Sunday, June 27, 2010

سڈنی - آمد سے واپسی تک- آمدِ تابش اور پہلی عید -4

 ان ستائیس روزوں میں سے گھر میں ہم نے بمشکل آٹھ دس روزے ہی افطار کئے ہوں گے باقی سارے جامعہ میں ہی افطار ہوئے۔ طرح طرح کے کھانے اور ذائقوں سے واسطہ پڑا۔ سب سے زیادہ اہتمام سعودی عرب کے دوست کرتے کہ لوگ کھاتے کھاتے تھک جاتے مگر یہ لوگ کھلاتے کھلاتے نہیں تھکتے۔ رزق میں برکت کا اصلی نظارا رمضان کے دوران یہاں دیکھنے کا ملا جس میں عرب سے لے کر مشرق بعید کے سارے اسلامی ممالک کی ثقافت شامل تھی۔

گو کہ ہم نے آتے ہی اعلان کیا تھا کہ ہم برتن دھو دیا کریں گے کیونکہ کھانا پکانے سے ہم نا بلد تھے مگر پردیس میں آکر ہم نے اس میدان میں بھی قدم رکھ دیا۔ابتدا میں افطار کیلئے پکوڑے اور آلو پنیر کے بٹاٹے بنائے۔

ہمارے آنے کے بعد گھر میں انٹر نیٹ کا بندوبست ہوا۔ گھر میں کچھ اشیاء بھی ایک ایک کر کے آنے لگئیں۔ یہاں عام طور پر لوگ اپنا استعمال شدہ سامان گھر کے باہر رکھ دیتے ہیں تاکہ ہم جیسے پردیسی یہ سازوسامان اپنے استعمال میں لاسکیں۔ لہذا سب سے پہلی چیز وہ میز تھی جس کی تصویر گذشتہ بلاگ میں تھی اور اس پر ہم نے افطار کا سامان رکھا ہوا تھا۔ اسکے بعد ہم نے کرسیاں اور استری کی میز خریدی۔ ٹوسٹر، فرج، واشنگ مشین اور استری بھی خریدے گئے اور یوں نہانے کےٹب کو ہمارے  کپڑوں سے نجات ملی۔ بعد میں ایک عدد پرانی کھانے کی میز جو کہیں سے بھی پرانی نہیں لگتی خریدی ساتھ ہی ایک مائکروویواوون بھی ہمارے یہاں لایا گیا، یوں مکان مکینوں کے ساتھ ساتھ سازوسامان سے بھی بھر گیا۔ 

ستمبر کے پہلے عشرے میں ایک اور صاحب کا اضافہ ہوا جناب تابش امان خان، فہد الہی کے ہم جماعت رہ چکے ہیں اور فراز خان کے لنگوٹیئے تھے۔ یہ بھی ایک مقامی جامعہ میں ایم ایس کے مقصد سے یہاں وارد ہوئے تھے۔ اسطرح ہماری تعداد پانچ ہوگئی۔تابش صاحب آتے ہی پہلے روز  باقی لڑکوں کےساتھ مینلی نامی ساحل کی سیر کو چل پڑے اس بات سے ان کے شوق سیاحی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔اگر ان کی مکمل تعریف بیان کی جائے تو پورا بلاگ ان کے نام کرنا پڑے گا۔ چنداہم خصوصیات میں نیند میں بولنا، غسلخانے کے باہر بھی گانا، رات میں دو بجے اٹھ کر کارن فلیک کا ناشتہ کرنا اور دودھ کی بوتل واپس فرج میں نہ رکھناشامل ہیں۔ اب اس سے زیادہ ہم نہیں لکھنا چاہ رہے۔

ایک دن ہم سب گھر والوں کو محمود ورائچ اور شمس قاضی نے افطار پر مدعو کیا۔ فہد اور احسن پہلے ہی ان کے ہاں چلے گئے جبکہ شہباز، تابش اور ہم نےافطار کے وقت جانے کا ارادہ کیا۔ تابش اور ہمیں آئے ابھی چند دن ہی ہوئے لہذا شہباز ہمارے راہبر تھے۔ اب ہوا کچھ یوں کہ ہم لمبے راستے کی بس میں بیٹھے جو مرکزی اسٹیشن یعنی سینٹرل جاتی تو تھی مگر گھوم کر، سینٹرل آکر گذر بھی گیا اور شہباز کو پتہ ہی نہ چلا۔ خیر ہم بس ڈرائیور سے اس بات کی تصدیق کر کے اتر گئے کہ سنٹرل گذر گیا ہے۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ لیکبہ کیسے پہنچا جائے ادھر افطار کا وقت بھی قریب تھا۔ آخر شہباز کا ای71 کام آیا اور اس کے راہنما یعنی جی پی ایس کی مدد سے ہم پیدل قریب ترین ریلوے اسٹیشن ریڈفرن پہنچے۔ یہاں سے ریل کا ٹکٹ لیا اور جب ہم لیکبہ پہنچے تو افطار کو بیس منٹ گذر چکے تھے۔ اس طرح سے ہم نے سڈنی کو کافی حد تک راستہ بھٹک کر دریافت کیا۔

