Thursday, June 10, 2010

جوتا نامہ

تازہ ترین خبر کے مطابق آرمینیہ کی ایک عدد غار میں کھدائی کے دوران ایک جوتا برآمد ہوا ہے، جس پر تحقیق جاری ہے. کاربن ڈیٹنگ سے معلوم ہونے والی عمر لگ بھگ ساڑھے پانچ ہزار سال بتائی جا رہی ہے. یعنی کہ احرام مصر سے بھی ایک ہزار سال قدیم. آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق یہ جوتا گاے کی کھال سے بنایا گیا ہے. اس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ بےجوڑ چمڑے سے تخلیق کیا گیا تھا. اور اس میں تسمہ بھی چمڑے کا استمعال کیا گیا ہے. آج کے دور کے جوتا ساز بھی اس جوتے پر تبصرہ فرما رہے ہیں. کچھ کے مطابق یہ پہن کر سیا گیا ہوگا. اس پر دھیان بے اختیار ان حسینوں کی طرف جاتا ہے جو لباس کے ساتھ بھی ایسا ہی برتاؤ کرتے ہیں.

ابھی تک اس جوتے کے مالک یا مالکہ کے بارے میں کوئی بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی. تاثر کچھ ایسا ہے کہ اس سات نمبر کے مکیشن نما جوتے کی مالک کوئی خاتون رہی ہوں گی. خیر یہ اور اس جیسی بہت سی قیاس آرائیاں جاری ہیں. ہم اس سوچ میں ہیں کہ شکر ہے کہ ابھی تک ایسی سائنس دریافت نہیں ہوئی جو اس جوتے کے مالک، چرم ساز یا اس گاے کے چال چلن پر روشنی ڈال سکے جس کی یہ باقیات ہیں. ہمارے مطابق اس دور میں اس جوتے کے مالک کو نہ تو نوکری کی تلاش تھی نہ ہی رشتے کی ورنہ یہ جوتا بھی دیگر بہت سے محاوراتی جوتوں کی مانند کب کا گھس گیا ہوتا.

شکل سے یہ جوتا بنا نوک کا لگتا ہے لیہذا کسی کو اس کی نوک پر بھی نہیں رکھا جا سکتا ہوگا. اس جوتے پردال کے نشانات بھی نہیں ہیں تو اس میں دال بھی نہیں بٹتی ہو گی. اس کے دوسرے جوڑی دار کا بھی کچھ نہیں پتہ گویا یہ جوتا کسی کام کا نہیں کیونکہ کچھ چیزیں جوڑوں میں ہی مکمل ہوتی ہیں اکائی کے طور پر ان کی کوئی حثییت نہیں ہوتی.بظاھر یہ دائیں پیر کا جوتا دکھتا ہے. مگرپیر کا معلوم ہونا یا نہ معلوم ہونا کوئی اتنی بڑی بات نہیں. پاکستان میں بننے والے کھسوں میں بھی دائیں بائیں کا پتہ نہیں چلتا اور اگر چل جاے تو آسانی رہتی ہے ورنہ ادل بدل کر بھی پہن سکتے ہیں.

ایک قیاس یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ یہ جوتا کسی دولہے کی ہمشیرہ نسبتی یعنی سالی کے ہاتھ لگا ہوگا اور سالی نے اتنی رقم کا مطالبہ کیا ہوگا کہ دولہا آدھی ہی دے سکا ہوگا اور یوں ایک پیر میں ہی جوتا پہن سکا اور سالی نے اس جوتے کو ایسا چھپایا کہ ساڑھے پانچ ہزار سال تک کسی کے ہاتھ نہ لگا.

اس جوتے کی دریافت پر اکبر الہ آبادی یاد آ رہے ہیں کہ انہوں نے جوتے کو بھی شعر میں استمعال کیا ہے فرماتے ہیں
بوٹ ڈاسن نے بنایا میں نے اک مضمون لکھا
ملک میں مضمون نہ پھیلا اور جوتا چل گیا
یہ جوتا ہم کو اتنا چلا ہوا نہیں لگتا ورنہ چل کر نہ جانے کہاں سے کہاں نکل گیا ہوتا اور یوں اتنی مدت بعد دریافت نہ ہوتا. ویسے اگر اکبر الہ آبادی مضمون جوتے پر لکھتے تو ہمیں امید ہے کہ وہ کسی حد تک چل جاتا. جیسے ہمارا یہ بلاگ انٹرنیٹ پر کچھ نہ کچھ تو چلے گا ہی.

8 comments:

  1. It is requested to readers that kindly leave your comments if you find time to read the blog. Your comments are really precious for the writer.
    Thanks

    ReplyDelete
  2. zabardast sir, aap ne to bohat saray options de diye research ke. just kidding..

    waisay yeh agar yeh pehan ker sila hoga to utara kaisay gya hoga.

    ReplyDelete
  3. Uzma...
    wah sir...zabaradt! :)
    ek jOtay ki inni sari kahaniyan :p

    ReplyDelete
  4. aik jootay k peeche kitnay raaz hosakte hain ye aap nay kaafi achi tarha btaya sr .... mushtaq ahmed yousufi bhi parhtay tou hairan reh jaatay aur soch main par jaatay k kahin ye likhne wale ka khud ka joota tou nahin tha :D

    ReplyDelete
  5. sir this is amazing..... u hv creativity....u always come up with diffrent idea,,,, kahan say etnaa zabardast idea latay hain app .....

    ReplyDelete
  6. well its something interesting and one thing to add..KITNAI AADMI THAI?...hahaha......likin shukar hai sir aap nai jutaa kissi pai uthaayaa naheen...hahah....:D

    Keep posting...n i'll send my blog to you soon...

    ReplyDelete
  7. Sir, mujhe alfaz nae mil rahe tareef bayan karne k liye.. mashallah mashallah.. buhat maza araha hai mujhe apke blog parh k, lagta hai pitras bukhri k baad mizah nigari me apka name anay wala hai.. ;) sabse maze ka point mujhe woh laga pakistani khuson k baray me n sali ki joota chupai k baray me..lawllzz.. :D

    ReplyDelete
  8. wow sir awesome !!
    sab se good point was about saali ne joota chupaya hoga..lol !!
    its really awesome : )

    ReplyDelete