Wednesday, June 23, 2010

سڈنی-آمد سے واپسی تک- گھر میں تھا کیا 2






یہ گھردو کمروں پر مشتمل تھا جس میں سے ایک سڑک کے اوپراور متوازی تھا کہ اس کی کھڑکیوں سے مغربی سمت سے آنے والی ہوا کے ساتھ ساتھ ہر وقت ٹریفک کا شور بھی آتا تھا. جس میں گاڑیوں کے انجن کی آواز شامل تھی، ہارن اور دھواں یہاں نا پید ہے. دوسرا کمرہ بھی ایک کھڑکی رکھتا تھا جو ایک عدد راہداری میں مشرقی جانب کھلتی تھی. یہ گھر اوپری منزل پر تھا کیونکہ سڑک کے رخ پر نیچے کی منزل میں دفاتر اور کلینک وغیرہ تھے. کمروں کی مختصر راہداری کے فورا بعد ڈائننگ ہال یا بیٹھک نما کمرہ تھا جس میں کچن پچھلے برآمدے کی جانب تھا اور کچن کے ساتھ ہی غسل خانہ تھا. غسل خانے کی دلچسپ بات یہ تھی کے اس پر لیڈیز کی تختی لگی تھی شاید یہ گھر پہلے دفتر کے طور پر استعمال ہوتا تھا اس وجہ سے یہ تختی لگائی گئی تھی.
غسل خانے کے ساتھ بغل میں الماری دی گئی تھی. کچن کے پچھواڑے دھلائی کی مشین کی کھولی بنی ہوئی تھی جہاں پانی کا کنکشن بھی دیا گیا تھا. برآمدہ ایک عدد صحن بھی رکھتا تھا جس میں سبز رنگ کا مصنوعی فرش بچھا تھا، صحن کے اختتام پر ایک سٹور تھا اور دوسری جانب چوبی دروازہ تھا جو پچھلی طرف سیڑھیوں پر کھلتا تھا. پیچھے نیچے پارکنگ کی جگہ تھی اور ایک ٹین کی دیوار کے بعد میک ڈونلڈز تھا.
اس گھر میں آکر سامان کی صحیح معنوں میں ترتیب بنائی گئی، یہ تینوں اپنے ساتھ پورے گھر کا سازوسامان لے کر آے تھے. جس میں چمچ سے لے کر دیگچیاں تک شامل تھیں، مصالحاجات، ادویات، بجلی کا سامان، تار لگے ہوے آسٹریلیائی پلگ والے بورڈ، کپڑے سکھانے کے لیےرسی کہ جس کی الگنی باندھی جا سکے بھی ان کے ساتھ وطن سے ہزارہا میل کی طے مسافت کر کے آئی تھیں. کچن میں ایک عدد برقی چولہا اور کیبنٹ تھے. غرض خالی مکان کو گھر کرنا تھا۔
احسن کے ذمہ کراچی سے کھانا پکانے کے برتن لانا تھے، جبکہ فہد نے ادویات وغیرہ لانے کی ٹھانی تھی۔ واڈی والا بجلی کے سامان کے علاوہ اپنے ساتھ ڈیوڈرنٹ لانا نہ بھولے ۔
شروع شروع میں اس گھر میں ان کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جن میں سے زیادہ تر مشکلات کھانے پینے سے تعلق رکھتی تھیں۔ مثلا حلال چیزوں کا حصول، بسکٹ اور چاکلیٹ بھی دیکھ بھال کراستعمال کرنا پڑتے۔ پھر چیزوں کی قیمتیں بہت زیادہ لگتی تھیں، خاص طور پر جب زرمبادلہ میں سوچتے تو کچھ بھی خریدنے میں جی کڑا کرنا پڑتا۔
یہ سڑک یعنی انزیک پریڈ، کنگزفرڈ نامی علاقہ کی اہم شاہراہ ہے۔ کنگزفرڈ کی آبادی لگ بھگ دو ہزار کے قریب ہے جس میں سے آدھی چینیوں پر مشتمل ہے۔ یہاں زیادہ تر کاروبار بھی ان ہی لوگوں نے سنبھال رکھا ہے۔ ہر اسٹور اپنی مرضی سے اشیاء کی قیمتیں لگاتا ہے اور آپ کو کافی تحقیق کرنا پڑتی ہے کہ کون سی چیز کہاں سے خریدی جاے۔ مثال کے طور پر ایک اسٹور پر ٹماٹر تین ڈالر فی کلو ہیں تو آلو دو ڈالر کے کلو۔ اب دوسرے اسٹور پر یہی معاملہ الٹا ملے گا۔ اس بات سے یہ سبق ملتا ہے کہ یہاں گھر کا پورا سودا ایک دوکان سے نہ خریدا جاے۔
توان لوگوں نے اس قسم کے بہت سے معاملات کی کھوج وقت کے ساتھ ساتھ لگا ڈالی۔ابتدا میں کھانا پکانے کی ضرورت خاطر خواہ نہ پڑی کیونکہ انکے پاس خشک خوراک کا ذخیرہ تھا۔ جب وہ ختم ہونے لگا تو یہ لوگ شان مصالحہ کے ڈبوں پر لکھی تراکیب پڑھ کر کھانا پکانے لگے کچھ نہ کچھ بن ہی جاتا اور صبر شکر کےساتھ کھا لیا جاتا۔ آہستہ آہستہ جب علاقہ اور دوکانوں کا پتہ چلنے لگا تو حلال گوشت پر بھی ہاتھ صاف کیا گیا۔ مگر دقت یہ تھی کہ ابھی گھر میں برقی آلات مع فرج، واشنگ مشین وغیرہ غیر موجود تھے۔
ایک اور بڑی کمی انٹرنیٹ کی تھی کیونکہ فون کا کنکشن بھی نہیں تھا تو سخت سردی میں وطن والوں سے رابطے کی خاطر پچھواڑے رات میں بیٹھا جاتا اور میکڈونلڈز کے انٹرنیٹ کے سگنلز لیپ ٹاپ کے وایر لیس پر وصول کرنے کے جتن ہوتے رہتے۔
کپڑے دھونے کا معاملہ بھی انوکھا تھا۔ نہانے کا ٹب ڈاٹ لگا کر بند کیا جاتا اور اس میں پانی روک کر سرف ڈال کر کپڑے بھگو کر چھوڑے جاتے اور بعد میں کنگھال پچھواڑے سکھاکر سنبھالے جاتے۔ گھر میں موجود اسٹور مالک مکان نے نہیں دیا تھا تو کپڑے سوٹ کیسسز میں ہی رہتے اور یہ سوٹ کیس لابی میں دیوار سے لگے رہتے۔ غرض بقول غالب
گھر میں تھا کیا کہ تیرا غم اسے غارت کرتا
وہ جو رکھتے تھے اک حسرت تعمیر سو ہے
(جاری ہے)

