی لائن دے تو ہم کیا کریں.' زبیر نے اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی مگر سرمد اس کے جملے پر اور بھڑک اٹھا. 'یہ جو لائن دینے والی لڑکیاں اور تم جیسے لڑکے ہیں ان کا یہی مقصدہوتا ہے یونیور سٹیآ کے صرف وقت گزارنا ' اور پھر یہی سرمد جب سارہ کی زلفوں کا اسیر ہوا تو زبیر اسے وہ لمحات یاد دلاتا کہ جب وہ کسی لڑکی کو دیکھ کر کوئی جلمہ کہنے پر غضبناک ہو جاتا تھا. خیر یہ معاملے دل کے تھے کہ کسی پر کبھی بھی آسکتا ہے. مخلوط تعلیم کا اثر کسی طور تو ظاہر ہونا ہی تھا.
امتحانات میں ایسا ہوتا کہ سرمد اپنے نوٹس سارہ کو دے رہا ہوتا اور ادھر سارہ کچھ سرمد کی مدد کرتی، عام طور پر لڑکیاں پڑھاکو سمجھی جاتی ہیں یا کم از کم محنتی ہوتی ہے مگر سارہ میں یہ دونوں خصوصیات ناپید تھیں، انٹر میں بھی بس جیسے تیسے پڑھ لیا تھا اور اب پولیٹیکل سائنس میں پڑھتی تھی کہ اس میں رٹا لگایا جاسکتا تھا. سرمد شروع سےہی محنتی تھا مگر بدقسمتی سےکبھی اچھے نمبر نہیں لے پاتا تھا یوں غربت اور کم نمبروں کی وجہ سے آرٹس پڑھنے پر مجبور تھا. بی کام کا اسکا رجحان بالکل بھی نہیں تھا ورنہ دیگر لڑکوں کی طرح یہ انتخاب موجود تھا.

سارہ ایک امیر زادی تھی اور شوقیہ پڑھ رہی تھی، سرمد میں یوں دلچسپی لینا محض وقت گزارنا اور یونیورسٹی میں اپنے ساتھ ایک محافظ رکھنا تھا. سارہ کی پرانی سہیلیاں یہ بات اچھی طرح جانتی تھیں کہ سارہ، سرمد کے ساتھ کتنی سنجیدہ ہے. ادھر سرمد دل و جان سے سارہ کا خیال رکھتا اور اس کیلیے یہ تعلق زندگی کا اہم ترین رشتہ تھا.
ایسا نہیں ہے کہ معاشرہ میں اس عمر کے سب لڑکے لڑکیاں ایسی ہی سوچ رکھتے ہیں یا ایسا ہی عمل کرتے ہیں مگر اتنا ضرور ہے کہ کسی نہ کسی حد تک ہر کوئی اس دور سے گزرتا ضرور ہے. اب یہ بات الگ ہے کہ کس کا دامن کتنا بھیگتا ہے اور کس پر ماحول کا کتنا اثر ہوتا ہے. نیکوں کے یہاں بد اور بدوں کے یہاں نیک پیدا ہوتے آے ہیں، آذر کے گھر میں ابراھیم اور نوح کے گھر میں یام پیدا ہوے، مگر یہ بھی سچ ہے کہ ماہ کنعان میں محو ہونے والی زلیخا ہی تھی. یوں آدم و حوا کا ازلی تعلق فطرت پر ہی قائم ہے. بات صرف اتنی سی ہے کہ یہ تعلق احکام الہی کے مطابق ہی حسین لگتا ہے ورنہ نہایت قبیح و بدنما بن جاتا ہے.

بالآخر وہی ہوا کہ سرمد اور سارہ کی محبت کی بیل پروان نہ چڑھ سکی، سمسٹر کے بعد ان دونوں میں کوئی رابطہ نہ رہا، سیکنڈ ائیر کا نتیجہ آنے سے پہلے ہی سارہ کی شادی ہو گئی اور وہ امریکہ جا بسی. سرمد کیلیے یہ خبر کسی بم کے دھماکے سے کم نہ تھی وہ ذہنی طور پر اسقدر کرب و پستی کا شکار ہوا کہ پڑھائی چھوڑ دی اور ایک دفتر میں معمولی سی نوکری کرنے لگا. اس دفتر میں اسے اپنے والد کی وجہ سے کام ملا تھا کیونکہ وہ یہاں سے حال ہی میں ریٹائر ہوے تھے. سرمد عارضی طور پر یہاں رکھا گیا تھا. سرمد نے اپنے رجحان کے بر خلاف بی کام کا امتحان دے ڈالا اور نتیجہ آنے پر اسے دفتر میں مستقل کر دیا گیا، اسی دوران اسکا ارادہ سی ایس ایس کے امتحان میں بیٹھنے کا ہوا اور دو سال کے اندر اندر تیاری کر کے وہ نا صرف یہ کہ مقابلہ کے امتحان میں کامیاب ہوا بلکہ صوبہ بھر میں امتیازی نمبر حاصل کیے، یہاں اس کی خوش قسمتی نے کام دکھایا اور اسے وزارت خارجہ میں ایک اہم عہد ہ پر فائز کیا گیا. جیسے ہی اس کی تعیناتی اسلام آباد میں ہونے لگی اسکی ماں نے اسکی شادی کر دی . سدرہ نہایت اچھی شریک حیات ثابت ہوئی اور ان کی زندگی پرسکون گزارنے لگی.

