Thursday, August 26, 2010

سڈنی-آمد سے واپسی تک، حسن علی-10

بیمبوکا میں کام کرنے والے حسن علی کافی متحرک قسم کے آدمی ہیں اور سڈنی میں زمانے کے کئی نرم گرم موسم تجربہ کر چکے ہیں، ان کے خاص الخاص دوستوں میں عمّار انیس، یاسر آفندی اور فہد الہی شامل ہیں،ویسے تو ان کے آقا رچرڈ سمیت دیگر دیسی لڑکے بھی ان کے احباب میں شامل ہیں مگر ان تینوں سے انکو ایک عجب طرح کی انسیت ہے۔ حسن نے سن 2008 میں سڈنی میں قدم رنجا فرمایا اور جامعہ نیو ساوتھ ویلز میں اپنی ڈگری کا آغاز کیا، گاڑیاں دھوئیں، بنا اجرت کے تربیت کے نام پر ایک اسٹور میں کام کیا اور آخرکار رچرڈ صاحب کے یہاں جھاڑ پھونک کیلیئے ملازم ہوئے اور یہ تحریر لکھتے  وقت وہ رچرڈ کے مینیجر اور دست راز بن چکے ہیں۔ ایک ڈگری کرنے کے بعد آجکل دوسری ایک قدرے سستی جامعہ سے کر رہے ہیں۔
انکی سالگرہ کا کیک نو اور دس جنوری کی درمیانی شب کوجی نامی ساحل پر کاٹا اور ملا گیا، جی ہاں یہ کیک کسی کو کھانے کو نصیب نہیں ہوا بلکہ اسکو بطور ابٹن حسن علی کے تمام ظاہری اعضاء سمیت کپڑوں پر  رگڑا گیا۔ یہ طوفان بدتمیزی ان کے گھر کے مرکزی کرایہ دار نے ترتیب دیا تھا اور بقول انشاء جی، ہم بھی وہیں موجود تھے۔ پر چپ ہی رہے اور کچھ نہ کہا۔
اگلے دن ہم گھر والوں اور حسن علی کے گھر والوں نے ایک مشترکہ دعوت کا اہتمام کیا۔ جس میں سب نے بھرپور حصہ لیا، فہد الہی نے قیمہ بھونا، حسن علی نے اپنے یہاں کڑاہی مرغ بنایا، ہم نے چینی انداز کے چاول سبزی اور مرغ کے ساتھ بنا ڈالے، مگر ان سب  طعاموں پر فراز علی کے پراٹھے بازی لے گئے جس میں اصل کمال آٹا گوندھنے سے لےکر اور پراٹھے بنانے تک کا تھا جو فراز علی نے خالی ہاتھوں سے انجام دیا۔ تلنے میں ہم نے کام دکھایا۔ یہ تمام لوازمات تیار کرنے کے بعد ہم حسن کے گھر روانہ ہوئے ۔ وہاں لڑکوں نے مختلف گیتوں پر بھنگڑا ڈالا اور پھر کھانے کے ساتھ بھرپور انصاف کیا گیا، آخر میں میٹھا بھی کھایا جو کہ بازاری کسٹرڈ تھا یہ ٹھوس سے زیادہ مائع حالت میں تھا، لہذا نوش کرنا پڑا۔
تصاویر  ہم نے فلکر پر ڈال دی ہیں جو کہ اس  ربط پر جاکر دیکھی جاسکتی ہیں۔
جاری ہے 

No comments:

Post a Comment