Saturday, May 29, 2010

تابش نے مچھلی تلی

آج عمران کے ساتھ سودا سلف کی خریداری کر رہے تھے کہ تابش کا فون آیا، موصوف نے مچھلی لانے کی فرمائش کی اور تاکید کی کہ سردخانے یعنی فرج کی اور صاف کی ہوئی ہو. دراصل آج تابش کے ہی کھانا پکانے کی باری تھی، اس وجہ سے ان کی بات ماننا پڑی. خوش قسمتی سے ان کی مطلوبہ مچھلی مل گئی اور ہم نے دو کلو مچھلی کے ساتھ شان لاہوری مچھلی مصالحے کے دو عدد پیکٹ بھی خریدے کیونکہ یہ بھی فرمائش میں شامل تھا. آج رات کے کھانے میں کچھ منفرد ہونے والا تھا. ہم نے اپنے سڈنی کے 9 ماہ کے اب تک کے قیام میں مچھلی کھائی تو ضرور مگر گھر میں بنا کر نہیں کھائی تھی.

گھر آتے ہی تابش نے مچھلی گرم پانی میں نرم کر کے مصالحہ لگا کر چھوڑ دی. شام میں ارادہ یہ ہوا کہ مچھلی کے ساتھ دہی کا رائتہ اور چاول بنا لیے جائیں. باسی نہاری کا شوربہ موجود تھا تو اس میں ہم نے چاول بنانے کا فیصلہ کیا. فراز نے رائتہ بنایا اور پراٹھےسینکے. ہم نے نہاری کے شوربہ میں پانی بڑھا کر کچھ نمک مرچ ڈالی اور پہلے سے بھگوے ہوے چاول ڈال کر بنا لیے. ہم تو ایک طرف ہو گئے اصل کام تابش نے کیا اور کم تیل میں ہلکی آنچ پر مچھلی تلی. جیسے ہی مچھلی کے چند قتلے تل کر تیل سے نکلے ہم نے بے صبری سےایک قتلہ چکھا مزہ ناقابل اعتبارحد تک اچھا تھا. خیر دل پر پتھر رکھکر انتظار کیا کہ ساری مچھلی تل لی جاۓ. تابش نے مچھلی تین تھالیوں میں ٹشو پیپر پر نکالی اور ہم نے کھانے کی میز سجائی.

ویسے تو ہمارے یہاں اکثر رات کے کھانے پہ ایسا ہی اہتمام ہوتا ہے مگر چھٹی کے روز تو اس قسم کا کھانا پکانا اور کھانا تفریح کا درجہ رکھتا ہے. ابھی کھانا لگا ہی تھا کہ ایک مہمان بھی آ گئے یہ الله کا خاص کرم رہا ہے کہ ہمارے یہاں ساتھ کھانے سے برکت رہتی ہے اور اضافی فرد یا افراد سے اس میں مزید اضافہ ہوتا ہے. کھانے کی میز پر چھے افراد نے پیٹ بھر کر کھایا اور شہباز کا حصہ پہلے ہی الگ کر دیا گیا. کھانے کے بعد احمد کراچی کا ملتانی سوہن حلوہ بھی (سڈنی میں) کھایا جو ہمیں آج تحفہ کے طور پربنگالی بھائی (دکاندار) نے دیا تھا. جس دوران یہ سطورلکھی جا رہی ہیں کافی بنائی جا رہی ہے جو احسن بنا رہے ہیں. امید ہے کہ جب یہ بلاگ پوسٹ ہو گا ہم کافی پی رہے ہوں گے. قارئین اس بلاگ میں تصویروں سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں. ان تصویروں سے ہمارے جملوں کی حقیقت مزید آشکارا ہو گی.

الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے دستر خوان اور دل کشادہ کرے, آمین

.آپ لوگ تصاویر ملاحظہ فرمائیں ہماری کافی آ گئی ہے

کھانے کی میز پر تابش گٹار کیساتھ

کھانا سجی ہوئی میز

فراز پراٹھا اچھالتے ہوے

تابش کی خوشی دیکھنے والی ہے، مچھلی کی تھالیاں ہاتھ میں

مچھلی تلی جارہی ہے
ہمارے دواعلی خانسامے جن کو پردیس نے کھانا پکانا سکھایا

13 comments:

  1. yeah nehari walay chawal i for sure want to try baki sub to zindagi mein kahaya howa hai per yeah scene nahie kia hai ab tak.parhate r looking nice.

    ReplyDelete
  2. devil's looks about. buri niyyat se dekh raha he

    ReplyDelete
  3. waaaoooo...i wish i was there....

    ReplyDelete
  4. machli ley loooo..........

    ReplyDelete
  5. ahem ahem. kya humare jaane ka intezaar horha tha ?

    Fahad Elahi

    ReplyDelete
  6. WAOW ! KIA MAZEY HAIN BHAE ! n parathe uchalna is a great art ;) wud lov to learn tht :D n ye nihari wale chawal !!! kia un ka maza bhi NAQABL E AITBAAR HAD TAK acha tha ....yakeen nahin araha waise :P....mager ye blog wid pics ka idea kaafi acha n intersting hai (y)

    ReplyDelete
  7. In khusosiat sy hum lailm thy....hehe :)
    -Farooq

    ReplyDelete
  8. Good one... and better replacement of FB

    Shahbaz Akhtar

    ReplyDelete
  9. Wow! Sir!! Its such a wonderful and delicious blog =P !!! >>Rafia Imtiaz<<

    ReplyDelete
  10. nehari walay chawal ki situation mujhay pata hay sir.yahan bhi aisi new dishes invent hoti rehti hain.:)

    ReplyDelete
  11. hmmm..interesting :) achi new new chezen invent hori hain! n i agree wid u areeba, that blog wid picturez, its awsome ideA! maza dobala hogaya blog ka!

    Life ka asal maza to ap log le rahe hain, new new inventionz kar k! its gr8.. i like it!

    ReplyDelete
  12. Wah sir! zabrst! (:

    ReplyDelete