Monday, June 28, 2010

سڈنی-آمد سے واپسی تک، ایک شرارت-5

تابش سے جہاں اور بہت سا سامان اور ضروری دستاویزات وطن سے منگوائے گئے وہیں ایک بہت ہی اشد چیز دو عدد لوٹے تھے جنہیں لانے پر تابش کو کوئی اعتراض تو نہ تھا مگر حیرت تھی کہ کیا حقیقتا لوٹوں کی ضرورت ہے بھی یا مذاقا لانے کو کہا ہے؟ ان کے آنے پر لوٹا دکھائی رسم ادا کی گئی اور یوں ہمارے غسلخانے میں طہارت کے لئے مناسب بندوبست ہوگیا۔ اتنی تفصیل سے یہ سب بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وطن میں ہم ان باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتےکیونکہ یہ سب معمول کا حصہ ہوتی ہیں مگر پردیس میں آپ کو یہی عام سی باتیں خاصی مشکل اور الگ معلوم ہوتی ہیں۔

ان لوگوں نے پڑھائی کے ساتھ ساتھ کام کی تلاش بھی شروع کی تاکہ کچھ روز مرہ کا خرچ نکل سکے۔ یہ ذکر ہم پہلے ہی کر چکے ہیں کہ آسٹریلیا میں بین الاقوامی طلبہ و طالبات سستے ترین مزدور ہیں لہذا مزدوری کی کھوج میں یہ لوگ بھی سرگرداں رہے۔

تابش نے ایک عدد نگار خانہ ساکن عکسبندی یعنی فوٹو اسٹوڈیو میں کام شروع کیا جس میں یہ متوقع گاہکوں کو فون پر بظاہر سستی تصاویر کھینچوانے پر آمادہ کرتے۔ ان ہی دنوں کیونکہ سب ہی کہیں نا کہیں نوکری ڈھونڈ رہے تھے اس وجہ سے سب کو مختلف اداروں سے فون یا خط موصول ہوتے۔ جن میں یا تو معذرت کی گئی ہوتی یا انٹرویو کا بلاوا ہوتا۔ ایسا ہی ایک فون فہد کو موصول ہوا فون کرنے والے نے اپنا نام رابرٹ بتایا اور خود کو آریکل (oracle) سے وابستہ بتایا، فہد الہی اس فون پر اچھل کھڑے ہوئے کیونکہ اتنی بڑے ادارے سے رابطہ ہونا بھی انتہائی اعزاز کا باعث تھا۔ رابرٹ نے فہد سے خاصی تفصیل سے بات کی اور فون پر ہی انٹرویو لے ڈالا اور تسلی دی کو آپ کا نام زیر غور رکھا جائے گا، ادھر فہد اس بات کو بار بار دوہرا رہے تھے کہ وہ اگلے چار ماہ تک دستیاب ہیں کیونکہ جامعہ میں امتحان کی وجہ سے تعطیلات تھیں۔ فہد نے سب کواس فون کے متعلق بتایا، شام میں شمس قاضی اور محمود ورائچ بھی آگئے اور ان لوگوں نے بھی اس بات پر خوشی کا اظہار کیا، بلکہ فہد سے آئسکریم کھلانے کو کہا، فہد نے سب کو میکڈونلڈز سے آئسکریم لا کر پیش کی۔ اسی لمحہ تابش نے اپنے موبائل فون پر ایک کال کی ریکارڈنگ چلائی جو رابرٹ اور فہد کے درمیان دوپہر کو ہوئی تھی، یہ کال کرنے وا لے رابرٹ صاحب دراصل تابش ہی تھے، ادھر فہد کو جیسے ہی سارا پسمنظر سمجھ میں آیا تو آئسکریم ہاتھ میں لئے ایک ہی جملہ دوہراتے رہے کہ حد ہے یار کچھ دن تو اس بات کا بھرم رہنے دیتے۔ اصل میں یہ سارا منصوبہ تابش کا ہی ترتیب دیا ہوا تھا، شہباز کو فہد نے اس بات پر کافی چڑایا تھا کہ تم سمینٹک (symantec) کے سند یافتہ ہو اور کال مجھے آئی، تم ایسا کرنا کہ میرے ماتحت بن جانا، جب تابش نے گھر آکر شہباز کو حقیقت بتائی تو شہباز نے ہی شمس اور محمود صاحبان کو بلانے کو کہا کہ مزید تفریح رہے گی اور وہ فہد کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے یہ بات اپنے اوپر لے لیں گے۔

جاری ہے 

5 comments:

  1. becharay fahad sab. mujhay to soch soch kar hansi aa rahi hay.icecream bhi kha li.hahahaha
    lols....
    yaar wakai tabish dilchasp admi hay

    ReplyDelete
  2. waqai bari hi mazay ki sharaarat thi. pole khulnay per aisa hi reaction hona tha

    ReplyDelete
  3. hahahahaha....!! zabardasttt... tabish ki soach ko salaaam! :P aise ideas kabhi apne dimagh me nahi atayy.. :S

    ReplyDelete