Sunday, September 5, 2010

سڈنی-آمد سے واپسی تک، دوست ہیں اپنے بھائی بھلکڑ، فراز خان-15

فراز خان ڈگری ملنے کے بعد

 فراز خان کا ذکر گذشتہ تحاریر میں آتا رہا اب ہم ان کا تفصیلی خاکہ بیان کرتے ہیں۔ این ای ڈی میں یاسر آفندی اور عاطف صدیقی کے ساتھ بی ای کیا اور ان ہی لوگوں کے ساتھ سڈنی تشریف لائے۔اولین قیام اپنے رشتہ داروں کے ہاں کیا جو کہ آسٹریلیائی پاسپورٹ رکھتے ہیں۔ تابش امان خان کے لنگوٹیئے ہیں، ہمارے یہاں انکا آنا جانا رہتا تھا، کیونکہ  سب  ہم جامعہ تھے۔ آہستہ آہستہ ہمارے ہاں ہی آن مقیم ہوئے، بلکہ ان کے اچھے چال چلن کو دیکھتے ہوئے ہم سمیت سب گھر والوں نے خود انکو  اپنے ساتھ رہنے کی دعوت دی۔

ان کی یاداشت کا یہ عالم ہے کہ انکے سامنے انکی کوئی چیز اٹھا لی جائے تو ان کو پتہ نہیں چلتا۔ ہمارے متعلق شروع سے ہی سب کو پتہ تھا کہ ہم پڑھاتے رہے ہیں۔ دس ماہ بعد اپنے بھائی اور خالہ زاد بہن کا تذکرہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ان لوگوں کو بھی تو آپ نے پڑھایا ہو گا  کہ یہ لوگ ہمدرد میں ہی تھے، اس پر ہم نے انکے نام پوچھے اور نام سنتے ہی انکا پورا آگا پیچھا بیان کر دیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ موصوف ہم سے مل بھی چکے ہیں کہ یہ ہمدرد تشریف لائے تھے۔

میٹھا ان کی کمزوری ہے، سڈنی میں کسرپی کریم نامی ڈونٹس کا اسٹور  ان کی بدولت پنپ رہا ہے کیونکہ یہ اس کے ایک بڑے گاہک ہیں،اسقدر شوق سے ڈونٹس کھاتے ہیں کہ اگر انکا ڈوپ ٹیسٹ کرایا جائے تویقینی طور پر ڈونٹ پوزیٹئیو آئے گا۔ دوستوں نے انکی عرفیت بھی ڈونٹ کے نام پر رکھ دی ہے۔ سڈنی میں میٹھے کی کون کونسی  اشیاء حلال ہیں اور کہاں کہاں سے خریدی جا سکتی ہیں انھیں سب معلوم ہوتا ہے۔کسی پر جرمانا لگانا ہو تو، میٹھے کا ہی لگاتے ہیں، انکا مقولہ ہے کہ میٹھے پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا اور یہ بھی کہ میٹھا ہو اور بہت ہو۔ احسن کو بھی اس معاملہ میں انھوں نے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

سڈنی کے طول و عرض سے بخوبی واقف ہیں اور یہاں کی بسوں اور ریل میں خاصا سفر کر چکے ہیں، ہفتہ وار ٹکٹ خریدا کرتے تھے اور جب یہ ٹکٹ ختم نہ ہوتا تو دوسروں کو دان کر دیتے تھے۔ آجکل انکا سفر کم ہو گیا ہے، ایک ماسٹر جامعہ نیو ساوتھ ویلز سے کرنے کے بعد سیّد فراز علی کی جامعہ سی کیویو سے دوسرا ماسٹر فرما رہے ہیں۔

پابندی کے ساتھ صرف ضرورت پڑنے پر ضرور نہا لیتے ہیں۔ بال اور داڑھی بھی بناتے ہیں ، اگر کہیں نوکری کا انٹرویو یا  نئی ملازمت کا پہلا دن ہو تو، صاف ستھرا رہنے کا اہتمام روز کرتے ہیں مگر مجبوری یہ آن پڑتی ہے کہ جمعہ روز نہیں آتا۔ جس دن جامعہ میں انکا جلسہ تقسیمِ اسناد تھا سوٹ زیب تن کیا اور بن ٹھن کر ایک شان سے جامعہ تشریف لے گئے اس تیاری میں انکو کم و بیش ایک سے دو  گھنٹے لگانا پڑے۔

معاملات کا خاصا دھیان رکھتے ہیں اور تحقیق کے بعد ہی دینی مسائل پر رائے دیتے ہیں، انکے ساتھ رہتے ہوئے آپ کی دینی معلومات میں بھی اضافہ ہو گا۔ مال و دولت کو ہاتھ کا میل سمجھتے ہیں اور اکژ ہاتھ صاف رکھتے ہیں۔ ہمارے مطابق غالب نے اپنے اس مقطع میں ان ہی کا بیان پیش کیا ہے،

عشق نے غالب نکمّا کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے  
جاری ہے 

3 comments:

  1. bhai inke deni maamlaat sirf doosron ke liye hain.. apne liye in sey bara burger na kabhi koi tha aur na kabhi koi hoga :P .. nike aur adidas sey kam inhon ne kabhi baat nahi ki aur mastoorat ke maamle mai aik lambi fahrist hai lekin humarey hont silay huay hain :P

    ReplyDelete
  2. An article on my cousin?

    ReplyDelete
  3. @ first anonymous
    hahaha...Sshhhh! who is it btw?!

    @ second anonymous
    anas??

    ReplyDelete