Friday, July 9, 2010

سڈنی-آمد سے واپسی تک، چلو چلو گریفتھ چلو-7

ایسا ہی ایک مقام سڈنی سے635  کلو میٹر مغرب میں شاہراہ ہیوم پر واقع ہے، جہاں موسم کی مناسبت سے سنگترے، انگور اور دیگر اجناس کے ساتھ پیاز کی کاشت ہوتی ہے۔ اس مقام کا نام گریفتھ ہے۔ یہاں آسٹریلیا میں  میکڈونلڈز کو فراہم کرنے کیلئے مختلف اجناس کے کھیت ہیں، اور آبپاشی کا وسیع نظام کارفرما ہے۔

ہم ان لوگوں کو سلام کرتے ہیں کہ جنھوں نے کبھی کوئی دیہات یا کھیت نہ دیکھا اور پیاز کے بارے میں معلومات صرف یو ٹیوب اور انٹرنیٹ سے اخذ کیں اس پر بھی انکا عزم یہ  کہ ہم ملکر پیاز کا کھیت ہاتھوں سے کھود ڈالیں گے۔ دراصل دور فراغت تھا اور کچھ لوگ معاشی لحاظ سے اس قدرے تنگ دست تھے کہ کسی قسم کا بھی محنت طلب کام کرنے کو تیار تھے تاکہ ناصرف یہ کہ روزمرہ کا خرچہ نکالا جا سکے بلکہ جامعہ میں اجرت یعنی فیس دے سکیں۔

پیاز کو الف لیلہ میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ "ہم تو اسے نیک آدمی خیال کرتے تھے، مگر وہ تو پیاز کی طرح نکلا، سربوڑھا اور قلب جوان"   

18 نومبر 2009 کی رات کوایک گاڑی انزیک پریڈ، سڈنی سے روانہ ہوئی، منزل گریفتھ، مقصد بوڑھا سر کاٹ کر جوان پیاز اکھاڑنا اور عازم سفر محترم شمس قاضی، جناب شہباز واڈی والا، جناب احسن شیخ اور جناب عمیر فاروق۔ رات بھر کے سفر کے بعد یہ لوگ مرکز شہر پہنچے اور ایک مصلہ میں جا کر ڈیرا لگایا، وہاں چند پاکستانی حضرات سے ملاقات ہوئی۔ ان لوگوں نے انھیں وہاں کا کچھ کچھ حال بیان کیا۔ حاصل شدہ معلومات کے مطابق یہ پیاز کھودنا آسان کام نہیں تھا۔کھیت میں اکڑوں بیٹھ کر ایک ہاتھ سے پیاز اکھاڑنا پڑتے تھے اور دوسرے سے ایک بڑی سی قینچی کی مدد سے سر کاٹ کر بڑے سے ٹوکرے میں جمع کئے جاتے تھے۔ کھیت کا عالم کچھ یوں تھا کہ موسم کی سختی کے ساتھ ساتھ جنگلی مکھیاں مسلسل آپ کا طواف کرتی ہیں اور انکا پسندیدہ مقام آرام آپکا چہرہ ہوتا ہے۔ یہ ساری معلومات مصلہ میں مختلف لوگوں سے ملیں۔ مکھیوں سے بچنے کا طریقہ بھی بتایا گیا کہ ایک عدد ٹی شرٹ لے کر اس کے گلے والی جگہ کو آنکھوں اور ماتھے پر پہن کر قمیض کی آستینوں کو گدی پر باندھ لیا جائے کہ صرف آپکی آنکھیں ہی دکھائی دیں۔

