Saturday, September 11, 2010

تصویرِ ہمدرداں- ہمدرد کی بس میں سفر ہو رہا ہے

بس نمبر 29  کا ذکر ہم کر چکے کہ یہی بس ہماری سواری برائے سفرِ ہمدرد رہی۔ ہم بس میں سوار ہوتے ہی حاضر سروس یعنی آن ڈیوٹی ہو جایا کرتے تھے۔ کون بس میں کس نشست پر بیٹھا ہے اور کیا کر رہا ہے  بلکہ بعض اوقات یہ بھی  پتہ چل جاتا تھا کہ کیوں کر رہا ہے۔ پرائمری کےمعصوم  بچے آتے جاتے سوتے رہتے تھے  اور اسکول یا گھر آنے پر ہی اٹھتے تھے۔  شروع میں ہم بھی چکرا گئے خصوصا پہلی مرتبہ کہ ہمدرد آ کر ہی نہیں دے رہا تھا، سرجانی ٹاون تک تو کراچی ہم نےپہلے بھی دیکھا تھا مگر شاہراہ مدینۃ الحکمت پر سفر ہمیں انگریزی والا سفر لگنے لگا۔ پرانے ہمدرد والے جانتے ہیں کہ یہ سڑک کیسے معرضِ وجود میں آئی ، بہت شروع میں یہ فقط راستہ ہوا کرتی تھی پر آہستہ آہستہ یہاں ہمدرد کی بدولت رونق ہونے لگی۔ اسکول، ولیج اسکول ، کالج،جامعہ اورروح افزا کے کارخانے نے اس علاقہ کے لوگوں کو جہاں تعلیم اورروزگار کے مواقع بخشے وہیں ذرائع آمد ورفت میں بھی ترقی ہوئی۔ حکیم محمد سعید کو اللہ اسکا اجر عطا فرمائے کہ انھوں نےصدقہ جاریہ کا اہتمام کیا۔
بس کے اندر کے مناظر سے پہلے ہم باہر کے حالات بیان کرتے چلیں، گورنر معین الدین  حیدر کے حکم پر یہ سڑک نئے سرے سے بچھائی گئی تھی۔ہمدرد جاتے ہوئے سرجانی کے بعد یہ شاہراہ مرغی خانوں اور دیگر کار خانوں کے بیچ سے گزرتی ہے،  جب آپ سرجانی کا آخری چوراہا پار کر کے مرکزی شاہراہ کی طرف چڑھائی پر آتے ہیں تو امونیہ گیس کی ایک ناقابلِ فراموش بُو آپ کے نتھنوں سے ہوتی ہوئی حلق کے راستے سیدھی پھیپڑوں میں اترتی ہے، اس مقام پر ہم نے اچھے خاصے بے پردہ لوگوں کو باپردہ ہوتے دیکھا ہے۔  پھر آپ دائیں جانب موڑ کاٹ کر جاویداں سیمنٹ فیکٹری سے آنے والے مرکزی راستہ پر آتے ہیں اور یوں شہر کی آلودہ فضا سے کسی حد تک چھٹکارا پاتے ہیں، مگر یہ عارضی نجات اس وقت رفو چکر ہوجاتی ہے  جب آپ شہر صنعت کے قریب پہنچتے ہیں کہ کراچی کی کچرا کنڈی  میں جلنے والے کچرے کا دھواں آپ کے پھیپڑوں کو پھر سے گُدگُداتا ہے اور آپ  پر ؛یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے؟' کے معنی وحی کی صورت اترتے ہیں۔ حضرت آباد تک آتے آتے سورج کی موجودگی کا ٹھیک ٹھیک ارداک ہو جاتا ہے اور اگر آپ مشرقی سمت بِنا پردوں کی بس میں سو رہے ہوتے ہیں تو شمسی توانائی آپ کے جِلدی مساموں میں وٹامن ڈی کی اسقدر زیادتی کر دیتی ہے کہ آپ چار و ناچار  خواب بس سے بے بسی کے عالم میں فقط بس میں پہنچ جاتے ہیں۔ اتنے میں جامعہ ہمدرد کے قریب شمالی گزر گاہ یعنی ناردرن بائی پاس کا کوہان چڑھ اور اتر کر آپ سیدھے ہوکر بیٹھ جاتے ہیں کہ چلو منزل آن پہنچی۔ یہ تجربہ ہمدرد کے سبھی مسافر کر چکے ہیں ، امید ہے کہ سب ہمارے مندرجہ بالا بیان سے اتفاق کریں گے۔

