Thursday, June 17, 2010

ایک دن استاد محترم کے گھر

ہم اپنی تحقیقی میز پر لیپ ٹاپ رکھے اپنے کام میں مگن تھے کہ استاد محترم (ہمارے سرپرست تحقیقی) نے ہمیں آکر چونکا دیا اور گویا ہوے کہ اس بار ہفتہ وار تعطیلات پر کیا کر رہے ہو؟ اگر فارغ ہو تو ہمارے یہاں بروز ہفتہ ظہرانہ پر چلے آؤ. ہم نے اپنی دستیابی ظاہر کرنے کےساتھ ساتھ حلال کھانے کی فرمائش بھی کردی کہ کہیں ہم کھانے میں لحم خنزیر اور آب شر خرد و نوش نہ کر رہیں ہوں.

سڈنی میں یہ ہمارا دسواں مہینہ ہے اور پہلی بارہمارے سپروائزر نے ہمیں اپنے گھر آنے کی دعوت دی. جناب ڈاکٹر رابرٹ جان سٹیننگ برطانوی ماں کے بیٹے ہیں اور بڑی ادبی انداز کی انگریزی بولتے ہیں. عمر ستر برس ہے اور آئنوسفیرک فزکس میں پی ایچ ڈی ہیں. ساتھ ہی عیسائیت کی تبلیغ بھی فرماتے ہیں اور ہماری جامعہ کا ایک آن لائن کورس بھی پڑھاتے ہیں جو مختلف مذاھب کے تقابلی مطالعہ سے متعلق ہے. گویا اسلام سمیت دیگر مذاھب پر گہری نظر رکھتے ہیں. ان کی اہلیہ محترمہ کیرل کینیڈا سے تعلق رکھتی ہیں. اس پس منظر سے ان کے انگریز اور عیسائی ہونے کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے.

ہفتہ 12 جون 2010 کو ہم مقررہ وقت پر انکے بتاے ہوے ریل کے اسٹیشن بنام کلارا (اسی نام پر اس علاقه کا نام بھی ہے) پر تھے.اور جیسے ہی ہم پلیٹ فارم کا آہنی پل چڑھ کر مشرقی سمت سڑک پر اترے استاد محترم سامنے سے اپنی نئی ٹویوٹا یارس میں آتے دکھائی دیے. وقت کی پابندی پر خاصے خوش ہوے اور کہا کہ ابھی ریڈیو پر بارہ بجے کی خبریں شروع ہوئی ہیں. گاڑی میں بیٹھ کر ہم انکے گھر پہنچے. یہ سڈنی کا شمالی حصہ ہے اور پورا علاقہ نہایت سرسبز ہے. ہمیں یہاں کہیں بھی زمین ایک ہزار گز سے زیادہ ہموار نظر نہیں آئی. راستہ پرپیچ تھا اور سڑک کے دونوں اطراف عالیشان کوٹھیوں نما مکانات تھے. استاد محترم ہمیں بتاتے رہے کہ یہاں چینی بڑی تعداد میں رہتے ہیں اور ان کے پاس بیشمار دولت ہے، کہ ایک گھر سڈنی میں ہے تو دوسرا ہانگ کانگ میں. تیسرا نیو ہارک تو چوتھا دوبئی میں. غرض الله نے جنکو دیا ہے چھپڑ پھاڑ کردیا ہے.

استاد محترم کا گھر بھی اچھا خاصہ کشادہ اور دو منزلہ تھا. اس قطعہ اراضی کی شکل گو کہ چوکور تھی مگر اس کا کوئی بھی ضلع متوازی اور یکساں نہیں تھا. اسی وجہ سے ہمارے استاد محترم کے پانچ ہمساے تھے. مرکزی دروازے کے عین سامنے گیراج تھا جس میں ایک گاڑی پہلے سے کھڑی تھی. اور گیراج میں باغبانی سمیت ہر طرح کے اوزار موجود تھے. اندر داخل ہوتے ہی ایک صاف ستھری راہداری کے بائیں جانب ڈرائنگ اور ڈائننگ تھا. اور ڈائننگ کے ساتھ ہی راہداری کی دیوار کے پیچھے باورچی خانہ تھا. خاتون خانہ آرام کرسی پر براجمان تھیں سلام دعا کے بعد ہمیں جوس اور خشک میوہ جات پیش کیے گئے. تھوڑی دیر میں ہی کھانے کی میز سجا دی گئی. مربع شکل کی میز کے گرد چار کرسیاں تھیں، اور ہم چوتھے فرد تھے کیونکہ تیسرے استاد جی کے فرزند تھے جو سینتیس برس کے ہیں مگر ضعف دماغ کی وجہ سے اپنی عمر سے پانچ گنا کم عمر بچے جیسی حرکتیں کرتے ہیں. اس بیماری کا انگریزی نام Down Syndrome ہے.

کھانےمیں ہماری خاطر چنے کا سالن اور کینیڈا کے چاول تھے، دیگر لوازمات میں ابلی ہوی سبزی (جس میں کھیرا اور غالبا پپیتہ شامل تھا) اور دہی تھا جس کے اوپر ایرانی لال رنگ کا مصالحہ 'سماق' چھڑکا گیا تھا. اس کے معنی سرخ چٹانی پتھر کے ہیں. میٹھے میں مکئی کے آٹے کا کیک تھا. کھانا بلا شبہ اچھا تھا مگر ہم دیسیوں کی زبان کے چٹخارے کا نہیں تھا. کھانے کے بعد شام میں پھل اور کافی بھی پیش کیے گئے.