ان لوگوں کو حاصل شدہ معلومات کے مطابق قینچیاں اور ٹوکریاں بھی خریدنا تھیں جو کہ ایک بنیئے کی دوکان سے ملیں اور بنیئے نے ان سے اصل قیمت سے کم رکھ کر ٹوکریاں دے دیں۔ ساتھ ہی انکو اپنے نام بھی کھیت کے دفتر میں لکھوانے تھے، احسن کے پاس پاسپورٹ نہ تھا جو کہ اس مقصد کے لئے درکار تھا۔ باقی سب لوگ اپنا نام لکھوا کر آگئے ادھر جب یہ کاروائی جاری تھی  اِدھر تازہ دم سپاہی بھی گریفتھ کےلئے تیاری پکڑ رہے تھے، جن میں تابش، فراز خان اور عاطف شامل تھے، تو احسن نے ان کو فون پر اپنا پاسپورٹ گھر سے لانے کو کہا۔ وہاں یہ لوگ اگلے دن کی تیاری کر کے جلد سونے لگے کہ علی الصبح کام کے لئے روانہ ہوں گے، اسی دن بعد دوپہر دوسرا قافلہ بذیعہ بس گریفتھ روانہ ہوا اور جمعہ کی صبح سحری کے وقت وہاں پہنچا، ان کو گاڑی کے ذریعہ لاری اڈا سے مصلہ پنچا دیا گیا اور آرام کا کہا گیا جبکہ  پہلے قافلہ والے منہ اندھیرے ہی کام کے لئے روانہ ہوئے کہ دوپہر سے پہلے پہلے کام ختم کر کے آرام ہو گا۔

ہم پہلے ہی یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ منصوبہ بندی اور عمل میں خاصہ فرق ہوتا ہے،  اگر ساجھے داری کا کوئی کام ہو تو تمام فریقین کا باہمی رضامند ہونا ضروری ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی اہمیت رکھتی ہے کہ کبھی بھی اپنی کشتیاں نہ جلائی جائیں اگر آپ کسی کے ساتھ ملکر کوئی کام شروع کریں تو اپنے آپ کو ہر طرح کے نشیب و فراز کےلئے تیار رکھیں۔ ان تمام لوگوں میں سے مستقل کام کسی کے پاس نہ تھا، مگر کسی نا کسی طور پر سڈنی میں جگہ بنائے ہوئے تھے۔

