Saturday, October 2, 2010

تصویرِہمدرداں - پارٹیاں شارٹیاں

گو کہ اردو کے لحاظ سےاس تحریر کی سُرخی غلط ہے مگر اِس موضوع کا خیال ذہن میں آتے ہی ایسا ہی جوش و ولولہ ہمدرد کےطلبہ وطالبات کے چہروں پر دیکھنے کو ملتا تھا کہ جب ان کی تفریح وطبع کیلئے کسی ایسی تقریب کا اعلان کیا جاتا تھا جس میں وہ پوری طرح شرکت کر سکیں۔ انگریزی کا یہ لفظ پارٹی اپنے اندر معنوی اعتبار سے خاصی وسعت رکھتا ہے  شاید یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے دن ہمدرد میں ایسے چہرے بھی دیکھنا نصیب ہو جاتے جو عام دنوں میں بڑی مستقل مزاجی کے ساتھ غیر حاضر رہا کرتے تھے۔
عموما یہ پارٹیاں، اہلِ زبان سے معذرت کے ساتھ ہم پارٹی کو  اردو کا لفظ سمجھتے ہوئےاسےہر طرح سے استعمال کر رہے ہیں،عید ملن یا گیٹ ٹُو گیدر کے نام پر ہوتی تھیں اور ان میں  طالبِعلموں کے وہ جواہر کُھل کر سامنے آتے تھے جن کا اِدراک ہمیں پہلے نہیں ہوتا تھا، کوئی فنِ خطابت کے جوہر دکھاتا اور مائک و اسٹیج پر راج کرتا تو کوئی اداکاری کے نمونے پیش کرتا، کسی کو ناچنے میں کمال حاصل تھا تو کسی کی آواز تان سین کو مات کرتی تھی۔ کوئی نقّال تو کوئی قوّال، غرض یہ کہ تمام طلبہ وطالبات اسٹیج پر یا پسِ پردہ اپنا اپنا حصہ ڈالتے نظر آتے۔
ان تقاریب کا انعقاد ہر ادارے میں ہوتا ہے لیکن ہمدرد میں ان تقاریب کی بات ہی نرالی تھی کیونکہ ان میں کوئی اور شرکت نہیں کرسکتا تھا گو کہ اس بات پر بہت سے گذشتہ طلبہ کو اعتراض بھی ہوتا تھا کہ مسز گلزار انہیں ہمدرد کیوں نہیں آنے دیتی تھیں، مگر دیکھا جائے تویہ بالکل برحق ہے کہ کسی بھی بیرونی عنصر سے ایسی تقاریب کا ماحول خراب ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ گذشتہ طلبہ کے ساتھ انکے چند دوست احباب بھی بِن بُلائے تشریف لے آتے ہیں اور رنگ میں بھنگ ڈالتے ہیں۔ البتہ ہم فارغ التحصیل طلبہ کے لئے الگ سے کسی پارٹی،  بصورت ظہرانہ یا عشائیہ کی تائید کرتے ہیں جو ادارے کی جانب سے منعقد کی جائے۔
یہ پارٹیاں اسکول و کالج دونوں کے طلبہ کیلئے ہوتی تھیں اور کسی بھی قسم کی پارٹی کے اعلان کے ساتھ ہی بلاک تھری میں ایک ہلچل شروع ہو جاتی تھی کہ طلبہ سمیت اساتذہ بھی اس کی لپیٹ میں آئے بغیر نہ رہ سکتے تھے۔  چندہ جمع کرنا، خوردونوش کے سامان کا اندازہ اور  انتظام کرنا، شامیانے اور قنّاتوں کا بندوبست کرنا  وغیرہ،غرض ایک پوری شادی کی تقریب کی تیاری  کا منظر اعلانِ پارٹی کے دنوں میں دیکھنے کو ملتا۔ پارٹی کے پروگرامز کی مشق بھی اس تیاری کا ایک اہم عنصر تھی جس میں بالخصوص خواتین اساتذہ کی خدمات لی جاتی تھیں جن میں کالج اور اسکول سے بالترتیب مس افشاں یاسمین اور مرحومہ ترانہ عثمانی پیش پیش ہوا کرتی تھیں۔