شادی کے پہلے ہی برس میں اسے سرکاری دورے پر امریکہ جانا پڑا، سرمد، سدرہ کو بھی ساتھ لے گیا. ان کا قیام نیو یارک میں تھا. ایک شام ہوٹل سے دونوں چل قدمی کیلیے مین ہٹن کے مرکزی پارک کی طرف نکل پڑے. یہاں اچھی خاصی رونق تھی اور ہر عمر کے افراد دکھائی دے رہے تھے. یہ دونوں بھی ایک بنچ پر آن بیٹھے اور باتیں کرنے لگے.اتنے میں ایک گیند ان کے قریب آ گری، اس گیند کو لینے کیلیے ایک تین چار برس کا بچہ دوڑتا ہوا آیا. گیند سرمد کے پاس آکر گری تھی تو اس نے اٹھا لی، اتنے میں بچہ اسکے قریب آکر بولا 'مے آئی ہیو مائی بال پلیز' سرمد نے گیند اسے دے دی. پیچھے سے اسکی ماں اسے بلانے چلی آئی سرمد کی نظر ایک لمحے کو اسکی جانب اٹھی وہ اسے ایک نظر میں ہی پہچان گیا تھا، وہ کوئی اور نہیں سارہ ہی تھی. سارہ نے اسے نہیں دیکھا تھا، کیونکہ اسکی توجہ اپنے بیٹے پر تھی.
اس رات وہ دیر تک جاگتا رہا اور باقی صدیقی کی غزل سنتا رہا ساتھ ہی اپنی ڈائری لکھتا رہا سی ڈی پلئیر کی آواز اس کے کانوں تک آ رہی تھی
خود فریبی سی خود فریبی ہے، پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے
اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں، ہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے

سدرہ سو رہی تھی اور غزل شاید آٹھویں باربج رہی تھی. رات کے آخری پہر میں اسکی آنکھ لگ گئی. اگلے دن وہ دفتری مصروفیت سے فارغ تھا اور مطمئن تھا کہ آج سدرہ کو شاپنگ پر لے جاے گا. ناشتہ کے بعد سدرہ کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی. وہ اسے فورا قریبی ہسپتال لے گیا وہاں ابتدائی معا ئنہ کے بعد اسے انتظار کرنے کا کہا گیا اور سدرہ کو لیڈی ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا گیا. انتظار گاہ میں ایک عورت بیٹھی رو رہی تھی. سرمد چکرا کر رہ گیا کہ یہ کیسا گورکھ دھندہ ہے کہ ہر جگہ اسے وہی دکھائی دیتی ہے. مگر یہ اسکا گمان نہیں حقیقت تھی کہ وہ رونے والی عورت سارہ ہی تھی، اب کی بار سارہ نے بھی اسے دیکھا اور پہچان گئی.
'کیا ہوا ہے سارہ، کیوں رو رہی ہو؟' وہ گویا ہوا. 'وہ عدم' وہ اتنا ہی کہ پائی اور زاروقطار رودی. سرمد نے اسے دلاسہ دیا اور پوچھا 'کون عدم! تمہارا بیٹا؟ کیا ہوا اس کو؟'. 'وہ سیڑھوں سے گر گیا ہے اور سر پھٹ گیا ہے اسکا، خوب خون نکلا ہے.' وہ بمشکل جملہ مکمل کر سکی. سرمد یہ سن کر پریشان ہو گیا، کیونکہ سارہ کے ساتھ کوئی اور دکھائی نہیں دے رہا تھا. انتظارگاہ کے کیفے سے وہ اسکے لیے جوس لے آیا. اس نے پینے سے انکار کیا مگر سرمد کے سمجھانے پر پینے لگی، اب وہ کسی حد تک چپ ہو چکی تھی. سرمد اسکے سامنے والی بنچ پر بیٹھ گیا. سارہ نے پوچھا 'تم یہاں کیسے؟' 'اندر میری بیوی سدرہ کا چیک اپ چل رہا ہے ہے.' سرمد نے جواب دیا. 'کب کی شادی تم نے؟' سارہ نے پوچھا. 'اسی سال.' سرمد نے مختصر سا جواب دیا.

ہسمپتال کی اس انتظار گاہ اور اپنی یونیورسٹی کے زمان و مکان میں دوری کےباوجود تقدیر نے انکو ایک ہی وقت اور مقام پر لا ملایا تھا کہ جسکا تصور ان دونوں کے ذہن کے بعید ترین گوشوں میں بھی نہ تھا. انسان کتنا ہی ایک دوسرے سے بھاگتا پھرے یا چھپنے کی کوشش کرے یہ دنیا بہت چھوٹی ہے اور کبھی نا کبھی کہیں نہ کہیں آمنا سامنا ہو ہی جاتا ہے.

