Wednesday, September 8, 2010

تصویرِ ہمدرداں - لو اب ہم بھی استاد ہو گئے





ہماری سالگرہ کا مہینہ ،شمسی سال کا گیارہواں مہینہ ہے اسی ماہ کے آغاز میں سن انیس سو اٹھانوے عیسوی کو کہ جب ہم شعبہ طبیعات، مادرِعلمی جامعہ کراچی میں عارضی طور پر پڑھا رہے تھے تو ایک دن ڈاکٹر برجیس نفیس نے ہمیں کہا کہ ہمدرد کالج میں ایک لیکچرار کی آسامی ہے، جا کر انٹرویو دو اوروہاں صرف انگریزی میں بات کرنا۔ ہم نےاپنی میڈم کی بات کو پلّے باندھ لیا اور  معلومات حاصل کر کے ہمدرد اسکول/ کالج کی بس نمبر 29 میں سفاری پارک سے عازمِ سفرِ بجانب ہمدردہوئے۔ اس بس سے ہمارا رشتہ آنے والے برسوں میں بھی جڑا ہی رہا اور ہم آخری دن بھی اسی کے ذریعہ ہمدرد گئے تھے۔
اُن دنوں ہم مختلف اداروں میں انٹرویو دیتے پھر رہے تھے جس میں ماہِ ستمبر میں غُلام اسحٰق خان انسٹیٹئوٹ قابلِ ذکر ہے کہ یہاں ہم الحمداللہ 40 امیدواران میں سے منتخب بھی کر لئے گئے تھے مگر ہمدرد کو اس پر ترجیح دی۔ خیر محترم سلیم جتوئی ، صالح جتوئی اور علی بہادر کاکا اسی بس میں ہمدرد جا یاکرتے تھے۔ ان سے پہلی ملاقات اسی سفر میں ہوئی، سلیم جتوئی نے ہمیں مسز گلزار کے حوالے کیا۔ میڈم گلزار نے چھوٹتے ہی محترم سجاد احمد کوبلا ڈالا اور ہمیں ان کو سونپ دیا۔ حکم ملا کہ تیاری کر لیں آپ کا درسِ زبانی کا مظاہرہ یعنی ڈیمو لیکچر ہو گا اور ساتھ ہی سیکنڈ ایئر کی طبیعات کی کتاب ہمیں تھما دی اور حرارت کے باب سے حرارتی پھیلاو کا موضوع پڑھنے کو کہا۔ ہمیں یاد ہے کہ ہم مسز روبینہ کے کمرے میں اس کتاب کے ساتھ اکیلے چھوڑ دیئے گئے۔ اب ہم دل ہی دل میں صورتِ حال سے محظوظ ہو رہے تھے کہ یہ کتاب ہمیں کم و بیش منہ زبانی یاد تھی،کیونکہ ہم سن پچانوے سے شہر کے مختلف کوچنگ سینٹرز میں باقاعدہ طبیعات اور ریاضی پڑھا رہے تھے۔ خیر سجاد صاحب کے حکم کے مطابق ہم نے ایک بار کتاب دیکھ ڈالی۔ کچھ دیر میں ہمیں سیکنڈ ایئر انجینیئرنگ  کے سیکشن میں لے جایا گیا۔ 25، 30 کا مجمع تھا جس میں گنتی کی طالبات اور باقی طلبہ تھے۔ ایک صاحب سفید شلوار قمیض میں ملبوس پچھلی نشست پر براجمان تھے، جن کی بابت بعد میں معلوم ہوا کہ یہ ہر دلعزیز محترم خالد صدیقی تھے۔ سجاد صاحب نے ہمیں لیکچر شروع کرنے کا کہا، اسی دوران میڈم بھی تشریف لے آئیں۔ اس جماعت میں سال اول کے پوزیشن ہولڈر آصف امتیاز خان بھی موجود تھے۔ ہم نے اللہ کا نام لے کر لیکچر کا آغاز کیا تو ہم پر سوال آصف امتیاز خان نے ہی داغا۔ ہم نے بورڈ سے انکی نشست پر جاکر سوال کا مفصّل جواب دیا، جب ہم جواب دے رہے تھے تو ہم نے میڈم کی ستائش بھری نظریں  تاڑ لی تھیں۔ قریبا پندرہ بیس منٹ میں ہی ہم فارغ ہوئے اور  موضوع مکمل کر دیا۔ آصف امتیاز خان نے ہمارے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے مسز گلزار کو ایک سطر لکھ کر دی  کہ "ہِی وِل ڈُو" یہ بات بھی اور بہت سی باتوں کی طرح ہمیں بعد میں پتہ چلی تھی۔
کم و بیش یہی کاروائی میڈیکل کے سیکشن میں بھی دوھرائی گئی، اسکے بعد ہمیں میڈم کے دفتر میں بلایا گیا اور اب میڈم کے ساتھ بالمشافہ گفتگو ہوئی، میڈم نے ہم سے فقط ایک بات پوچھی کہ زمانہ طالبِعلمی میں ہم کونسی زبان میں پڑھتے اور جوابات دیتے تھے۔ ہم تو پہلے سے سکھائے ہوئے تھے کہ اس کا جواب انگریزی کے سوا کچھ نہیں دینا۔ تو جھٹ کہا کہ ہم توہمیشہ انگریزی ہی میں پڑھتے اور جواب دیتے آئے ہیں۔ یہاں یہ بتاتے چلیں کہ یہ  ہماری زندگی کا دوسرا انٹرویو تھا جو ہم نے پورا انگریزی میں دیا ورنہ اس سے پہلے ہم نے اتنی انگریزی ایک ساتھ کم ہی بولی ہو گی۔ خیر میڈم ہمیں منتخب کر چکی تھیں مگر پوری طرح سے اعلان نہیں فرمایا تھا، بس ہمیں مشاہرہ کا اندازہ دینے لگیں۔ ہم ان سے رخصت ہوئے اور اگلے ہی دن میڈم برجیس کو جاکر تفصیل بتا دی، میڈم نے کہا کہ فکر مت کرو تم منتخب ہو چکے ہو۔
اب ہم ذرہ پسمنظر بیان کرتے چلیں کہ کیا معاملہ جاری تھا پسِ پردہ۔ ہمدرد کے اس دور کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ کو شاید یاد ہوگا کہ اس وقت بلاک تھری کے شعبہ طبیعات میں تین اساتذہ تھے، سجاد صاحب، سائرہ عارف اور برجیس طاہرہ۔ ان میں سے موخرالذکر یعنی محترمہ برجیس صاحبہ نے ہمدرد چھوڑ دیا تھا اور بیچ برس میں ملازمت سے مستعفی ہوئیں تو ہمدرد میں یہ آسامی خالی ہوئی۔ اب سائرہ عارف جو جامعہ میں ہم سے دو سال پرانی تھیں اور میڈم برجیس کی رشتہ دار ہوتی ہیں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا کہ کوئی جامعہ سے ہی آکر اس خلا کو پُر کرے، قصہ مختر یہ کہ ہمارے بعد بھی ایک دو ڈیمو لئے گئے مگر مالک نے ہمدرد کو ہماری ہی روزی کا ذریعہ بنانا تھا تو ہم گیارہ نومبر کو یہاں استاد ہو گئے۔
جاری ہے، اگلہ حصہ یہاں پڑھیں

