Monday, September 13, 2010

گُڑ کی سی بات

ایک اخباری ٹی وی چینل نے عید کے حوالے سے ایک خبر دکھائی جس میں ایک مسجد کے باہر پہرا دینے والے پولیس کے سپاہی کو روتا دکھایا گیا ہے کہ عید کے روز بھی وہ اپنوں سے دُور ہے اور اسکی آنکھوں میں آنسو ہیں۔ یہ آنسو ہمارے معاشرے کی بے حسی کو ظاہر کرتے ہیں کہ عید کے روز بھی اس سپاہی کو کوئی گلےلگانے کو تیار نہیں۔ یو ٹیوب کی اس ویڈیو کے نیچے مختلف افراد نے تبصرہ جات فرمائے ہیں جو کہ کچھ ملے جلے سے ہیں۔چند کے مطابق پولیس والے اسی لائق ہیں اور کچھ فرماتے ہیں کہ وہ بھی انسان ہیں انھیں بھی عید منانے کا حق ہے اور انکا بھی خیال رکھنا چاہیئے۔

ہم محترم مرحوم اشفاق احمد صاحب کو اپنا پیر و مرشد مانتے ہیں، وہ اپنی کتاب زاویہ میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ وہ عید پر اپنے علاقے کے تھانیدار سے عید ملنے چلے گئے تو تھانیدار فرطِ جذبات سے آبدیدہ ہو گیا اور کہنے لگا کہ اشفاق صاحب اللہ آپ کا بھلا کرے کہ آپ نے ہمیں بھی انسان سمجھا۔

ہم لوگ اپنے طور پر چیزوں کو دیکھنے کے عادی ہیں اور زیادہ تر دوسروں کو ہی قصور وار گردانتے اور جانتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر میں گاڑی چلاتے ہوئے کوئی غلطی کروں گا یا گاڑی کے کاغذات پورے نہیں رکھوں گا تو ٹریفک پولیس والے کے پکڑنے پر میں اس بات کو ترجیح دونگا کہ میرا وقت ضائع نہ ہو اور میں سو پچاس دے کر چھوٹ جاوں۔ اس معاملہ میں رشوت لے کر جتنا پولیس والا قصور وار ہوگا اتنا ہی خطا کار میں بھی ہونگا کیونکہ میں نے ایک چھوٹا راستہ یعنی شارٹ کٹ اختیار کیا۔

ہم نے  اپنے انفرادی کردار اور سوچ سے پورامعاشرہ اسی طور پر ترتیب دے دیا ہے، پھر ہم بڑے مزے سے الزام پولیس ، حکومت یا دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔ ہمارا ملک جس قسم کے حالات سے دوچار ہے اس میں آئے دن کے بم دھماکوں سے بیچارے عبدالستار جیسے کتنے ہی پولیس والے قربانی کا بکرا بنتے ہیں اور بدلے میں انکے اہل خانہ کو جھوٹی تسلیاں بھی نہیں ملتیں۔ ہم کم از کم اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ انھیں ان کے فرض کی ادائگی پر تمغہ نہ سہی اخلاق سے سلام ہی کر لیں یا مسکرا کر دیکھ لیں۔

عبدالستار جیسے پولیس یا فوج کے سپاہیوں کی وجہ سے ہی ہم رات کو چین کی نیند سو سکتے ہیں کہ یہ کہیں مساجد اورکہیں پاک سر زمین کی سرحدوں پر پہرا دے رہے ہوتے ہیں۔ سیاچن کے برفیلے پہاڑ ہوں یا گرمیوں کے دوران کھوکھرا پار یا واہگہ بارڈر، ان ہی جیسے سپاہیوں کی بدولت دشمن اپنی سرحدوں تک محدود ہے۔

کہا جاتا ہے کہ بندہ گُڑ نہ دے گُڑ کی سی بات تو کرے، کیا ہم اتنا بھی نہیں کر سکتے؟  جواب ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں۔ 

5 comments:

  1. baat to sahi hai ke bohat se maamlaat main agar police kharaab hai to humara kirdaar bhi saaf nahi. phir bhi hum sirf police ko hi bura kehtay hain.

    ReplyDelete
  2. Bohat hi theek baat hai hum loag apnay girebaan mai jhaanknay ki taufeeq nahi rakhtay laiken yeh chahtay hain k baaqi sab her waqt hamari Ji Hazoori karain...
    Main nay jab yeh video dekhi thi uss k baad say I couldn't remove my mind from this thing hum loag itnay hi behiss hogaye hain shayad....

    ReplyDelete
  3. i saw that video too aur bht hi afsos hua dekh ke... :(( main agar un log ki jagah huti aur larka huti tou trust me usko galay zaror lagati!!

    Anam hasan

    ReplyDelete
  4. I agree police wale apnay ghar walon k saath na sahi doosron k saath eid tou mana hi saktay hain !

    ReplyDelete
  5. asal main hum log hi kharab hai ... agr hum sahi ho jai to sab sahi ho jai ga.... i also watched this video sir...aur shayad hum aun logan ki jagah hote to hum bhi aus police walai ko galai lagai begair hi chalai jate kio ke hum sab hi behis ho gai ahin....

    ReplyDelete