اب آتے ہیں بس کے داخلی معاملات پر، صبح کا وقت خاصا بھاگ دوڑ کا ہوا کرتا تھا خصوصا جب آپ سویرے دیر سے بیدار ہوں، ان گناہگار آنکھوں نے دیکھا کہ لوگ جوتے ہاتھ میں پکڑے بس میں سوار ہو رہے ہیں، ناشتہ بس میں فرمایا جا رہا ہے، بال سنوارنے کو بھی بس سے بہتر کوئی جگہ نہیں۔  چند منچلے اسکول کی وردی بھی بس میں سوار ہو کر ترتیب دیتے تھے وگرنہ وہ شلوار قمیض کا تاثر دیتی تھی۔  ہمدرد کی بسوں کے ڈرائیور  حضرات ایک خاص قسم کی مخلوق ہیں کہ ان پر کسی کا کوئی بس نہیں چلتا تھا۔ بادشاہ لوگ ہیں کہ حدِ رفتار کی کوئی حد نہیں- چند منٹ کی دیر یا عجلت  پربچوں کے  والدین  اور کبھی کبھار اساتذہ کے ساتھ تکرار  بھی روز مرہ کا حصہ تھی۔مرکزی دروازے سے اسکول میں داخل ہونے پر دنیا بدل جاتی اور ہر کوئی اپنے اپنے مقام مجمع کی جانب چل پڑتا، مگر آفرین ہے اُن ہمدردان پر  جو نُون قلم کے پاس پہنچ کر چلتی بس سے برآمد ہوتے تھے۔

چھٹی کے وقت نُون قلم بھی کیا جگہ تھی  کہ احمد  فراز کے مصداق 'مکیں اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں' اس مقام پر ہم نے ہر دور میں مخلوط و غیر مخلوط تعلقات کو بنتے ٹُوٹتے دیکھا۔ اسکول کی لڑکیاں کالج کے لڑکوں پر ہنس رہی ہیں تو کالج کے لڑکے آتے جاتوں پر آوازے کس رہے ہیں، کہیں  تحفے تحائف کا تبادلہ ہو رہا ہے تو کہیں  جملوں ، اشاروں یا فقط نظروں سے کام چلایا جا رہا ہے۔ بچے ہیں کہ اندھا دھند بھاگ رہے ہیں اور دوسروں سے ٹکراتے پھررہے ہیں ۔کوئی ٹولی  اگلے دن کی چھٹی کے منصوبے بنا رہی ہے تو کچھ گزرے دن کے قصّے سنا رہے ہیں کہ اچانک بخاری صاحب کی سیٹی اس سارے مجمع کو تتربتر کر دیتی ہے اور ہر کوئی اسکو صوتِ صُور سمجھ کر اپنی اپنی بسوں کی جانب دوڑتا ہے، اس پر بھی چند مچلتی روحوں کو تسکین چلتی بس میں سوار ہونے سے ہی ملتی تھی اور یوں واپسی کے سفر کا آغاز ہوتا۔

واسپی میں شور و تفریح کا عنصر غالب رہتا ہے خاص کر کہ جب اگلے دن تعطیل ہو۔اُردو/ انگریزی ناول پڑھے جا رہے ہیں۔ باتیں ہو رہی ہیں، پرچیوں پر یا کتابوں کے صفحات سے کھیل کھیلے جا رہے ہیں، مثلا بادشاہ، وزیریا کرکٹ وغیرہ، ایک دوسرے کو اپنی اپنی جماعت کی کاروائی سنائی جا رہی ہے،  پیاس لگتی ہے تو طلبہ سمیت اساتذہ آپس میں پانی کی بوتلیں  ٹٹولتے ہیں اور ایک ہی بوتل پوری بس کے مسافروں کی پیاس بجھاتی ہے ۔ کچھ کو یہ تجسس کہ اساتذہ آپس میں کیا باتیں کرتے ہیں اور چند کو یہ خطرہ کہ کوئی انکی باتیں نہ سن لے۔ نوجوان ہیں کہ اساتذہ کی تنبیہ کو سُنی ان سُنی کر بس کے دروازے میں ہی کھڑے ہیں ۔

 ہماری بس کے امیر ہردلعزیز صالح جتوئی تھے کہ جو بس میں نشستیں مختص کیا کرتے تھے اور شرارتی بچوں کو سزا دینے کی خاطر اپنے یا کسی اور استاد کے ساتھ بٹھا دیتے تھے کہ بیچارہ بچہ سونے میں ہی اپنا سفر گزار دیتا تھا۔ کبھی کبھار منت سماجت پر سزا معاف بھی ہو جاتی تھی اور کھلی چُھوٹ دے دی جاتی تھی۔ یہ اور اس جیسے کئی مناظر کم و بیش ہر دور میں ہر بس سے وابستہ رہے ہیں، ہم نےاپنا مشاہدہ اور تجربہ قارئین کی نذر کر دیا ہے کہ پڑھیں اور تبصروں سے نوازیں۔
جاری ہے  

