Wednesday, August 25, 2010

سڈنی - آمد سے واپسی تک، عثمان حسن اور سالِ نَو-9

اس فارم سے واسپی پراحسن نے اور بھی مختلف نوعیت کے کام کئے جن کی تفصیل آئندہ آتی رہے گی، اس بلاگ میں ہم مزید کرداروں کا تعارف پیش کریں گے۔ قارئین کو تابش کی وہ فون کال تو یاد ہو گی جو فہد الہی کو کی گئی تھی، فہد کو آریکل میں تو ملازمت نہ مل سکی مگر ایک نجی ادارے بنام بیمبوکا میں کام مل گیا، یہاں حسن علی اور یاسر آفندی نینڈوز والے پہلے سے کام کرتے تھے یوں اب تین دیسی ایک گورے کے ایک ساتھ ملازم ہو گئے، یہ گورے صاحب جن کا نام رچرڈ ہے ایک بوڑھے غیر شادی شدہ آقا ہیں جو اپنی سلطنت پر راج کرتے ہیں ۔ ان کے جوڑی دار بھی کاروبار میں شریک ہیں اور یہ لوگ ملکر طلبہ کو کام پر رکھتے ہیں اور ان کی مجبوریوں کو اجرت میں بدلتے ہیں۔ رچرڈ صاحب بہادر کے کردار پر پوری کتاب مرتب کی جا سکتی ہے جس سے قارئین بالخصوص ہمارے احباب سڈنی خوب مزے لےکر پڑھیں گے مگر بقول غالب
ع سفینہ چاہیئے اس بحر بیکراں کیلیئے
ان ہی دنوں حسن علی نے اپنے خالہ زادکو چند ہفتہ ہمارےیہاں ٹھہرانے کی درخواست کی جو اتفاق رائے سے منظور کرلی گئی اور یوں عثمان حسن عارضی طور پر  سکونت پذیر ہو گئے، گو کہ عارضی طور پر تو سید فراز علی بھی وارد ہوئے تھےمگر بعد میں وہ مستقل ہوگئے تھے۔ خیر عثمان حسن کی  تعریف کچھ یوں کی جا سکتی ہے کہ یہ ہر فن مولا ہیں، بنا تربیت کے موٹر سائیکل چلا کر چوٹ کھا سکتے ہیں بلکہ کھا چکے ہیں، کہیں کام ملنے کی امید ہو تو صورت حال کے مطابق مطلوبہ بھیس اختیار کر لیتے ہیں، کافی بھلے ہی زندگی میں کبھی نہ بنائی ہو مگر اس قدر اعتماد کے ساتھ ذکر کافی بیان کریں گے سامنے والا سمجھے گا کہ کہیں یہ مجھے اپنی کافی شاپ پر کام نہ دے دے۔ نقال بہت اچھے ہیں اور کھڑے کھڑے اچھے اچھوں کی نقل اتار سکتے ہیں، کھانے میں عجلت ہو تو دو دو انڈے کچے ہی حلق سے نیچے اپنے معدہ میں اتار لیتے ہیں۔ اور ایک خاص صلاحیت یہ بھی ہے کہ آٹھ سے اسّی سال کی صنف نازک کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کی موجودگی میں آپ ہنسے بنا نہیں رہ سکتے۔ برتن دھونے میں کمال حاصل ہے اور دوسروں کے میلے برتن بھی بڑے شوق سے دھوتے ہیں بشرطیکہ کھانا پیٹ بھر کر کھایا ہو۔
انہی دنوں تک سید فراز علی ہمارے ہاں مستقل ہو چکے تھے اور ان کے مزید جوہر رفتہ برفتہ کھلنے لگے، جن میں برتن نہ دھونے والوں، کھانا وقت پر نہ پکانے والوں اور ذمہ داری سے دیگر امورخانہ داری پوری نہ کرنے والوں پر خاص نظر رکھنا شامل تھا۔
video
سال نو کی آمد پر سڈنی میں آتش بازی کا خوبصورت منظر پیش کیا جاتا ہے جسے بلامبالغہ دنیا بھر کے سیاح ملاحظہ کرنے آتے ہیں، یہ منظر دیکھنے کی خاطر ہم سب بھی اکتیس دسمبر کی دوپہر کو اوپیراہاوس جا پہنچے، وہاں اسقدر بھیڑ تھی کہ ہمارے پہنچتے پہنچتے مرکزی مقام کا داخلہ بند کر دیا گیا اور ہمیں مجبورا اوپیرا کے بازو میں ایک ہوٹل کی پختہ روّش پر فرش بچھاکر بیٹھا پڑا۔ ہم اپنے ساتھ سامان خوردونوش لے گئے تھے جو وقتافوقتا کام آتا رہا اور ہم لوگ منہ چلاتے رہے۔ ساتھ میں تاش کی بازیاں بھی جمتی رہیں اور ہماری ٹولیاں وہاں آنے والے لوگوں پر کبھی اچٹتی اور کبھی تفصیلی نظریں ڈالتی رہیں۔ سال نو کی تقریب یہاں کی بڑی تقریبات میں سے ایک ہے جس میں آتش بازی سمیت، بحری اور ہوائی جہازوں کے کرتب بھی شامل ہیں۔ یہ تمام کراتب شام پانچ بجے سے شروع ہوتے ہیں اور رات بارہ بجے آخری مظاہرہ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ آخری آتشبازی قابل دید ہوتی ہے، جس میں رنگ و نور کا سیلاب سا آسمان پر امڈ آتا ہے اوربندرگاہی پل یعنی ہاربر برج اور اوپراہاوس کا پورا علاقہ بقعہ نور بن جاتا ہے۔ ہم سب یہ مناظر پہلے فقط ٹی وی پر دیکھا کرتے تھے مگر اس بار ظاہر کی آنکھ سے تماشہ کرنے کا تجربہ کافی خوش کن تھا، کہ اس کی جھلک آج بھی گمان میں غالب ہے۔ قارئین  اس بلاگ میں دی گئی ویڈیو سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں جو ہم نے خود بنائی تھی، ساتھ ہی تصویر میں عثمان کوبرتن دھوتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
جاری ہے 

3 comments:

  1. Achi coffe kaise bnate hain ?recipie chahie sr plz :P waise wittnessing that new year's celebration n firewrks wud really hav been memorable .ZABARDAST !

    ReplyDelete
  2. wah wah yeh to baray achay sahab hain.yani app kay ghar main har tarha ki variety mojood hain.
    waisay ham to bilashuba faraz bhai k fan hain.
    sahi duty anjam day rahay hain woh .:D
    aur haan sir comment main takheer par mazarat .:D
    ramadan main sir khujanay ko bhi fursat nahin hay .

    ReplyDelete