یہ لوگ اپنی گاڑی میں ہی کھیتوں کو روانہ ہوئے جبکہ دیگر پشت لادے اور مقامی مزدور روزانہ کی بس میں۔ کھیت کا منظر خوب تھا، طریقہ کار کے مطابق  ایک جگہ سے بڑا کریٹ ملتا تھا جس میں ایک من پیاز آتی ہے اور فی کریٹ کے حساب سے رقم کی ادائگی کی جاتی ہے۔ اب ان لوگوں نے یوٹیوب کی جو ویڈیو دیکھی تھی اس میں ایک چھوٹی ٹوکری دکھائی گئی تھی جو جلد ہی بھر جاتی ہے اس بڑے کریٹ کو دیکھ کر تو ان کے اوسان ہی خطا ہو گئے۔ خیر کھیت میں ہدایت کے مطابق جگہ منتخب کرنے کے بعد کاروائی اکھاڑ پیاز کا آغاز کیا گیا۔ اب آئی ٹی کے ماہرین اور انجینیئر صاحبان وطن سے ہزارہا میل دور گریفتھ کے کھیت میں ٹوکری رکھے ہاتھ میں قینچی لئے منہ پر ڈھاٹا باندھے پیاز کھود رہے ہیں، ساتھ ساتھ تبصرے فرمائے جا رہے ہیں کہ یار یہ پیاز کیسی ہے، اس والی کی شکل دیکھو، اسکا رنگ دیکھو، وغیرہ وغیرہ۔ خدا خدا کرکے ایک کریٹ بھرا اس دوران کسان نے آکر انکو سرزنش بھی کی کہ وہ لوگ نئے ہونے کی وجہ آہستہ آہستہ ہاتھ چلا رہے تھے۔ اب ہوا کچھ یوں کہ ہمت جواب دیتی گئی سب سے پہلے شمس قاضی نے ہاتھ پیر چھوڑے اور اعلان کیا کہ میں یہاں سے پسپائی اختیار کرتا ہوں، اب یہ ان سب میں بڑے تھے تو انکی بات کا وزن سب نے محسوس کیا۔ تعید کرنے والوں میں سب سے پہلے شہباز واڈی والا تھے، احسن نے بھی ہاں میں ہاں ملائی اور عمیر فاروق کو بھی چاروناچار اکثریت کی رائے کا ساتھ دینا پڑا کیونکہ جمہوریت میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔ اس طرح جو کام منہ اندھیرے شروع ہوا تھا وہ اشراق سے پہلے ہی اختتام پذیر ہوا۔ یہ تشنہ لب جماعت جب واپس مصلہ پہچنی تو ایسا عالم تھا کہ جسکی مثال ہمیں پنجابی میں یاد تو آرہی ہے مگر احاطہ تحریر میں نہیں لائی جا سکتی۔ دوسری پلٹن نے جب یہ لٹا پٹا کارواں دیکھا تو ان کے اوسان خطا ہو گئے کہ فجر میں تو یہ لوگ اچھے بھلے کام کے لئے روانہ ہوئے تھے محض چار گھنٹوں میں آخر ایسا کیا ہو گیا کہ ان کو الٹے قدموں لوٹنا پڑا۔ اب ان لوگوں نے اپنی ہار تسلیم کرتے ہوئے واپسی کا سامان باندھا اور یہ جا اور وہ جا۔ تابش، فراز خان اور عاطف ایک دوسرے کی شکلیں ہی تکتے رہے کہ جب ان لوگوں سے کچھ نہ ہو سکا تو یہ کون سی کھیت کی پیاز تھے، ہم نے محاورہ حسب حال بدل دیا ہے۔
خیر ان لوگوں نے جمعہ نماز وہیں ادا کی جیسے کہ اللہ نے انکو اسی مقصد کےلئے گریفتھ دکھایا تھا۔ نماز کے فورا بعد انھوں نے واپسی کی بس کی ٹکٹ خریدی، جب فراز خان لاری اڈے سے ٹکٹ لینے جانے لگے تو ان کی ملاقات چند پاکستانی حضرات سے ہوئی انھوں نے پوچھا کہ آپ لوگ تو آج ہی آئے تھے آج ہی واپس چل دئیے، اس پر فراز خان نے انھیں دکھ بھری بپتا سنائی کہ چار جوان چار گھنٹوں میں ایک کریٹ بھر پائے اور فی کس دس ڈالر کمائے، اس پر ان صاحبان کا ردعمل ایسا تھا کہ جیسے فراز ان سے مذاق کر رہے ہوں۔ فراز نے انھیں یقین دلایا کہ وہ سچ کہ رہے تھے تو وہ لوگ بتانے لگے کہ دو افراد مل کر چار گھنٹوں میں اور نہیں تو دو کریٹ تو بھر ہی لیتے ہیں،لہذا بہتر ہے کہ آپ لگ سڈنی کا راستہ ہی ناپیں۔ یوں دوسرا قافلہ بھی فقط بارہ گھنٹوں کے قیام گریفتھ کےبعد روانہ سڈنی ہوا۔

تصاویر کے بارے میں: پہلی تصویر میں گریفتھ کا مصلہ۔
دوسری تصویر میں شہباز تھکے ہارے۔

 نیچے دیا گیا رابطہ یوٹیوب کی وڈیو کا ہے  
جس میں آپکوچند ہندوستانی طلبہ پیاز کے کھیت میں کام کرتے دکھائی دیں گے۔

جاری ہے 

4 comments:

  1. aisay main punjabi ki kahawat hay:
    "hun araam eeee " ?

    ReplyDelete
  2. @Imran: There is another too, "HOR CHOOPO"

    ReplyDelete
  3. hahah
    becharay.waisay wakai bohat mushkil kaam maoom hota hay.
    pyaz k taruf main jo shair hay us ka jawab nahin..:D

    ReplyDelete
  4. waqai main becharon ne bara hi mushkil kaam chuna. farmers to bachpan se yeh kaam kertay hi rehtay hain un ke liye to itna mushkil nahi hoti lekin new banday ki to shamat hai. hahaha

    ReplyDelete