Saturday, June 26, 2010

سڈنی-آمد سے واپسی تک- ہم اور رمضان -3

اسی طرح دن گزرتے رہے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ  
لوگ ماحول، موسم اور حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالتے چلے گئے۔ انسان معاشرتی جانور کہلاتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا بہت چھوٹی ہے، تو ان ہی باتوں کے پسمنظر میں ان لوگوں کا حلقہءاحباب بنتا چلا گیا۔ یاسر آفندی کے بڑے برادر شہباز کے دوست نکلے، یاسر، عاطف اور فراز خان اسی جامعہ میں ہی آے تھے۔ اس حلقہ میں مزیدافراد کا اضافہ ہوتا گیا جن میں حسن، عمار، عمران اور  صفیان، عمیر کے نام لینا ضروری ہے۔ ان سب کا یہاں آنے کا بنیادی مقصد تو اعلی تعلیم کا حصول ہی تھا مگر اس میں ڈالر کا حصول بھی شامل ہوتا گیا۔

ابھی صرف ان تینوں کی بات ہی کی جارہی ہے تو یہ بتاتے چلیں کہ ان لوگوں نے گھر کی تلاش کے ساتھ ساتھ سڈنی کو بھی کنگال ڈالا اور اسکے تقریبا تمام اہم ساحل دیکھ ڈالے۔ سڈنی کے ساحل پوری دنیا میں اپنا الگ مقام رکھتے ہیں اور یہاں ہر عمر اور مزاج کے افراد کے لیے تفریح کا سامان میسر ہے۔ ان لوگوں نے شروع میں یہ سب اس وجہ سے دیکھا کیونکہ یہ لوگ ہفتہ وار سفری پاس خریدتے تھے جو بس، ریل اور فیری یعنی کشتی سب پر چلتا تھا اور یہ پورے ہفتہ اسے انگنت مرتبہ استعمال کر سکتے تھے۔

اگست کے آخری ہفتہ میں ماہ رمضان کا آغاز ہوتے ہی ان کے شب و روز میں تبدیلی آچکی تھی۔ اگست کی24 تاریخ کو کہ جس دن آسٹریلیا میں تیسرا اور وطن میں دوسرا روزہ تھا، صبح آٹھ بجے کے لگ بھگ ہم بھی ان لوگوں سے آن ملے۔ ہمارا یہاں آنا کیسے ہوا وہ ایک الگ داستان ہے، مختصر یہ کہ ہمیں سرکار کی طرف سے وظیفہ ملا تھا اور ہم ان لوگوں کے برعکس تحقیقی سند حاصل کرنے تھے
، جامعہ وہی تھی اور ان لوگوں تک رسائی فیصل خان کی بدولت ممکن ہوئی جو محمود ورائچ  کے دوست اور ہمارے دفتر سے ہی وابستہ تھے۔
ہمیں شروع میں الگ کمرہ ملا، کیونکہ باقی سب پہلے سے ہی ایک کمرہ میں سوتے تھے تو خالی الگ کمرہ ہمیں دے دیا گیا اور ہنوز ہم یہیں مقیم ہیں۔ ہم آتے ہی سفری تکان اور وقت کے فرق یعنی جیٹ لیگ کا شکار رہے اور دو دن کےبعد کچھ آب و ہوا اور ماحول سے مانوس ہوے۔ ہم نے آتے ہی ان سے کہ دیا تھا کہ ہمیں کھانا پکانا بالکل نہیں آتا اور اس میں کچھ مبالغہ بھی نہ تھا۔

افطار مع عشائیے کے جامعہ کے مصلہ پر ہو جاتی تھی اور خوب ہوتی تھی کہ ایک دن پاکستانی طلبہ افطار کا بندوبست کر رہے ہیں تو دوسرے دن ملائیشیا کے دوست، تیسرے دن عمانی تو اس سے اگلے دن بنگالی، غرض ہم نے ستائیس روزے سڈی میں افطار کئیے کیونکہ رمضان انتیس کا ہوا تھا اور ہمارا ایک روزہ امارات کے طیارے میں کھلا تھا۔

تصاویر کے بارے میں۔ پہلی تصویر میں سڈنی میں مشاہدہ کی گئی قوس قزح۔
دوسری تصویر ہمارا افطار کا دسترخوان ہے جو دراصل تکیہ کا موم جامہ تھا۔
تیسری تصویر میں افطار کا سامان جو میز پر رکھا ہے، اس میز کی کہانی آئندہ آئے گی۔
جاری ہے

7 comments:

  1. Mashallah kia baat hay .sab say bara masla to hal ho gaya khana pakanay ka...
    aur iftar main to maza aa jata ho ga.

    ReplyDelete
  2. wah ! sr is baat ko repeat karein k aap ko khan paka nahin ata THA !!!!!
    blog is ver intersting.

    ReplyDelete
  3. hmm.. maza araha hai hai blog k diff parts parhne me! yeh rainbow ki pic dekh k mujhe woh waqt yad agyaa jab cyclone phet ka ruk khi ki taraf tha aur yahan bara shandarr rainbow nazar aya thaaa.. woh b double! jiski pic n video capture ki thi mene.. :)

    ReplyDelete
  4. @ areeba ab repeat nahin kar saktay na kion k ab pakana aa gaya hay sir ko.

    ReplyDelete
  5. @waqas haan ye bhi hai :) but PAkistan jaane k kch din baad ye zaroor khein ge k "mjhe nahin pakana AATA ":P

    ReplyDelete
  6. تبصرہ بلاگ پر ہونا چاہیئے نہ کہ لکھنے والے پر

    ReplyDelete
  7. sir ramadan main to maza aagya hoga. different tradional khanay khaye hon ge.
    waisay ghar bhi kafi saaf rakha tha halankay kehtay hain ke jahan larkay hoon wahan ghar saaf nahi rehta.

    ReplyDelete