Saturday, August 21, 2010

سڈنی- آمد سے واپسی تک، اصطبل گھوڑوں کا-8




میں پام بیچ، ایک آسٹریلیائی گوبھی کی شکل کے درختوں پرمشتمل ساحل کے خاصا قریب پہنچ چکا ہوں جہاں آسٹریلیائی موج مستی کرنے آتے ہیں، ابھی میرا یہاں آنے کا مقصد کچھ اور ہے، لہذا پام بیچ پھر کبھی سہی۔ میں ایک نیشنل پارک کے احاطہ تک آگیا ہوں جو جنگل نما ہے یہاں میں جنگل کی آگ سے پریشان ہوں کیونکہ یہاں موجود واحد مکان نوے کی دہائی میں نذر آتش ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں لوگ چلتی پھرتے گھروں یعنی کاروان کے چھکڑوں میں رہتے ہیں انکے سفر کی رفتار تیس میل فی گھنٹہ یا زیادہ ہو سکتی ہے۔
یہ خاصا مضافاتی قصبہ ہے کہ جس کا اپنا بس اسٹاپ بھی نہیں ہے اور مرکز شہر یہاں سے ڈیڑھ گھنٹہ کی مسافت پر ہے، مگر شاید اسی دوری کی بدولت اس مقام کا حسن قابل دید ہے۔
یہاں جوڑی دار طوطے اور مور، مرغوں سے پہلے ہی ہمیں بیدار کردیتے ہیں، دن کا آغاز ساڑھے چھ بجے ہماری نازی مالکن کے خوف سے ہی ہوجاتا ہے، یہ خاتون دو افراد کے برابر طاقت و جثہ رکھتی ہیں، پتہ نہیں کیا کھاتی ہیں۔
چھکڑوں میں رہنا بھی زندگی کے منفرد تجربات میں سے ایک تھا، آپ قدرت کے اس قدر قریب ہوجاتے ہیں کہ لال بیگ آپ کے ہم نشین بن جاتے ہیں، جی ہاں عمیر جو میرے ساتھ تھے، کے ساتھ ملکر میں نے کم و بیش تیس مورٹین اسپرے اور دس لال بیگ بم سے ایک ہزار کے قریب لال بیگ مارے۔ لال بیگوں کی اس افراط کی وجہ ہمارے اس چھکڑے میں گذشتہ مقیم تین عدد سکھ تھے کہ جنھوں نے اس کو اتنا غلیظ کر رکھا تھا کہ ہفتوں کے ان دھلے برتن لال بیگوں کے حوالے کر دیے تھے اور ان لوگوں کو لال بیگوں کے ساتھ سونے میں کراہت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ ہمارے ساتھ والے اصطبل میں دو پوسم یعنی بڑے آسٹریلیائی چوہے، چہار سو مور، مرغے، کنگرو کی نسل جیسے ولابی، خرگوش، بھیڑیں، مرغیاں اور بلیاں اس فارم پر پائی جاتی تھیں اسی وجہ سے علی الصبح ہی چرند پرند کی تسبیح شروع ہو جاتی تھی۔ مجھے مرغیوں سے نفرت سہی مگر انھی کی بدولت تازہ انڈے کھانے کو ملتے جو زندگی میں پہلے کبھی نہ کھائے تھے۔
شکراس بات کاہے کہ چھکڑے میں کسی مکڑے سے واسطہ نہیں پڑا ما سوائے ایک دو عدد پیلی دھاری والے مکڑے کے جو کہ کھیت میں اپنے جال میں آڑھی ترچھی لکریں کھینچ رہا تھا، مگر مجھے اس کے قریب جانے کی ہمت نہ ہوئی۔
نازی مالکن کا ذاتی چھکڑا تھا جسکی وہ واحد مقیم تھیں اور اس میں صاف اور قیمتی قالین بچھا تھا، یہ انکی اپنی قسمت تھی، ادھر ہمارے چھکڑے میں تپتی دوپہر میں چنٹیاں حملہ آور ہوتی تھیں، مگر یہ خاصی بے ضرر تھیں۔ گمان کیا جا سکتا ہے کہ لال بیگ یہاں کا قومی نہیں تو علاقائی حشرہ ضرور ہے کیونکہ اس علاقہ کے ایک چھوٹے سے ڈھابے میں بھی ہمیں یہ حشرہ نظر آیا۔
دن مشکل اور گرم ہیں، یہ آسٹریلوئی اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ بین الاقوامی طلبہ اور پشت لادوں سے کیسے ناجائز فائدہ اٹھایا جائے۔ طلبہ اس طرح کا سخت کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، دو سال بھرپور انداز سے محنت کرنے جس میں بنا اجرت کی مزدوری تربیت کے نام پرشامل ہے اور بھاری رقوم جامعات کو اجرت کے طور پردینے کے بعد کہیں جاکر اس قابل ہوتے ہیں کہ یہاں مستقل سکونت کے ویزا کیلئے درخواست دے سکیں۔
جس مالکن کیلئے میں کام کر رہا تھا وہ ایک صورتگر جراح یعنی پلاسٹک سرجن تھیں اور ان کے پاس گھوڑوں کی مختلف اقسام موجود تھیں، اس فارم کا تعلق ان کے پیشہ سے قطعی نہ تھا بلکہ یہ گھوڑے پال کر ایک طرح سے حکومت کی مدد کر رہی تھیں جس پر انھیں سرکاری طور پر خاصی مراعات حاصل تھیں۔ آسٹریلیا میں اس قسم کے کام پر حکومت آپ کو ناصرف یہ کہ سہولتیں مہیا کرتی ہے بلکہ ایک خطیر رقم بھی ادا کرتی ہے جو ٹیکس کی واپسی یا کسی اور صورت میں ہو سکتی ہے، اسی وجہ سے ہم جیسے طلبہ یہ لوگ معمولی اجرت پر رکھ لیتے ہیں اور یوں پیسے کی گردش جاری رہتی ہے۔
اس فارم میں گھوڑے مختلف عمروں کے تھے، چند تو ہم سے بھی قدیم تھے کہ ان کی عمر تیس برس بتائی گئی، اتنی عمر کے باوجود بھی یہ مکمل چاک و چوبند تھے۔ یہ مختلف دوڑوں میں حصہ لیتے رہے تھے اور اب عمر یا کسی معمولی بیماری کی وجہ سے دوڑ کے میدان سے باہر رہنے پر مجبور تھے۔ جہاں تک انکی اقسام کا تعلق ہے تو ان میں کئی عربی نسل کش گھوڑے، دو خوبصورت ایرانی گھوڑے، اخل تیکس یعنی ترکستانی گھوڑے جن کے بارے میں ہم پہلے بالکل نہیں جانتے تھے، نازی نسل کے ٹریکیہنر گھوڑے جو نازی صوبہ پروشیا سے تعلق رکھتے ہیں، اس صوبہ کو دوسری جنگ عظیم کے بعد روس اور پولینڈ نے بانٹ لیا تھا، شامل تھے۔ ان کے علاوہ چوتھائی میل یعنی کم فاصلے کے کوارٹر گھوڑے بھی اس فارم پر موجود تھے۔
کیونکہ میرا یہاں قیام محض چند ہفتوں کا ہے اس وجہ سے مالکن نے مجھے اپنا اصطبل صاف کرنے کا حکم دیا ہے، جس میں گھوڑوں کی دیکھ بھال اور صفائی بھی شامل ہے۔ میں یہ بات بلا مبالغہ کہ سکتا ہوں کہ مجھے گھوڑوں سے کبھی واسطہ نہیں پڑا مگر ایک کہاوت ہے کہ مالک کی اگاڑی اور گھوڑے کی پچھاڑی سے دور رہنا چاہیے کہ کیا پتہ تیس برس کا گھوڑا کب دو لتی جھاڑ دے۔ ان میں سے تین گھوڑوں کو تو سکھوں نے بھی ہاتھ نہیں لگایا تھا اللہ جانے ان گھوڑوں کی قربت کیسی ہو گی۔
مندرجہ بالا سطور احسن محمد شیخ کے روزنامچہ کا ترجمہ ہیں جو انھوں نے گھوڑوں کے ایک فارم پر کام کے دوران انگریزی میں قلمبند کیا۔ دراصل دورہ گریفتھ کی نا کامی کے بعد احسن نے ہمت نہ ہاری اور کام کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر شہر سے اکتالیس کلومیٹر دور وہ اس فارم پر کام دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ان کے ساتھ اس فارم پر متاثرین گریفتھ میں سے ایک، عمیر فاروق بھی تھے۔ یوں ان دونوں کا وقت انٹرنیٹ سمیت کئی جدید سہولتوں سے ماورا گذرتا تھا اس وجہ سے یہ اپنا روزنامچہ مرتب کر سکے اور ہمیں سڈنی کے اس بلاگ کے سلسلے کی یہ قسط بنی بنائی دستیاب ہوگئی اور قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔
جاری ہے

