Friday, June 18, 2010

غالب، غالب ہے

مرزا اسد الله بیگ خان غالب جو مرزا نوشہ کے خطاب سے بھی جانے جاتے ہیں خود کو یوں روشناس کراتے ہیں
پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

فارسی اور اردو ادب کے افق پر اٹھارویں صدی میں جنم لینے والے اس شاعر نے گو کہ تمام عمر قرض کی مے پیتے گزاری مگر اپنے کلام اور مراسلات سے ان دونوں زبانوں کو ایک ایسا بیش بہا خزانہ بخشا کہ جس کے بغیر ان زبانوں کا ادب مکمل نہیں ہوتا. ان کے کلام پر تبصرہ اور شرحیں بہت بڑے بڑے ناقدین نے لکھی ہیں اور ہمارا یہ مضمون گویا سوررج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے مگر ہم اپنے حافظے کی مدد سے غالب کے ہی چند اشعار پر لکھنے کی جسارت کر بیٹھے ہیں.

تجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیم
مرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملے !!!
اپنے عاشق کا تذکرہ اس سے بہتر انداز میں ہم نے کسی اور کے یہاں نہیں دیکھا رشک اور پرتری کے ملے جلے جذبات کے ساتھ غالب نے اپنے رقیب کو دوست کہ کر مخاطب کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ تم سے کیا گلہ کریں جو نامہ بر ہمارے عاشق کو خط پہنچاتا تھا جب وہ اس کے سحر سے نہ بچ سکا تو تم تو ویسے بھی ہمارے رقیب ہو.

غالب کی ایک غزل جو ہمیں بہت پسند ہے، مطلع ہے
سب کہاں کچھ لا لا و گل میں نمایاں ہوگئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں

اسی غزل میں کہتے ہیں کہ
ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترک رسوم
ملتیں جب مٹ گئیں اجزا ے ایماں ہوگئیں
اس میں اکائی کی بات کی گئی ہے اور دین کو رسومات سے عاری بیان کیا گیا ہے. انہی رسومات کی بدولت ہم آج اصل دین سے کوسوں دور ہوتے جاتے ہیں.

ہم طبیعات پڑھاتے رہے اور اس سے متعلق پڑھا بھی بلکہ ابھی بھی یہ سلسلہ جاری ہے، کائنات کی تخلیق اور آغاز بھی طبعی علوم کا حصہ ہے انتظام کائنات کے اسرار طبعی طور پر معلوم کیے گئے اور آج ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ کائنات کی تخلیق کے پہلے ثانیہ میں مادہ اور توانائی کا کیا تناسب تھا مگر اس سے پہلے کیا تھا ؟ اس سوال پر ساری سائنس دھری کی دھری رہ جاتی ہے غالب اس ہونے اور نہ ہونے کو بیان کرتے ہیں اور سرن والوں پہ سبقت لے جاتے ہیں، فرماتے ہیں
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

الفاظ کا چناؤ اور خیال کی ندرت دونوں سے کلام غالب بھرپور ہے.
میں بلاتا تو ہوں اسکو مگر اے جذبہ دل
اس پہ بن آے کچھ ایسی کہ بن آے نہ بنے
عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب
جو لگاے نہ لگے اور بجھاے نہ بنے
اساتزہ فرماتے ہیں کہ اچھا شعراپنے اندر کئی پرتیں رکھتا ہے اور پڑھنے والے کو آپ بیتی و جگ بیتی دونوں کا لطف دے جاتا ہے. غالب کے کئی اشعار ایسے ہیں جو ضرب المثال بن چکے ہیں کہ ایک مصرع ہی مطلب کو بیان کر دیتا ہے اور کہیں بھی صادق آجاتا ہے، جیسے
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پہ کہ آساں ہوگئیں
غالب کا اپنے بارے میں یہ کہنا کہ تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا بالکل سچ ہے کیونکہ ان میں ایک فلسفی کی روح موجود تھی جو اپنے گرد و پیش سے متاثر ہوتی تھی اور وہ ایسی باتیں کہ گئے جو ٣ صدیاں گزارنے پر بھی دور حاضر کی لگتی ہیں.

تکنیکی اعتبار سے بحر چھوٹی ہو یا بڑی دونوں میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے.
ابن مریم ہوا کرے کوئی
مرے دکھ کی دوا کرے کوئی
یا
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستاے کیوں
دونوں اشعار میں بحروں کا خاصہ فرق ہے مگر مضمون ہر طور مکمل ہیں.

اپنے آپ کو بھی کافی الگ الگ انداز سے بیان کرتے ہیں
بنا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے

ہوئی مدت کہ غالب مر گیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پہ کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہے
روئیے زار زار کیا کیجیے ہاے ہاے کیوں
اگر ہم چاہیں تو غالب پر مزید لکھ سکتے ہیں مگر ان ہی کے بقول
سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کیلیے
اتنا ضرور کہیں گے کہ غالب، غالب ہے.

4 comments:

  1. buhat barhiya sir.
    ashar ka chunao buhat ach hay.
    par har koi Ashar ki gehrai tak pohnchay is ki koi gurantee nahin. :P

    ReplyDelete
  2. New Afsane ka bari besabri say intezar hay.

    ReplyDelete
  3. bht khoob sr !

    ReplyDelete