13 comments:

  1. bohat hi zabardast sir. aap ki tehreer ne to poora manzar zehan main taza kerdia. aglay hisay ka bechaini se intazaar rahay ga.

    ReplyDelete
  2. Bohat Khoob Sir...
    Aglay Hissay ka besabri say intizar hai....

    ReplyDelete
  3. MAshallah..!! maza agaya, apne ne kahani ki barikiyan buhat achey se bayan ki hain.. i salute 2 ur memory!! :) itni achi memory ka raaz kya hai siR??

    ReplyDelete
  4. wah wah ! itni zabardast angarizi pehli hi baar main wakai yakeen nai aata ...(Y)

    ReplyDelete
  5. Itnay dino k bad urdu mai koi article parha aur kia khoob likha hai , aapko apni biography likhni chahiye , Keep it up sir !!

    ReplyDelete
  6. it was nice reading (let me tell u i dnt lyk reading bt still i read n found interesting... is liye pura parhna para :))....... n urdu was qayamat!!! ;)....n thnx for nt joining GIK :)....God Bless U always :)

    ReplyDelete
  7. @Syed: apna poora naam to likho bhai
    @All: yeh Anonymous sahib Khyzar Danish hain sun lain sub log ;)

    ReplyDelete
  8. Thnx 4 telling sir !! otherwise i was jus posting a second comment !!

    ReplyDelete
  9. WOW!! donot have words to express my feelings...I was in pre- medical section 2nd year when u joined hamdard..yes it was a time of shortage of quality physics teachers...thanks for joining hmdard and teaching us.

    ReplyDelete
  10. bus sir kamal to sara app ke english nay he dha dala hoga warna physics wsyhics to her ike to ate hoge :D. i m waiting for it to proceed.

    ReplyDelete
  11. hmmmm nice sir,,,,...main us waqt school main nhe teh but,, app nay muj ko bata diyah k kyah kyah kisay hova karta tah hamdard


    urooj nasim

    ReplyDelete