Saturday, August 28, 2010

سڈنی -آمد سے واپسی تک، اعلٰی شخصیت، حافظ فہد الٰہی -12

فہد الٰہی جھیل جنڈابئین کے کنارے


تمام افراد اس وقت تک پردیس کے طور طریقوں سے بخوبی واقف ہو چکے تھے، چند ایک مستقل کام بھی کرتے تھے اور ساتھ پڑھتے بھی تھے۔ زندگی میں ایک  ٹھہراو سا آگیاتھا۔ لڑکے مختلف نوعیت کے کام کرتے تھے جن میں بوجھ اٹھانا،  ڈبوں میں سامان بھرنا، بڑے بڑے گوداموں میں ذخیرہ کا حساب کتاب اور کھاتہ داری کرنا، ہوٹل میں برتن دھونا اور کھانا پکانا، گھر گھر جاکر پیزا پہنچانا اور دیگر  محنت مزدوری  شامل ہے۔ جو لوگ اپنے وطن میں  خود سےہِل کر پانی نہیں پیا کرتے تھےوہ یہاں آکر گورے کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور مزدوری کرتے ہیں، محنت مزدوری کو یہاں کوئی معمولی  نہیں سمجھا جاتا۔ وطن میں  بندہ مزدور کے اوقات سخت اور اجرت معمولی ہے لیکن  یہاں اوقات بیشک سخت سہی  ، اجرت پسینہ خشک ہونے سے قبل ہی ادا کر دی جاتی ہے اور خوشکن ہی ہوتی ہے۔ ایک مزدور بھی میکڈونلڈز میں آپ کے برابر بیٹھ کر برگر کھا رہا ہوتا ہے کیونکہ اسکی جیب اس بات کی اجازت دیتی ہے، یوں طبقاتی فرق یہاں کم دکھائی دیتا ہے۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ زندگی کے  منفرد، سخت اور فائدہ مند تجربات کے لئے ایک بار پردیس کا مزہ ہر کسی کو چکھنا چاہیئے کہ جیسے سونا آگ میں تپ کر کندن بنتا ہےویسے ہی پردیس کی بھٹی بھی آپ کو کندن بنا دیتی ہے، بشرطیکہ آپ پہلے سے سونا ہوں، ورنہ جس طرح تعلیم جہلا  کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اسی طرح پردیس بھی بعض اوقات کوئی اثر مرتب نہیں کرپاتا۔

ایسٹر کے موقع پر کوما کے سفر کی روداد تو ہم پہلے ہی قارئین کی نذر  کر چکے ہیں  لہٰذا اب آگے کا ذکر کرتے ہیں۔ کوما سے واپس آکر سب پڑھائی میں جت گئے، جامعہ نیو ساوتھ ویلز والے جس طرح سے پڑھتے تھے اس کے ہم چشم دید گواہ ہیں، فہد الٰہی کا وتیرہ تھا کہ کسی بھی  مضمون کے قلمی  بیان یعنی رپورٹ  کو اس وقت تک جمع نہ کراتے جبتکہ آخری تاریخ نہ آجاتی، یہی حال شہباز واڈیوالا اور احسن شیخ کا بھی تھا کیونکہ ان کے منتخب کردہ مضامین کم و بیش ایک جیسے تھے۔ احسن شیخ تو ان سے بھی چار ہاتھ آگے رہتے اور آخری تاریخ سے بھی نہیں ڈرتے تھے۔ ذکر فہد الٰہی کا نکلا ہے تو انکا تفصیلی تعارف پیش کرتے ہیں ویسےبھی   ان کی اپنی فرمائش  ہے کہ ان پر کچھ لکھا جائے۔

فہد الہٰی، حافظ ہیں اور ہم نے انکی امامت میں نمازیں اور تراویح بھی پڑھی ہیں، خطیبانہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ کسی کا ادھار نہیں رکھتے اور زبانی چکانا ہو تو ان سے بہتر ادھار چکانے والا ہم نے کم ہی دیکھا ہے۔ کھانے میں اپورٹو کا بونڈائی برگر پسندیدہ خوراک ہے بشرطیکہ قیمت کوئی اور ادا کرے۔ یاسر آفندی اور فراز خان کےاسقدر گہرے دوست ہیں کہ کچھ لوگ ان تینوں کی دوستی پر حسد بھی کرتے ہیں۔

ایک بار جامعہ میں کسی استاد نے تمام طلبہ کی قومیت دریافت کی تو سب بتانے لگے،انھوں نے خودکوپاکستانی کہہ کر ایک دم استاد سمیت پوری جماعت کی معلومات میں یوں اضافہ فرمایا کہ میرے پاس کینیڈا کی شہریت بھی ہے۔ اس  انکشاف کو واڈیوالا نے ابھی تک یاد رکھا ہوا ہے۔

اگر آپ فہد الٰہی سے کہیں کہ آپ رات صحیح طرح نہ سو سکے تو وہ جواب دیں گے کہ 'یار میں تو ساری رات جاگتا رہا'۔ اسی طرح آپ کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں  آپ سوچنے لگتے ہیں کہ کیا یہ ساری خوبیاں مجھ میں ہیں بھی یا نہیں۔  ان کے دوستو ں کے مطابق فہد الٰہی کھڑے کھڑے آپ کا سودا کر سکتے ہیں اور آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا اور آپ کے ساتھ برادر یوسف کا برتاو کیا جا چکا ہو گا۔

گھر کے کامو ں میں خاصی دلچسپی لیتے ہیں، انکی اہلیہ یقینا ان سے خوش رہیں گی، کیونکہ رات سونے سے قبل بچا ہوا سالن فرج میں رکھ دیتے ہیں، گھر کے کھلے دروازے بند کر دیتے ہیں اور ہفتہ وار راشن کی خریداری رضاکارانہ طور پر شوق و ذمہ داری سے کرتے ہیں۔ کھانا لذیز پکاتے ہیں خاص طور پر بھُنا ہوا قیمہ ۔ تابش پر برتن نہ دھونے کا جرمانہ بھی بڑے کمال سے لگاتے ہیں، عثمان حسن سے باتوں باتوں میں اضافی برتن مزے سے دھُلوا لیتے ہیں۔ مگر واڈیوالا سے بحث میں نہیں جیت سکتے۔

اس سال جون کے مہینہ میں یہ وطن چلے گئے اور قریبا ایک ماہ وہیں قیام کیا، ان کا ارادہ واپس آکر آخری پرچہ دینا اور پھر کینیڈا سدھارنا تھا۔ یوں یہ اس ٹولے  کے پہلے مسافر تھے جو قافلہ سے رخصت ہوئے۔ آجکل مِّسیساگا میں مقیم ہیں اور اکیلے شب و روز بسر کر رہے ہیں۔ وہا ں رہ کر  نوجوان نسل یعنی یوتھ کے بارے میں سوچتے اور منصوبے بناتے ہیں۔ ہم انکے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالٰی انھیں انکے نیک مقاصد میں کامیابی عطا کرے، آٰمین۔

ہم سب گھر والے انکی کمی نہایت شدّت سے محسوس کرتے ہیں کہ بقول غالب
تھی وہ اک شخص کے تصور سے
اب وہ رعنائی خیال کہاں   
جاری ہے 

1 comment:

  1. how come you can use such difficult words of urdu lol

    ReplyDelete