رمضان نہایت پرسکون گزرے اور حافظ فہد الہی نے بھی تراویح ایک مقامی مصلے پہ پڑھائی۔ ختم قرآن دو دو جگہ نصیب ہوا۔ جامعہ کے مصلے پر بھی باقاعدہ تراویح ہوتی جو کہ عرب طرز کی تھی، یہ ہمارا اس طرح کی تراویح پڑھنے کا پہلا تجربہ تھا جس میں آٹھ رکعت کے بعد وتر اور طویل دعا ہوتی تھی۔

یہاں پر وطن کی طرح گھروں میں میتھین استعمال نہیں ہوتی بلکہ برقی چولہے کھانا پکانے کے کام آتے ہیں، جن کی 'آنچ' برقی وولٹیج کے بڑھانےاور گھٹانے سے برقرار رکھی جاتی ہےاور اس میں فولاد کی پتری کو گولائی میں جلیبی کی مانند چولہے کی شکل دی جاتی ہے۔ ایسا ہی ایک عدد برقی چولہا ہمیں مالک مکان کی طرف سے ملا تھا، ایک دفعہ سحری میں شہباز دودہ گرم کر رہے تھے کہ اچانک فولادی پٹی میں سے چنگاریاں نکلنے لگئیں اور بالکل کسی آتش بازی کے انار پھٹنے کا منظر تھا، شہباز سر پر ہاتھ رکھ کچن کے کونے میں جا دبکے اور ہم دیکھتے ہی رہے کہ بالآخر کچن کے فیوز کے اڑنے پر برقی رو منقطع ہوئی اور یہ آتشبازی تھمی۔ ۔ اس واقع کے بعد ہمیں ایک عدد چھوٹی برقی پلیٹ مالک مکان سے بطور چولہا ملی جس پر پانی گرم کرنے کے لئے بھی  مدتوں انتظار کرنا پڑتا۔ 

عید الفطر کا اجتماع بھی جامعہ میں تھا جو کہ نہایت ہی روح پرور تھا کہ اس میں قریبا دنیا کے طول و عرض سے مسلمان جمع ہوئے ان میں مرد، خواتین، بوڑھےاور بچے سب ہی شامل تھے۔ امام صاحب نے عربی و انگریزی دونوں زبانوں میں خطبہ دیا۔ بعد میں عید ملنے کا منظر بھی قابل دید تھا۔ 

عید پر ہم نے پہلی دفعہ یہاں کا مشہور ساحل بونڈائی دیکھا جس کی تفصیل احاطہ تحریر میں نہیں لائی جا سکتی۔

کھانا پکانے اور گھر کی صفائی وغیرہ کی باریاں مختص کی گئیں اور ہر کوئی اپنی باری کے مطابق  زیادہ تر شان مصالحہ سے کھانا بنا لیتا، لیکن ہم اس کے بغیر ہی کچھ نہ کچھ بنا لیتے اور آہستہ آہستہ اس میں بہتری آتی چلی گئی اور باقی لوگ ازرائے مذاق ہمیں وہ دن یاد دلاتے کہ جب ہم نے یہ اعلان کیا تھا کہ ہم کھانا پکانے کے علاوہ کوئی بھی کام کر لیں گے۔

تصاویر کے بارے میں
سب سے پہلی تصویر میں فہد کھانا پکاتے ہوئے جو کہ اولین کھانوں میں سے تھا۔ 
دوسری تصویر میں سالن جو اس دن بنائے گئے۔
تیسری میں ہم گھر کے پہلے فرنیچر کے ساتھ جو فہد کے ساتھ اتوار بازار سے پیدل لے کر آئے۔
چوتھی تصویر میں ہمارا کچن میں پہلا کارنامہ۔
تابش اپنی آمد کے پہلے یا دوسرے ہی دن پانچویں تصویر میں برتن دھوتے ہوئے۔
آخری تصویر میں عید الفطر نماز کے بعد جامعہ کی مرکزی گزر گاہ پر شہباز، ہم، فہد،حسن،حافظ عمار، احسن اوریاسر۔

جاری ہے

8 comments:

  1. V NICE SIR (Y)

    ReplyDelete
  2. wow..tabish ki adatain khoob bayan ki gai hen, ;) aur electric stove ki story b achi hai.. 'Hum khana pakane k elawa koi b kaam karlen'.. hahaha! :D slogan acha hai..! Ghar ka pehla furniture b kafi acha hai... :P

    bohat khoob sir! keep it up..!! :)

    ReplyDelete
  3. Sir jeee Abhee tak Fahad k batain , Shahbaz k shartain khan hian
    whole story main abhee tak sirf Aftar or Kitchen k hee zikar chlara hain ;)

    ReplyDelete
  4. sir yeh tabish sahab baray dilchasp admi maloom hotay hain .samain un ki batain sunna chahtay hain :D
    waisay mubarak ho khana pakanay ka marhala hal ho gaya.
    waisay arbion kay sath iftar ki baat sun k maza aagaya wakai buha mehman nawaz hotay hain.

    ReplyDelete
  5. aik blog TABISH sahab kee qualities per bhee hona chaheye.......aisay log aaj kal kahan nazar aatay hain :D

    ReplyDelete
  6. Farmaish kernay waley sahib/sahiba apna naam to likh detay :S

    ReplyDelete
  7. sir naam main kya rakha hai..........wasay aap kai blogs ka jawab nahee ......zabardast :)

    ReplyDelete
  8. Sukriya mager naam say pata chul jata hai as I remember my students usually or may be you are among those who were not my students. Anyways thanks for liking the blogs its because of the readers that I put some efforts in writing these blogs.

    ReplyDelete