Monday, June 21, 2010

1-سڈنی - آمد سے واپسی تک- آمد اور تلاشِ مکان













13 جولائی 2009 کو تین پاکستانی لڑکے فہد الہی، شہباز واڈی والا اور احسن شیخ سڈنی کے ہوائی اڈے پر اترے. مقصد نیو ساؤتھ ویلز یونی ورسٹی سے ایم ایس کی ایک سالہ ڈگری کا حصول تھا. عارضی رہائش کا بندوبست مسلم اکثریت والے علاقه لیکمبہ میں تھا جہاں سےشمس قاضی اور محمود وڑائچ انھیں ایک وین میں ائیر پورٹ لینے آے اور اپنے ساتھ ٹہرایا. ان سے جان پہچان تبلیغی جماعت میں احسن کے ماموں کی وجہ سے ہوی جو خود بھی سڈنی عرصہ دراز سے مقیم ہیں. احسن محمود وڑائچ سے برقی رقعہ ( ای میل) پر وطن سے رابطے میں تھا.

محمود وڑائچ نے انہیں جامعہ کے ماحول اور نشست و برخاست کے آداب سکھاے اور شمس قاضی نے سڈنی کے راستوں سے واقفیت کرائی. یہ دونوں اشخاص اس شہر غیر میں اپنے ثابت ہوے اور پہلی بار ملاقات کے باوجود بھی با لکل اجنبیت کا احساس نہیں ہونے دیا. دن بھر کام ہوتے اور رات میں تاش کی محافل جما کرتیں، ہارنے والا پچیس ڈالر کا مکھن پھل (ایواکاڈو) کا شیک پلاتا تھا.
لیکمبہ سے جامعہ کا سفر ایک گھنٹہ کا ہے. جس میں سے آدھا بس اور آدھا ریل سے طے ہوتا ہے. یہ تینوں روز دو گھنٹہ کی مسافت طے کرتے کرتے رہائش اور جامعہ کے درمیان کے راستے سے بخوبی واقف ہو گئے تھے. وقت اور کرایے کی بچت کے ساتھ ساتھ سفری تکان سے بچنے کے لیے ضروری تھا کہ جامعہ کے قریب ہی رہائش کا کوئی بندوبست کیا جاے سو ان دونوں صاحبان کی مدد سے تلاش رہائش میں سرگرم ہو گئے. ہم یہ بتاتے چلیں کہ سڈنی میں بس اور ریل کے کرایے آسٹریلیا میں دیگر شہروں سے زیادہ ہیں اور اس پر ظلم یہ ہے کہ بین الاقوامی طلبہ کیلیے کوئی رعایت نہیں ہے کیونکہ ہم سے ہی ایک طور پران کے مقامی طلبہ کا خرچہ نکلتا ہے. یہی وجہ ہے کہ یہاں کی ایک بڑی صنعت تعلیم کی ہے جس سے ہر سال زر مبادلہ یہاں آتا ہے اور یہی بین الاقوامی طلبہ یہاں پر گھنٹہ وار اجرت والے سستے ترین مزدور ہیں. خاص طور پر برصغیر کے طلبہ کہ یہ ہماری زبان میں دیسی کہلاتے ہیں اور ہر طرح کے موسمی حالات اور آقا کی غلامی میں گزر بسر کر سکتے ہیں.
رہائش کی تلاش ان تینوں کیلیے نوکری اور رشتے کی تلاش جیسی ہی ثابت ہوئی کیونکہ راستوں سے واقف نہ ہونے کے سبب پیدل چلنا اور گھروں کا جائزہ لینا ایک خاصہ تھکا دینے والا کام تھا. ریل کے سفر میں ہونے والے اعلانات رات سوتے میں ان کے دماغوں میں گونج رہے ہوتے 'ڈورز کلوزنگ پلیزاسٹینڈ کلیئر'.

اگر کوئی مکان پسند بھی آتا تو کرایے پر لینے میں بھی مشکلات تھیں کیونکہ ان کی کوئی لین دین کی معلومات سڈنی کے سرکاری دفتر میں نہ تھی جسے کریڈٹ ہسٹری کہا جاتا ہے. یہاں بھی محمود وڑائچ نے انکی مدد کی اور ضمانتی کی حثییت سے کرایہ نامہ بنوایا اور اگست کے پہلے ہی ہفتہ میں جامعہ کی بغل میں یہ لوگ انزیک پریڈ پر ایک گھر میں منتقل ہوے.

(جاری ہے)

7 comments:

  1. bohat dilchasp ! agle hisse ka intezaar hai .

    ReplyDelete
  2. Yar kuch details missing hain, like Fahad ki baatain aur memon ki harkatain (details say likho)......

    ReplyDelete
  3. sir agay kia hoga yeh kub likhain ge. ab shroo kerdia hai perhna to aglay part ka intezaar rahay ga

    ReplyDelete
  4. @ shams: will add fahad and shahbaaz extra qualities plus a lil encounter with your best friend NAJAM would turn out to be a master piece as well..;)

    ReplyDelete
  5. dilchusp hay.ayaz ameen ka kirdar kab namudar hota hay us ka bhi intezar hay.:D

    ReplyDelete
  6. @ Waqas Agreed w8ng fr Ayaz sb appearence in the story.

    ReplyDelete
  7. Well Ayaz bhai wat happened to the picture which were posted on this blog?

    ReplyDelete