سدرہ کو شاید تفصیلی معا ئنہ کی ضرورت تھی. ادھر عدم کے بھی ٹانکے لگنے تھے اور سارہ کو بتا دیا گیا تھا کہ وہ انتظار کرے کیونکہ عدم کو سکون کا انجکشن دیا گیا تھا، یوں ان دونوں کے پاس کرنے کو اور کچھ نہیں تھا. 'تمہارا شوہر کیوں نہیں آیا؟' سرمد نے سوال کیا. سارہ کے چہرے پر کرب و سکون کے ملے جلے سے جذبات نمودار ہے، 'وہ مر چکا ہے' سارہ نے اپنا سر کرسی کی ٹیک پر سہارتے ہوے جواب دیا. سرمد کے منہ سے بے اختیار آہ نکلی. 'میری زندگی کے یہ پانچ سال جس تکلیف میں گزرے ہے وہ میں ہی جانتی ہوں اور کیوں نہ گزرتے میں نے تمہیں دھوکہ جو دیا تھا، تمہارا دل دکھایا تھا.' سارہ کی زبان پر پشیمانی کے الفاظ آ ہی گئے. 'ایوب ایک بد قماش شخص نکلا، میرے پاپا نے اسکی دولت دیکھتے ہوے میری شادی اس سے کی. جس سے انکو کاروبار کی شراکت میں فائدہ ہوا کیونکہ ایوب کے انکے شراکت داروں کے ساتھ مراسم تھے. یہاں آکر پتہ چلا کہ اس کے مراسم بازاری عورتوں سے بھی تھے. اگر ایوب کے ضعیف والدین کا خیال نہ ہوتا تو میں شروع میں ہی اسے چھوڑ چکی ہوتی. اسکی موت نے خود ہی یہ قصہ تمام کر دیا.' وہ برسوں کا فاصلہ جلموں میں طے کرتی گئی. 'مجھے معاف کر دینا سرمد میں سوچتی تھی کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا تو جواب میں تمہارا ہی خیال آتا تھا.'

سرمد کے پاس اس کےسوا کہنے کو کچھ نہ تھا 'میں نے تمہیں معاف کیا سارہ'

اتنے میں سرمد کو بلا لیا گیا سدرہ کا چیک اپ ہو چکا تھا اور خبر خوشی کی تھی کہ انکے آنگن میں ننھا پھول کھلنے والا تھا. یہ دونوں خوشی سے نہال باہر نکلے تو سامنے سارہ بیٹھی تھی. سرمد نے دونوں کا تعارف کرایا، 'سدرہ یہ سارہ ہے میرے ساتھ یونیورسٹی میں تھی، اور یہ میری بیوی سدرہ ہے.' اتنے میں سارہ کو بلا لیا گیا اور وہ اپنے بیٹے کو دیکھنے دوڑی گئی. سرمد اور سدرہ نے باہر کی راہ لی. گاڑی میں بیٹھتے ہوے سدرہ بولی 'اگر بیٹی ہوئی تو اسکا نام سارہ رکھیں گے' سرمد چونک سا گیا. 'صبح میں نے آپکی ڈائری پڑھ لی تھی جب آپ غسل خانے میں تھے.' سدرہ نے اقرار کیا اور سرمد مسکرا کر رہ گیا اس کے ذہن میں باقی صدیقی کی غزل کا شعر گونجنے لگا
ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے، بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے

13 comments:

  1. simply worthwhile bht khoob

    ReplyDelete
  2. heart touching story. alfaaz ka chunao bhi khoob hai

    ReplyDelete
  3. gud sir.
    new afsanay ka bari shidat say intezar hay,

    ReplyDelete
  4. Yeh blog meri nazar se ojhal hogaya tha, thats y m commenting l8.. its v.nice! blog parhte parhte.. mere mind me video chalne lagi thi :)

    ReplyDelete
  5. Sir yeh tu bohat hi khoob likkha hai aap nay...
    Wesay aisay waaqiyat aksar sun'nay ko miltay hain University k andar...

    ReplyDelete
  6. is ki next episode ka mujhey bay hadd shidatt se intezar hai....next episode ki release date kya hai?

    ReplyDelete
  7. محترم نا معلوم صاحب یا صاحبہ، بہت شکریہ کہ آپ نے افسانہ پسند کیا، مگر افسانے میں اختتام ایسا ہی ہوتا ہے، یہ سلسلہ وار نہیں ہے۔

    ReplyDelete
  8. Wah bhyeee sir! awesome ! :D
    kuch differnet parh k maza aaya! :D

    ReplyDelete
  9. v nice but one thing came to my mind " bohot bara dil tha sidra ka " .

    ReplyDelete
  10. Wow....."barsoon ka fasla...jumloon mein tay karna"....bohat khob....behtreen gazal par bhtreen afsana....I love.....aik pal mein wahan se hum outhay...........<3

    ReplyDelete