 

7 comments:

  1. Mohtram M A Amin Sahib
    Asslamu Alaikum
    Umid hey k mazaj bakher honge or aap Ramzan ki waja se kafi masroof honge .Ahir apko apne qaraen pe rehm a hi gya or aap ne iska athwan hissa likh hi dala. Is dafa aap ne waqeyi hamare sabr ka sahi manon me imtihan lia hey or pure ek mah k bad agla hissa likha hey.Amin Sahib brai mehrabani ap apni masrufiat me se thora waqt nikalain or agla hissa jaldi likh ke hame dusre kirdaron se mutaarif krwain.Ham un k bare me janne k lie boht bechain hain.Or dekhye sab se pehle me hi comment likh raha hun is se apko andaza hogya hoga k me kitni baqaidgi se apka blog prhta hun.Ye blog bi aap ne boht acha likha hey or insanon ke sath hashra tul arz k bare me bi kafi tafsil se btaya hey.
    Apka Duago

    ReplyDelete
  2. واہ جی واہ۔ بہت اچھی چیز لکھی آپ نے۔ اگلی تحریر کا انتظار رہے گا۔ آپ نستعلیق فونٹ کیوں استعمال نہیں کرتے اپنے بلاگ پر؟

    ReplyDelete
  3. بہت اچھی تحریر ھے۔اگر کچھ اور ہے تو اس کے بھی منتظر ہیں

    ReplyDelete
  4. بہت دلچسپ جناب جاری ہے دیکھ کر امید جاگی کے اگلی قسط بھی جلد ہی پڑھ لیں گے شکریہ

    ReplyDelete
  5. Good Hai. Carry on. I do agree with the first commnet. Posts should come frequently otherwise, I am going to start my blog OMAN KA EEMAAN.

    ReplyDelete
  6. بلاگ کی پسندیدگی اور انتظار پر آپ سب کا بہت شکریہ۔قارئین کی آراء سر آنکھوں پر، آئندہ تحاریر میں اتناالتوا نہ برتا جائے گا

    ReplyDelete