Friday, September 3, 2010

سڈنی آمد سے واپسی تک، احسن، دُودُودُودُودُو-14

احسن شیخ شعبہ طبیعات جامعہ نیوساوتھ ویلز کے سبزہ زار میں

احسن شیخ  کا ذکر خیر کرنے کی خاطر یہ بلاگ لکھا جا رہا ہے۔ اس داستانِ سڈنی  کو بیان کرنے کیلئے ہمیں احسن نے ہی اکسایا تھا۔ خاصے محنتی آدمی ہیں امریکہ میں تین برس سے کچھ اوپر قیام کر چکے ہیں، نائین الیون کے متاثرین میں شامل ہیں اور وہاں سے وطن واپس لوٹ گئے پھر سڈنی کا قصدِ سفر کیا اور یہاں آن پہنچے۔ محمود وڑائچ کے ہاں فہد، شہباز اور اِنکا اولین قیام اِن ہی کی بدولت عمل میں آیا تھا۔

عمر کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ لڑکے انکو اپنی محفل میں بڑا اور بزرگ  سمجھتے ہیں۔ خاصے معقول  شخص ہیں اور صفائی پسند ہیں ، ویکیئوم کلینر پسندیدہ برقی آلہ ہے۔ مارکیٹ میں آنے والے ہر نئے ماڈل کے موبائل فون اور برقی ایجاد پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ہمارے قریبی ہمسائے ہیں کہ ہمارا کمرہ ایک ہی ہے تو اس وجہ سے ہماری معلومات میں آئی ٹی کے حوالے سے بھرپور اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ہالی وڈ کی فلموں کے بھی رسیا ہیں غرض کافی اپ ٹو ڈیٹ قسم کے بندے ہیں۔

سڈنی میں ابتکہ تیرہ ماہ کے قیام کے دوران تیرہ مختلف قسم کے کام یا نوکریاں کر چکے ہیں بلکہ کئے جا رہے ہیں۔ جن میں گریفتھ کا قصّہ اور گھوڑوں کے فارم کا تذکرہ قارئین کی نذر کیا جا چکا ہے۔ آج ان کی وطن واپسی میں ۲۵ دن رہتے ہیں اللہ جانے ان دنوں میں مزید کتنے اور کون کون سے کام انجام دے ڈالیں گے۔

صنف مخالف کو پرکھنے اور جانچنے کا انکا اپنا ہی معیار ہے، دہلی کالج کراچی میں جب ہم پڑھا کرتے تھے تو ہمیں طبیعات جناب میر آخوند صاحب پڑھاتے تھے، انکا تکیہ کلام تھا کہ 'تصور کی آنکھ سے دیکھیئے' اسوقت تو ہمیں میر صاحب کی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی مگر احسن کی حسِ تصوراں کا مشاہدہ کر کے ہمیں اپنے استادِ محترم کا فرمان اب سمجھ میں آگیا ہے۔

کھانے پینے کے شوقین ہیں اور میٹھا انکی کمزوری ہے، نہ جانے کتنی اقسام کا میٹھا اب تک بنا چکے ہیں اور رزق کوضائع نہ کرنے کی خاطراکیلے خود ہی کھا بھی چکے ہیں۔ قصور انکا بھی خاص نہیں کیا کریں کہ سڈنی میں کسٹرڈ پاوڈر ہی دو نمبر ملتا ہے۔

ہر جگہ کام کرنے کی حامی بھر لیتے ہیں اور بعض اوقات اپنی جگہ کسی اور کو بھی یہ کہہ کر دھیاڑی لگوا دیتے ہیں کہ' کوئی مشکل کام نہیں ہے بس چھوٹے چھوٹے گملے اٹھانے ہیں'۔ اور جب اگلا بندہ کام پر جاتا ہے تو اسے مذکورہ گملوں کی جسامت اور وزن کا اندازہ ہوتا ہے۔

انسان دوست ہیں اورپردیسیوں کو خاص دوست رکھتے ہیں کیونکہ پردیسی رہ چکے ہیں۔ انکی حالت پرغالب کا یہ مصرع صادق آتا ہے کہ
ع  مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
جاری ہے 

No comments:

Post a Comment