8 comments:

  1. bht acha hai .... agle hisse ka intezar hai !

    ReplyDelete
  2. shroo shroo main problems bhi hoti hain lekin life main adventure bhi hota nai jaga ko discover kernay ka, aik different life style ka.

    ReplyDelete
  3. indeed you guys suffered alot and i hope it pays off.inshallah

    ReplyDelete
  4. @salman: It wasnt suffering but more of a fun..it wasnt nething like we are used to back in pakistan..short-cuts and phadda baazi...each thing has its own proper channel..from getting an electric connection to applying for internet connection and telephone line.

    ReplyDelete
  5. acha acha hay aza aa raha hay.par sorry main app ki har story ko apni life say compare karta hoon .par japan k muqablay main yeh ghar buhat bara hay aur acha hay .

    ReplyDelete
  6. baqi mcdonald k signals catch karnay a to koi jawab hi nahin...lOLS

    ReplyDelete
  7. really nice n lil bit tafreeh.. mood fresh hogaya mera! :) internet connection k liye signal catch karne ka idea and the most important.. bath tub me kapre dhonaay ka idea is mind blowingg!! hahahaha.. :D

    ReplyDelete
  8. pics ne blog k 4 chand laga diye.. keep updating pics as well wid ur blogs sir..!! :)

    ReplyDelete