Friday, August 27, 2010

سڈنی -آمد سے واپسی تک، احوالِ عمران-11

محمد عمران، سال نو کی تقریب ہر

ماہ فروری میں محمد عمران ہمارے یہاں وارد ہوئے، یہ نیم آسٹریلیائی ہیں یعنی آسٹریلیا میں مستقل رہائش کا ویزا رکھتے ہیں۔ حسب روایت یہ بھی عارضی مقیم تھے۔ ہمارا گھر ٹھہرا جائے سکونت برائے دیسی برادران تو انھوں نے بھی اپنی جگہ بنا لی۔ ان کی خوبیاں بیان کرنا آسان کام نہیں ہے، قد چھ فٹ سے نکلتا ہوا، سکنہ لاہور، شوق بےشمار۔عکسبندی، تیراکی، کشتی رانی، کرکٹ، دوڑ، ورزش، کوہپیمائی اورسیاحت انکے مشاغل میں شامل ہیں۔ یہ باقاعدہ سفر نامے بھی لکھتے رہے ہیں اور وطن عزیزکے طول وعرض سے کافی حد تک واقف ہیں۔

 لاہور تعلیمی اداروں کا شہر کہلاتا ہے تو انھوں نے ہمارے اندازے کے مطابق شہر  راوی کے ہر کالج  ، زنانہ ومردانہ،کے چکرضرور لگائے ہونگے۔ کنوارےپن کی تیس بہاریں دیکھ چکے ہیں، مزید کا پتہ نہیں۔ رات کے بارہ بجے بھی میکڈونلڈز یا کے ایف سی کے برگر کھانے کو تیار ہو جاتے ہیں، بلکہ دوسروں کو بھی تیار کر لیتے ہیں۔ بات کرنے اور کہنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں اور موقع محل دیکھ کر بات کرتے ہیں۔

انکی آمد سے جہاں دیگر امور میں تبدیلی واقع ہوئی وہاں لوگوں کے مجموعی بیان کے مطابق خرچ بڑھتا گیا جوں جوں ہوا دی۔ ایک کام جس سے یہ کنی کترا جاتے ہیں بیت الخلا کی صفائی ہے، گو کہ فراز علی کی ان پر گہری نظر ہوتی ہے مگر ابھی تک یہ ان کے ہتھے نہیں چڑھ سکے۔ کوئی نہ کوئی ترکیب یا بہانہ ان کے پاس اس  کام سے بچنے کا نکل ہی آتا ہے۔

ان پر ایک دم سے کوئی خاص قسم کے طعام کی تیاری کا بھوت بھی سوار ہو جاتا ہے، ایک دفعہ کباب پراٹھہ رول بنا ڈالے۔ ترکیب انکی خود کی تھی، مرغی کا گوشت اور آلو ابال کر ان کا بھرتا بنا لیا اور بھراسکے  کباب بنا کر تل لئے، پراٹھے بنے بنائے لےلئے تھے وہ بھی بنا ڈالے اور کباب کو کیچپ کے آمیزہ کے ساتھ پراٹھہ میں لپیٹ کر رول تیار کر لئے۔ گو کہ باقی افراد نے بھی ان کی مدد کی مگر مرکزی خیال انہی کا تھا۔

اپنی زندگی میں آنے والے حسینوں کا ذکر اس خوبی سے بیان کرتے ہیں کہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ دروغ ہے یا حقیقت، ہمارے کنوارے ساتھی کبھی رشک اور کبھی حسد بھری نظروں سے انھیں دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ ان کے بقول ان کا دائرہ کار صرف لاہور تک محیط نہ تھا بلکہ کراچی تا خیبر اس دشت کی سیاحی فرما چکے ہیں۔ گمان کیا جا سکتا ہے کہ آسٹریلیا آکر تائب ہو گئے ہیں۔

انسان دوستی میں بھی کسی سے کم نہیں ہیں، کسی کی جامعہ کی فیس کی ادائگی ہو یاکسی کو ویسےقرض دینا ہو، تحفہ تحائف کا معاملہ ہو یا پیسوں سے ہٹ کر کوئی امداد ان کا اوپر والا ہاتھ ہروقت حاضر ہے۔ لاہوری طرز کی جگدبازی میں بھی اپنی مثال آپ ہیں اور فی البدیہہ جملے اور خاکے تخلیق کر لیتے ہیں، کہ سامنے والے سے کوئی جواب نہیں بن پاتا۔ اپنے بستر کی چادر کو سلوٹ زدہ دیکھ کر آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔

ترجیحات کی بات کرتے ہیں اور سال میں دو دو چکر وطن کے لگا لیتے ہیں۔  ترجیحات کی بات کرتے ہیں اور نوکیا کے پرانے ترین ماڈل سے ایک دم آئی فون پر  آجاتے ہیں، ترجیحات کی بات کرتے ہیں اور  روزمرہ کے راشن سے ہٹ کر کبھی روزانہ ہی  برگر یا بروسٹ اڑاتے ہیں، ترجیحات کی بات کرتے ہیں اور بس و ریل کا سفر کرتے کرتے  ہنڈا اکارڈ خرید لیتے ہیں۔ ترجیحات کی بات کرتے ہیں اور روایتی دیجیٹل کیمرہ سے ڈی ایس ایل آر پر جست لگا لیتے ہیں۔غرض جو دل چاہے کرتے ہیں یعنی من موجی آدمی ہیں۔ انکی  ہمہ جہت شخصیت کو ہم غالب کے اس مصرع میں سمیٹیں گے،
ع ہے ولی پوشیدہ اور کافر کھلا
جاری ہے 

2 comments:

  1. lahore sey ham ney acha bhala banday ka puttar bhaija tha... itti izzat dey di in ko?

    Agarchay Lahore main ab bhi in ko Hazrat Allama Daktar Muhammad Imran (R.A.) key naam sey likha aur pukara jata hai, magar itti izzat?

    in ki jugton main chawwaliyon ki aamaizish hoti hai, sun-nay walon sey iltemaas hai key ehtaiyat karain. bait-ul-khala ki safai ki farmaish kernay pey mazeed sun-nay ko milain gi.

    waisey... banda acha hai... kafi acha hai.. sirf sar pey charhaney sey ijtinaab karain.

    ReplyDelete
  2. لاہوری طرز کی جگدبازی
    یار اس لاھوری سے بچ کر رہنا جگدبازی کے علاوہ فراڈ بہیت جلدی لگا دیتے ھے

    ReplyDelete