Friday, September 10, 2010

تصویرِ ہمدرداں- دوڑپیچھے کی طرف اے گردشِ ایّام تُو

اس سال ہم نے صرف کالج میں ہی پڑھایا اور کیونکہ بیچ برس میں آسامی پُر کی تھی تو کام کا بوجھ بھی زیادہ نہیں تھا فقط محترمہ برجیس طاہرہ کے حصہ کا کام ہمیں دیا گیا تھا جو پہلے ہی ان کے صدرِ شعبہ طبیعات ہونے کی وجہ سے کم تھا۔ ہم سے پہلے ہی ہمدرد میں ہمارے افسانے پہنچ گئے تھے کہ آصف امتیاز والی جماعت میں ایک  طالبہ، رابعہ تسلیم انصاری کی ایک عدد بڑی ہمشیرہ  طلعت انصاری ،جامعہ کراچی کے شعبہ طبیعات میں ہم سے ایک سال پیچھے تھیں اور ہم انکی جماعت کی سالِ آخر کی تجربہ گاہ میں معاونت کرتے تھے۔ ان دونوں کی ایک اور ہمشیرہ خُرد، دلکشاانصاری ان دنوں ہمدرد میں ہی درجہ چہارم میں تھیں۔سولہ اگست سن دو ہزار چھ کو جب ہم نے ہمدرد کو خیرباد کہا تو اسی دن  سن اٹھانوے کی کمسن ترین بنتِ انصاری  درجہ دوازدہم میں پہلے دن کی پڑھائی کر رہی تھیں۔

 سن دو ہزاردو کےآغاز میں ہمارے برادرِ خُرد محمد شہبازاخترجو ہمدرد میں کمپیئوٹر پڑھاتے رہے،عمان چلے گئے وہاں انکی ملاقات ایک ہموطن سے ہوئی جن کا نام طارق تھا انکی اہلیہ طلعت انصاری نکلیں اور انکی صاحبزادی دانیہ ہماری بھتیجی رومیشہ سے کھیلا کرتی تھیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ  اس چھوٹی سی دنیا  میں ہمارا ہمدرد سے کیسا  انوکھا تعلق  رہا ہے کہ جو اگلی نسل تک منتقل ہوا۔ اس ادارے نے بفضلِ خدا ہمیں خاصے برخوردار قسم کے  طلبہ و طالبات کا لشکر بخشا کہ جو دنیا کے طول و عرض میں پھیلا ہو ہے۔

سائرہ عارف سال اول  میڈیکل میں پڑھا رہی تھیں جب ہم پہلی دفعہ اس جماعت میں گئے۔ ہم نے وہاں آٹھواں باب سادہ ہم آہنگ حرکت پڑھانا شروع کیا سائرہ بھی شوق میں وہاں بیٹھ گئیں، خیر ہم نے سمپل، ہارمونک اور موشن کو الگ الگ کر کے بیان کیا اور چند مثالیں پیش کیں۔ بعد میں سائرہ نے ہمارے اس  انداز کو خاصا سراہا۔

طبیعات ایک خشک مضمون سمجھا جاتا ہے اور اسکے پڑھانے والے بھی عام طور پر سنجیدہ اور سنکی جانے جاتے ہیں، ہمدرد میں شروع کے دور میں ہم سنجیدہ ہی رہا کرتے تھے یہاں تک کہ مسز گلزارہماری بابت  فرمایا کرتیں کہ یہ کبھی ہنستا بھی ہے۔' آئی ہیو نیور سین ہِم لافنگ، ہی ازٹُو سیریئس' اور ادھر ہم کمرہ اساتذہ میں لطائف سنایا کرتے تھے۔
  
ان دنوں ہمدرد میں شعبہ ریاضی میں  محترم طارق ظفر، محترم خالد صدیقی، محترم  امیر صاحبان ہوا کرتے تھے۔ طبیعات  کے اساتذہ کا  ہم پہلے ذکر کر چکے ، کیمیاء میں محترمہ صبا مسرور، محترمہ کشور شجاع اور محترمہ ریحانہ، حیاتیات میں مسز زیدی اور مس عطیہ، اردو میں محترمہ فرزانہ اسد، محترمہ افشاں یاسمین اور محترمہ ممتاز فاخرہ، انگریزی میں مسز قادری،مرحومہ مس ترانہ اور مس امبر منصور، اسلامیات میں محترم رئیس احمدشامل تھے، سندھی میں محترم  سلیم و صا لح برادران کی جوڑی تھی جبکہ مطالعہ پاکستان مس ثرّیا اور مسز شاہانہ اطہر پڑھاتی تھیں۔ مسز نوشابہ ان دنوں  سبکدوش ہوئیں تھیں اور انگریزی ہیں محترم حامد اختر آئے تھے، حامد صاحب استادوں کے استاد تھے اور اردو بہت عمدہ اور شائستہ بولتے تھے۔ دہلی کالج میں ہمارے انگریزی کے استاد حسن اکبر کمال ، حامد صاحب کے شاگرد رہ چکے تھے۔ایک شخصیت کے ذکر کے بغیر تصویرِ ہمدرداں نا مکمل رہے گی، وہ ہیں محترم الحاج سیّد اصغرعلی شاہ بخاری صاحب، ہمیں امید ہے کہ بہت سے طالبِعلموں کو انکا پورا نام معلوم نہیں ہوگا۔ یہ  ورزش  اور کھیل کودکرایا کرتے تھے اور صبح کی قرات، ترانہ اور دیگر ہم نصابی سرگرمیوں کے رُوح رواں تھے۔ ان پر ایک تفصیلی بلاگ لکھا جا سکتا ہے، قارئین کی فرمائش ہوئی تو سوچا جا سکتا ہے۔

