Tuesday, June 1, 2010

اف اف مرچی


اس بلاگ کے عنوان سے آپ لوگ کہیں یہ نہ سمجھیں کہ ہم کسی گانے کی بابت کچھ بیان کرنے والے ہیں. دراصل ہم مرچی یعنی مرچ پر ہی اظہار خیال کی جسارت کر بیٹھے ہیں، ہم یہ بلاگ ان تمام مرچی پسند اور زبان کے چٹخارے لینے والے چٹوروں کے نام کرتے ہیں جو بقول شاعر یوں کہتے ہیں کہ (روح غالب سے معذرت کے ساتھ)
ع نہ ہو مرچ تو کھانے کا مزہ کیا

ایسے افراد کا جائزہ لینے سے پیشتر ہم مرچوں پر کچھ روشنی ڈالنا چاہیں گے. کہا جاتا ہے کہ یہ پھل یا سبزی امریکہ سے تعلق رکھتی ہے اور 7500 ق م سے وہاں اگائی اور استمعال کی جاتی رہی ہے. آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق مرچ کے استعمال کے 6000 ق م پرانے شواہد ملک اکواڈر سے ملے ہیں. کولبمس نے جب امریکہ دریافت کیا تو دیگر اشیا کی طرح مرچ بھی دریافت ہو گئی یوں یہ اندلس آن پہنچی اور پھر مشرق بعید سے ہوتی ہوئی برصغیر میں داخل ہوئی. ایک اور روایت کے مطابق یہ براستہ پرتگال برصغیرلائی گئی. خیر راستہ کچھ بھی اور لانے والا کوئی بھی ہو مرچ کے ذائقہ پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا.

اب آتے ہیں مرچ خوروں کی جانب، ان میں سے چند ایک تو آجکل ہمارے اردگرد ہیں بلکہ یوں کہنا بہتر ہوگا کہ ہم ان کے درمیان ہیں. ہم نے شروع شروع میں کھانا بنایا تو مرچوں پر ہاتھ ہلکا رکھا مگر کچھ ہی دنوں میں اندازہ ہو گیا کہ ہمارے ان کرم فرماؤں کے درمیان رہنے کیلیے اپنی زبان میں چاشنی بھلے نہ ہو کھانوں میں مرچیں ضروری ہیں. اور ہم کہ جو مرچ کے نام سے ہی مرچیلے ہو جاتے تھے اب اپنے معدہ کو اسقدر مرچ زدہ کر چکے ہیں کہ ایاز امین سے ایاز مرچوی ہو چکے ہیں.
ہمارے سڈنی کے ساتھیوں میں سے ایک صاحب کو فشار خون کی شکایات ہے تو وہ اس بلند دوران لہو پر بند کھانے میں نمک گھٹا کرمرچ بڑھانے سے باندھتے ہیں گویا بقول غالب 'آبلوں پر حنا باندھتے ہیں'. ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ہمیں ان کا فون موصول ہوا کہ کہ فوری سوال کا جواب دیں کہ اگر کھانےمیں مرچ زیادہ ہو جاے تو کیا کیا جاے. ان کی محبت ہے کہ یہ ہمارا خاص خیال رکھتے ہیں کہ کہیں مرچ بہت زیادہ نہ ہو جاۓ، یہاں زور بہت پر ہے.

ایک اور ہمدرد بھی ہیں کہ ان کو مرچیں رونق کا باعث لگتی ہیں اور یہ کھانوں کو رونق بخشنے کیلیے کبھی سرخ، کبھی سبز اور کبھی سیاہ (مرچ سپید ابھی ہمارے یہاں استمعال نہیں ہوتی) مرچوں کا استمعال اسقدر بےدریغ کرتے ہیں کہ جیسے یہ مرچیں زندگی میں آخری بار استمعال کر رہے ہوں. کہاوت ہے کہ 'کھاؤ من بھاتا اور پہنو جگ بھاتا' مگر ہمارے ان مرچ پسند بھائیوں کا من بھاتا کھانا مرچوں سے بھرپور ہوتا ہے. ان کا نعرہ ہے کہ 'مرچ کھپے اسان کھے مرچ کھپے'

جب ہم اس بلاگ کو لکھنے کا ارادہ کر رہے تھے تو ہم نے وکی پیڈیا پر مرچ کے متعلق معلومات پڑھی (اور اس میں سے کافی باتیں یہاں بیان بھی کی گئی ہیں) ان تفصیلات میں یہ بھی درج تھا کہ مرچ کے فوائد بھی ہیں، جیسا کہ زہر تریاق کا درجہ بھی رکھتا ہے اسی طرح مرچ السر کا علاج بھی ہے اور اس سے موٹاپے پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے. اس سے پہلے کہ مرچ پسند موٹے خواتین و حضرات اس بات پر خوش ہوں ہم یہ بتاتے چلیں کہ یہ تجربات چوہوں پر کیے گئے ہیں. ہاں مرچ کے نقصانات میں معدہ کے سرطان اور بڑی آنت کی بیماریاں شامل ہیں.

بات یہ ہے کہ کسی بھی چیز کی زیادتی اور کمی اگر ایک خاص حد سے تجاوز کر جاے تو مسائل جنم لیتے ہیں. سو معملات میں میانہ روی کا حکم دیا گیا ہے.

(ہمارے اس بلاگ سے اگر کسی مرچ پسند کے دل کو ٹھیس پہنچی ہو تو ہم اس پر معزرت خواہ ہیں)

8 comments:

  1. The picture pasted was captured by the writer and these green chilies were plucked from the backyard garden of parents' place.

    ReplyDelete
  2. sirbaat sahi hai zadfa mirchain khana suicide kern hai. lekin kuch logon ka kehna hai ke marna to hai hi to na kha ker marnay se behtar hai kha ker marna.
    khair mirchain to mujhay bhi pasand hain but very rarely.

    ReplyDelete
  3. WAH KIA BAAT HAI ! KAAFI MIRCHILA BLOG THA ....MAZA AYA PARH K :)

    ReplyDelete
  4. this is one of my fav. !!!!!

    ReplyDelete
  5. hmm.. i also a mirchi lover :) mere hath k banay huye khano me har tarhan ki mirchi milti hain khane walon ko, lawlzz.. ;)

    ReplyDelete
  6. good one !! a different topic and a different thoughts..it is interesting !! :)

    ReplyDelete
  7. Bohat Khoob bohat accha blog tha.....Proud to be a Mirchi Lover...;)
    Mirch na ho tu main khaana hi nahi kha sakta...:-D

    ReplyDelete
  8. Well written article as usual.
    your essays arent just random posts but I think collection of literature would be a better word. It seems you are highly inspired of Urdu authors.

    ReplyDelete