کھانے اور کافی کے درمیان ہم نے ایک دوسرے کو اپنے خاندانوں اور تھذیب و روایات سے تصاویر کے ذریعہ روشناس کرایا ہوتے ہوتے بات مذھب پر آن پہنچی جس کیلیے ہم ذہنی طور پر تیار تھے.ادھر استانی جی بائبل لے آئیں اور ادھر استاد جی قرآن پاک کا انگریزی ترجمہ لے بیٹھے اورعیسائیت کا پرچار شروع کر دیا. ہم آدم علیہ سلام سے لے کر عیسی علیہ سلام تک سب قصہ کہانیاں انکی بائبل کی رو سے سنتے رہے. انبیا سے تو ہم الحمد الله واقف ہیں کیوں کہ یہ ہمارے ایمان کا حصہ بھی ہے. مگر انکی بائبل (اصل انجیل کی تحریف کی وجہ سے ہم یہ صیغہ استمعال کر رہے ہیں) کچھ عجب باتیں بیان کرتی ہے. مثلا ذ بیعہ الله اسمعیل علیہ سلام نہیں بلکہ اسحق علیہ سلام تھے. اور مسیحا نے رحمتہ العالمین کی خوشخبری نہیں سنائی. اور انسان پیدائشی گنہگار ہے اس وجہ سے مسیحا کا جنم انسان کی صورت میں ہوا اور انہوں نے خود مصلوب ہوکر انسانیت کو بچا لیا اور اب سارے عیسائی اس بیوقوفی میں ہیں کہ ہم بخشے بخشاے ہیں اور سیدھے جنت میں جا پہنچیں گے.

جس بات پر ہمارے استاد محترم حیرت زدہ تھے وہ یہ تھی کہ قرآن بھی عیسیٰ علیہ سلام کے دوبارہ ظہور کی بات کرتا ہے اور انکی بائبل بھی یہی کہتی ہے. ہم نے اس پر اضافہ کر دیا کہ وہ تو ایک محمدی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے اور سارے انبیا مسلم ہی تھے. یہ بات ان دونوں کے لیے قابل ہضم نہ تھی. تثلیث کا تصور تو نہایت ہی انوکھا ہے کہ الله، روح اور مسیح ایک ہی ہیں یعنی اکائی کی تثلیث اور تثلیث کی اکائی ہے. مثال میں پانی کی تین طبعی حالتوں سے سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ جیسے ہم پانی کا کیمیائی فارمولا نہ جانتے ہوں. مختصر یہ کہ ہماری معلومات میں اضافہ ضرور ہوا اور ہم بھی ان کو برابر جواب دیتے رہے.

شام ہوتے ہی ہم نے واپسی کا قصد کیا اور استاد محترم ہمیں اسٹیشن چھوڑ آے. شہر پہنچ کر بس لی اور گھر پہنچے تو مغرب کو آدھ گھنٹہ بیت چکا تھا اور ساڑھے پانچ بجے تھے. استانی جی نے ہمیں موبائل پر مختصر پیغام بھیجا اور ہدایت کی کہ سردی سے بچیں اور ساتھ ہی کیک کا شکریہ ادا کیا جو ہم انکے لیے لے گئے تھے. انکا اپنے مذھب کی تبلیغ کرنا اپنی جگہ، ہم نے بھی الله کے فضل سے ظہر اور عصر ایک کٹرعیسائی کے گھر ادا کی.

5 comments:

  1. waisay to sir aap ki dawat ki hi isi liye hogi ke aap ko bible ki taleem di jaye. waisay kafi himmat ka kaam kia aap ne ke aik christian ke ghar namaaz perh ker aagye

    ReplyDelete
  2. wao sir.. maza agaya! i wish i cud also b there 2 c dis whole scene myself.. :)

    ReplyDelete
  3. bht khoob ! is mazmoon main behtreen tehreer k ilawa aur bht se cheezain qabil e tareef hain jaise k itna pheeka khana khana aur phir us ki tareef bhi karna ...wo bhi MIRCH wale blog k baad :) ...aur na srf aik eisaai balke eisaae USTAAD ko jawab dena (y) ,,,umeed hai k jo kaam wo karna chah rahe hain aap zaroor kar jaein ge aur un ko qail karlein ge k ISLAAM aik mukammal deen hai ...jab k baaki sab tou srf mazahib hain .ustad mohtaram k farzand k baare main jaan kar dukh hua .Allah behtr karey. waise blog kaafi acha aur munfarid hai.maza aya sr parh k (y)

    ReplyDelete
  4. Bas Allah Ka Lakh Lakh Shukar hay k us nay hamain musaman banaya aur ham sab ko yeh taufiq di kay ham naik kaam kar sakain .beshak us ki marzi k baghair kuch nahih hota.
    Sir Maza Aa gaya.tehreer bhi buhat achi hay.tehreer ka maza hi jab ata hay k parhnay walay ki dilchspi akhir tak qaim rahay aur app is main kamiyab rahay.
    Sir waisay kuch kuch situation ka andaza hay mujhay christians say to nahin par yahodi say pala par chuka hay mera. :)

    ReplyDelete
  5. very good attempt sir !!
    kaafi acha blog hai or is blog ko parhney k baad aap ki appreciation must hai, na sirf is liye k aap ne blog likha bal k aap ne apna farz ada kiya ek Christian se Islam ka dawah kar k !!
    is k ilawa mujhe menu bilkul acha nahi laga, lakin majboori pata nahi aap ne kese khaya hoga !! :P

    ReplyDelete