18 comments:

  1. waisay sir aap ne bus ka naqsha bilkul sahi kheencha hai.waisay 9 years us raastay per travel kernay ke bawajood mujhay surjani ke baad ke kisi ilaqay kay naam nahi pata thay. ab aap ki badolat maloom huay hain

    ReplyDelete
  2. Bohat khoob Sir aap nay bilkul sahi naqsah kheencha hai kam-o-paish her buss mai aisay hi Safar aur Suffer hota tha..
    Aap ka yeh jumla tu dil ko choo gaya
    "Hakeem Saeed ko Allah iss kaajar ata farmaye k unhone aik Sadqa-e-Jaariya ka ahtimaam kia aur badlay mai badnaseeb qoam nay unhain Goli say nawaza."
    Hasan Umar
    Baat tu such hi hai yeh....

    ReplyDelete
  3. wah sir ibn-e ansha ka safar naama kis khoobi se yaad dilaya h ap ne k dil khush hogaya :),or writing me noon qalam par honay walay waqaiat tu bht e mazahhia the, apna waqt yaad agaya :P k srf isharo se kaam chalaya ja raha h :D

    ReplyDelete
  4. wah sir, amonia gas!!! kya yad dila dia, beparda log baparda hojate.. i liked yhis sentence lolz.. :P

    Bus me beth k nashta..is quite good point!! mujhe mera bachpan yaad agaya.. :) noon kalam, ki tasveer achi khenchi hai apne! maza agaya.. sath hi sath ek waqiya b yaad agaya... usi jaga pe mene apni frnd ka roza tootne se bachaya tha, jo Ramdan k dino me bekhayli me pani pinay wali theeeennn...

    Overall, buhat mazaya aya blog parh k!! maazi ki yadain buhat achey se taza hogaeen.. 'kaaashh k woh waqt loaat ayee' :'(

    w8ing for next part eagerlyy...!!!

    ReplyDelete
  5. Sir you have talent of a good writer.
    Pls do continue and also write about your other day to day experiences.

    ReplyDelete
  6. Thanks for reading and commenting. All my readers are valuable for me whether they comment or just read and don't comment, not. I would be more than happy if you please mention your names while commenting.

    ReplyDelete
  7. gr8 work sir ... her bus k yehi kahani thi.
    loving ur blog!

    ReplyDelete
  8. bus mein beth kay nashta karnay walao say shadeed koft rahe hai mujhe n ajj jab mare university ka safar car mein hota hai to mein baat kuch is tarah bhool gaye the k jisa asa kuch hota he na ho.thx for reminding sir :) aur mujhe yaad bhi yaad hai k kis tarah mein ruk jaya karte the un logo ko dkehnay jo subah noon o qalam pay he jake utra kartay thay.that time was gr8 and so is ur blog.

    ReplyDelete
  9. muha phr vo din yaad aneee lagee hain
    jinhaa bhulanee mai zamane lagee hain

    khae thee jo thapr hum na teachero sa
    vo thapar mujhaa yaad anee lagee hain

    vo X-D ka roz naee mansobee bnana.....
    vo galat khayal phr sa anee lagee hain

    (khumaar sahab ki rooh sa maazrat :P)

    ReplyDelete
  10. Sir Kindly continue this series, perhaps some more sketches of the individual evergreen hamdard figures like Sir Bukhari, Madam Gulzar, Mrs Asad, Miss Afshan, Sir Sualeh etc

    ReplyDelete
  11. Mrs Asad and Sir Sualeh wil;ll love to read more abt them!!

    Anam Hasan

    ReplyDelete
  12. wah sr wah ! is se bhtr tou shayad hi koi bayan karsakta hoga hamdard ki bus k manzar ko (y)...yakeenan jinhon ne in busses ka safar nahin kia unhon ne bht kch nahin dekha ! waise is safer ki hi wajah se bht se log hamdard main dakhla lene se ghabrate the mager ab aap k blog ko parhney k baad un ki ye pareshani bhi door hojae gi :D

    ReplyDelete
  13. hehheh murgiiii hehhehe,, sir zabardastttt


    urooj

    ReplyDelete
  14. hamdard tak k raste tak ka jo naksha khancha hay maza hi aa gaya
    keep it up sir

    ReplyDelete
  15. MAin nay ajj dobara parha aur aik baar phir maza aa gaya (Y)ab aglay saal bhi share karna mat bholiye ga ;)

    ReplyDelete
  16. Aqsa Adnan

    mazedaaar bohat refreshing blog hai grade 4th se 2nd yr premedical 10yrs bus no5 har dil azeez bus aur uskee dheer saree yadeen luv it

    ReplyDelete