Monday, September 6, 2010

سڈنی-آمد سے واپسی تک، اور واپسی ہوتی ہے-16




 اگست کی تیس تاریخ کو  فراز خان اور اگلے ہی دن شہبازواڈیوالا اور احسن شیخ باقاعدہ سند یافتہ ہو گئے کیونکہ جامعہ میں انکی تقریبِ تقسیمِ اسناد تھی۔ ہم فراز خان کی تقریب میں تو نہ جا سکے مگر احسن اور شہباز کے ساتھ ضرور تھے۔ لگ بھگ آٹھ سو کا مجمع ہوگا جس میں طلبہ و طالبات سمیت  انکے اہلِ خانہ اور دوست احباب سبھی موجود تھے۔ قاضی فہد ، سیّد فراز علی اور عمران کی حمّیت میں ہم بھی وہیں موجود تھے۔چبوترے  یعنی اسٹیج پر  جامعہ کے صدر اور دیگر منتظمینِ کرام براجمان تھے۔نائب امیر جامعہ ایک خاتون تھیں جن کا کام اسناد کی تقسیم کا تھا۔ تقریب خاصی پروقار اور انگریزی طرز کی تھی، تمام طلبہ و طالبات اور جامعہ کے اکابرین نے مخصوص جبے اوڑھ رکھے تھے، ایک ایک کر کے سب کے ناموں کا اعلان ہوتا اور طالبِعلم اپنی باری پر جا کر سند وصول کرتے اور پھُندنے والی چپٹی سطح کی ٹوپی کو پکڑ کر ہلکا سا سر خم کرکے سلام کرتے تھے۔  تقریب کے دوران عمران اپنے کیمرے سے متحرک عکسبندی کرتے رہے اور قاضی ساکن۔ ایک چینی طالبہ نے کمال کیا کہ  پیروں میں اُونی طرز کے جوتے ڈال کر تشریف لے آئیں اور اسی حالت میں ہی سند وصول کی۔ میکڈونلڈز آسٹریلیا کے اول ترین ملازم اور مالک نے اپنے ذاتی تجربات پر روشنی ڈالی، وہ بھی ہماری ہی جامعہ کے پرانے سند یافتہ تھے۔ تقریب کے آخر میں پیانو پراختتامی دھُن بجائی گئی اور یوں یہ تقریب انجام کو پہنچی۔ اسکے بعد دونوں  نے جی بھر کے انداز اور مقام بدل بدل کر تصاویر بنوائیں۔

یہ واڈیوالا اور تابش کا سڈنی میں آخری دن تھا، سحر کے قریب تابش رخصت ہوئے اور اگلے دن واڈیوالا بھی شام میں کراچی کیلئے روانہ ہو گئے۔ احسن شیخ  بھی اپنا پاکستان کا ٹکٹ کٹا کر بیٹھے ہیں اور واپسی کے دن گن رہے ہیں۔ ان تیرہ ماہ میں سب نے پردیس سے بہت کچھ سیکھا اورساتھ ہی اصل مقصد بھی حاصل کیا، یہاں کا رہن سہن، لوگوں سے میل ملاقات، شہر سے آگاہی، گوروں کے کام کرنے کا انداز، ڈالر کمانا، سیر سپاٹے اور دیگر بےشمار امور ایسے ہیں جو یہاں آکر ہی سیکھے جا سکتے ہیں۔ ان تمام معاملات سے آپکی سوچ میں وسعت آتی ہے اور آپ واپس وطن جا کر نہایت خوش اسلوبی سے اپنے فرائض  انجام دے سکتے ہیں۔

اسی بات پر ہم  اس بلاگ کا خاتمہ کرتے ہیں کیونکہ احسن، فہد اور واڈیوالا سے اس بلاگ کا آغاز کیا گیا تھا اور اب انکی ایک ایک کرکے واپسی ہو گئی ہے۔ ان لوگوں کا یہاں آنے کا اصل مقصد پورا ہوا، ہم اللہ تعالٰی سے انکے بہتر اور روشن مستقبل کے دعا گو ہیں۔ ختم شُد

2 comments:

  1. INshallah
    Allah Sab ko apna naik maqasid main kamyab karay

    waisay hamara jee nahin bhara aglay blog kay intazar main hain :D

    ReplyDelete
  2. Ameen!! Thank you/JazakAllah Ayaz bhai for the amayzing description of our Australia trip in your blogs. These blogs will be read in coming years and will help us recall great moments of laugther that we have shared togther. I have came to known many new people during my stay and its been a great experience and fun with all "Anzac Parade Friends". Hope that we can get-togther soon in future. Inshallah!!

    ReplyDelete