 ان میں سے کافی خواتین و حضرات ہمدرد چھوڑ چکے ہیں  اور نئے چہروں نے انکی جگہ لے لی ہے، ہماری معلومات کے مطابق مذکورہ بالا شخصیات میں سے اب صرف  مس صبا، مسز زیدی، مس  فاخرہ، مسز اسد، رئیس احمد، سلیم جتوئی اور مس ثرّیا ہمدرد میں موجود ہیں اور باقی سب نوواردوران ہیں۔

ذیل میں ہم سن ننانوے اور دو ہزار میں ہمدرد سے انٹر کرنے والے شاگردوں کے نام مع انکے بہن بھائیوں کےدرج کر رہے ہیں، یہ تمام بھی بعد کے سالوں میں ہمدرد  سے ہی سند یافتہ ہوئے ، اس فہرست میں کسی غلطی کی نشاندہی قارئین کے ذمہ ہے کیونکہ ہماری یادداشت  سے چند نام مکمل یا نا مکمل طور پر معدوم ہوتے جاتے ہیں۔
آصف امتیاز خان اور سعدیہ امتیاز خان
محمدمعیز
 تابش علیم اور سمیعہ علیم
 معروف ہاشمی اور ماریہ ہاشمی، ایک ہی ساتھ میڈیکل کے سیکشن میں تھے
 شہریارعزیزاور  ندا عزیز
عدنان انور
 سبینہ انور مقّدم اور اسد مقّدم
 منیزہ مجید اور ثاقب کامران
 شائستہ احترام انکے بھائی کا نام ذہن سے  محو ہو گیاہے
 محمد عمر
 شمیم صدیقی
 محمد کاشف
 مرزا یوسف بیگ
 ہارون
 صبا خان
 طارق
 کنورسارم حسین اور درِشہوار
عروشہ سلیم
 مدیحہ نجیب انکے بھائی حمّاد نجیب اور بہنیں، حیّا نجیب، بینا نجیب اور کومل نجیب
 جویریہ بدّراور وقاص سلطان
فرح رفیق صدیقی
ناذیہ ادیب
ثناء شاہد
عروج مغل اور حرا مغل
خدیجہ
سویرا نواز اور عباد

بہت سے نام یہاں نہیں ہیں تو قارئین تبصروں کے دوران  یاد کرا سکتے ہیں۔
جاری ہے  

10 comments:

  1. Bohat Khoob Sir.....Aap nay tu addicted kardia hai apni khudnawisht say hamain..
    Aglay hissay ka bechaini say intizar hai....

    Hasan Umar

    ReplyDelete
  2. after reading old memories reborn in my mind :) all the great teachers you have named i have the honour to be taught under there experience, i am from second batch of Hamdard and at the same time my sister was in first batch of hamdard :) myself Moeez Hussain with my sister Mehreen Fatima i would to add one name who make the name of our batch and our school taking position in metric board only second year of hamdard recognition Mr Asif Imtiaz and elder brother Tariq Imtiaz. All we friends are still in contact thanks to Face book :) but still good to read this blog.

    if any one needs any help you can contact me on

    moeez@cyber.net.pk

    Regards
    Moeez Hussain
    2nd batch Hamdard school

    ReplyDelete
  3. maza agaya sirR!! bohat khooob.. keep it up!! :) w8ing for next part eagerly!!

    ReplyDelete
  4. sir bohat khob. waisay aap ne sahi kaha. aap waqai bohat sanjeeda lagtay thay. sir aap ne likha ke sir bukhari ke baray main likh saktay hain agar koi farmaish aaye to. meri samajh se yeh farmaish note ker lain. ab next part ka intazaar rahay ga.

    ReplyDelete
  5. I also agrre with the above comment.....
    There should be at least 2 or 3 episodes only on Bukhari Sahab....and same number of pages for Ameer Sahab....
    "aaao baat karain"

    Shahbaz Akhtar

    ReplyDelete
  6. Lovely article...thanks for remembring my name, it feels gr8..my brother's name is Muhammad Shan Malik...

    shaista malik

    ReplyDelete
  7. superb!
    bht he umda tehreer hai sir..aur apkay hafzay k tou kia he kehne hain subhanALLAH..mra aur mri hamsheeraon ka zikr karne ka shukriya..aur bhanji ka b....adaab...

    ReplyDelete
  8. hmmmm,,, sir muj ko fakar hai k app jisay teachers jis plate fram par teh mainay wahan say paraha ,, superbbbbbbbbbbbbbbbbb!!



    urooj nasim

    ReplyDelete
  9. sir next part kab aeee gaaaaaaaaaaaaaaaaaaa.....


    urooj

    ReplyDelete
  10. great work .n am happy that u mentioned my name as well:) i wonder y u portrayed urself so serious in early days although v could sense sarcasm n humor in some of ur classes .

    u named chemistry teacher as miss rehana which is miss zareena .

    ReplyDelete