Saturday, July 3, 2010

سڈنی- آمد سے واپسی تک، فراز علی اور حُبِ شیر-6

نومبر کے پہلے ہفتہ میں سید فراز علی ہمارے گھر میں عارضی طور پر وارد ہوئے، انکے بھائی، یاسر آفندی کے چچا کے دوست ہیں لہذا یاسر آفندی کو انکے رہنے کے انتظام کا ذمہ سونپا گیا۔ یاسر نے ہم گھر والوں سے کہا تو سب نے متفقہ طور پر عارضی سکونت کی باضابطہ اجازت دے دی کہ چلو کچھ دنوں کی بات ہے۔انکے سونے کا بندوبست ہمارے کمرہ میں تھا اور پہلے ہی دن جب یہ اپنا جیٹ لیگ ختم کرنے کی خاطر کمرے میں سوئے تو ہم پر یہ حقیقت آشکارا ہوئی کہ جناب کو سوتے میں کروٹ بدل کر فاصلہ طے کرنے کا مسئلہ ہے کہ سوتے کہیں ہیں تو پہنچتے کہیں اور ہیں۔ بعد میں پتہ چلا کہ انہیں گرمی بہت لگتی ہے اس وجہ سے نیند میں بے چین رہتے ہیں۔

انکی انگنت خصوصیات ہیں، ہم اختصار کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ پیدل چلنے میں کمال کا درجہ رکھتے ہیں، سڈنی شہر اور انزیک پریڈ کے درمیان کا شاید ہی کوئی ایسا راستہ ہو گا جس سے یہ واقف نہ ہونگے اور وہ بھی پا پیادہ۔ کسی بات کو ایک حرف ادھر ادھر کیے بغیر کئی کئی بار بے تکان بیان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔کھانے میں مرچ زدہ تمام خوراکیں پسند کرتے ہیں اور دودھ سے خاص رغبت رکھتے ہیں۔ پوری پراٹھہ سے لے کر مچھلی کی بریانی تک بنا لیتے ہیں۔ چمچ سے کافی اور چینی پھینٹ سکتے ہیں اور وہ بھی ایسی کہ اس میں چینی کے دانے بھی پس جاتے ہیں۔ پھٹے جوتوں کو جوڑ سکتے ہیں، پہاڑ جیسی چڑھائی پر بائیسکل چلا سکتے ہیں۔ اور بھوک کی شدت پر لڑ بھی سکتے ہیں۔ انکے لئے اور کچھ بھی نہ کہا جائے توفوجی درسگاہ پٹارو کا نام ہی کافی ہے کیونکہ یہ وہاں کے منجھلے دھلے ہیں۔  

انکے گھر میں آنے سے کئی معاملات میں تبدیلی واقع ہوئی، ایک دن انھوں نے چولہے کو ایسا چمکایا کہ نئے کا گمان ہونے لگا، اسی طرح غسلخانے  کی چلمچی یعنی واش بیسن بھی نیا کر دیا کہ ہم اس میں تھوکنے سے بھی گھبرانے لگے۔یوں انھوں نے ہمارے یہاں صفائی کے معیار متعین کئے جس سے کچھ لوگوں کو مشکلات بھی ہوئیں پر اس طرح مجموعی طور پر گھر میں بہتری آئی۔

انھی دنوں احسن صاحب ایک اچھوتا خیال لے کر آئے، ہم اسکا پسمنظرتفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ اصل قصہ بلاگ کی اگلی قسط میں پیش کیا جائے گا۔ 

آسٹریلیا کی اقتصادیات بڑی حد تک معدنیات پر انحصار کرتی ہے، اس کے علاوہ یہاں زراعت کا شعبہ بھی اچھی پیداوار دیتا ہے۔ اس کا  اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آسٹریلیاگندم برآمد کرنے والے دس بڑے ممالک میں شامل ہے۔ اس کے ساتھ یہاں کی مصنوعات شیر بھی پوری دنیا میں جانی جاتی ہیں، جس میں پنیر اہم ہے۔ ہرے بھرے کھیت و کھلیان ہر طرح کی اجناس اگانے کے قابل ہیں۔ اس وجہ سے یہاں مختلف پھلوں اور سبزیوں کے موسم میں دیہاڑیدار مزدور جن میں طلبہ و طالبات کے ساتھ ساتھ خاص اس مقصد کیلئے آئے ہوئے سیاح جوپشت لادے یا بیک پیکر کہلاتے ہیں، شامل ہوتے ہیں آتے ہیں۔ یہ لوگ چند دنوں میں اچھے خاصے ڈالر سمیٹ کر اپنی تعطیلات کو کام میں لاتے ہیں۔ کیونکہ یہ کام سخت قسم کے موسمی حالات میں ہاتھوں سے انجام دینا ہوتا ہے تاکہ پھل کو بنا نقصان کے اصل ہیئت میں اتارا جا سکے لہذا بقول شاعر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ۔

تصویر میں سید فراز علی سڈنی میں اپنی پہلی عیدالاضحی کے بعد 
جاری ہے 

9 comments:

  1. hahahaha.... faraz, sote kahin aur pohanchte kahin aur! mashallah.. :) maza aya inke qisse sun ke.. :)

    ReplyDelete
  2. ZABARDAST :D suna tou kaafi tha aaj parh bhi lia :P

    ReplyDelete
  3. Ayaz bhai,
    i couldnt resist commenting on this one. aap nay Faraz kay intro main kaafi Ziaadti kee hay. 50% say zaada tu aap nay censor ki nazer ker dya...
    na na na... not fair at all.....
    Imran

    ReplyDelete
  4. عمران اگر ساری تفصیل لکھ دی جاتی تو یہ بلاگ صرف ایک خاس عمر کے لوگوں کے لئے مختص کرنا پڑتا۔

    ReplyDelete
  5. yaar faraz bhai to baray dilchasp admi hain.aisa roomate hamain bhi mill jay to kia baat hay.:D
    khana pakana safai waghaira :p
    sotay main idhar udhar pohanch jana...lols
    un kay donon taraf cushion laga dain to shaid afaqa ho ga.:P

    ReplyDelete
  6. waqai main dilchusp hain yeh faraz sahab. lekin sir woh 50% kia properties hain jo aap ne censor ker dia hai.

    ReplyDelete
  7. sir ye to faraz kee 10% qualities hain abhee to 90% qualities ka aap ko pata he nahee hai .....:)

    ReplyDelete
  8. @Sa.Ali: mujhay lagta hai ke un 90% ke leeay mujhay aap say 100% info lena parey gee :D

    ReplyDelete
  9. aap ko info kee kya zaroorat hai sir .....90% qualities bhee aap khud he discover ker lain gay....one day :)

    ReplyDelete