ریہرسل کے نام پر فری پریئڈ بھی ایک تفریح سے کم نہ تھی اور طلبہ وطالبات اس میں فیس بُک وغیرہ سے ہٹ کر بھی آپس میں منسلک ہونے کا بہانہ تلاش کر لیتے تھے۔ ہماری قوّتِ مشاہدہ پرچند  قارئین کو اعتراض ہو سکتا ہےاور چند ایک یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ راقم السطور شاید اپنی جوانی یاد کرتے ہیں اور آہیں بھرتے ہیں کہ اِن کے زمانہ طالبعلمی  میں یہ سب کیوں نہیں تھا  تو ہم کہتے چلیں کہ کچھ بھی سوچنا اُنکا حق ہے  مگر ہم جو مشاہدہ کرتے ہیں بیان کر دیتے ہیں اس پر کسی کو ناگوارِ خاطر گزرتا ہے تو ہم معذرت خواہ ہیں۔
یہ تو وہ سب تھا کہ جو ہمدرد میں ہو رہا ہوتا تھا مگر طلبہ اور خاص طور پر طالبات کے گھروں پر بھی ایک طوفان بپا ہوتا  اور والدین سے فرمائش کی جا رہی ہوتی کہ نئی اور منفرد پوشاک درکار ہے۔ یہ کپڑے عید پر پہنے تھے وہ فلاں کی شادی میں، یہ پوشاک نئی ہے مگر پارٹی کے لحاظ سے مناسب نہیں ہے، کوئی مہندی میں تو نہیں جانا کہ یہ لباس پہنیں۔ یہ اور اسطرح کے  کئی اور  بیانات کم و بیش تمام طلبہ و طالبات کے گھروں میں گونجتے رہتے۔
خدا خدا کرکے پارٹی کا دن آتا اور ایک دن پہلے سے سجے پنڈال میں سب جمع ہوتے۔تقریب کا آغاز کیا جاتا اور تمام پروگرام ترتیب وار پیش کئے جاتے، جن میں مزاحیہ خاکے، اسٹیج شو، گانے، پیروڈی اور ڈانس سبھی کچھ شامل ہوتا۔
 ہماری یادداشت کے مطابق کامرس کے ایک  طالبِعلم انیس نے غالبا سن دوہزار تین میں شوخ سبزرنگ کے لباس میں زنانہ اندا ز میں انتہائی مہارت کے ساتھ رقص  پیش کیا تھا کہ سب ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے تھے، کمال کی بات یہ تھی کہ ہرجان انجان انیس کو لڑکی ہی سمجھ رہا تھا۔ اسی طرح چند ایک نام گائیکی کے حوالے سے بھی ذہن میں آرہے ہیں جن میں ایک طالبہ مریم مسعود  کی آواز نہایت سُریلی تھی،  یہ سن دوہزار دو میں انٹر سے فارغ ہوئی تھیں اور اب ایک عدد دو سالہ بیٹی کی اماں ہیں۔انکے علاوہ ایک طالبہ مہوش فریال  کو مسز گلزار نے ایک  پارٹی میں ہمدرد کی لتّا کا لقب دیا تھا۔سن دوہزارپانچ میں اپنے دور کی آخری پارٹی میں عقّیل فاروق اور مسزفرزانہ  اسد کے ساتھ بہترین آواز کے لئے ہم نے منصبی کے فرائض انجام دیئے اور اس مقابلہ میں سال اوّل پری انجینئرنگ کی عظیمہ خان فاتح قرار پائیں۔ اس مقابلہ میں علی  نے ہمیش ریشمیا  کا گانا 'عاشق بنایا ناک میں گایا اور مقابلہ کے اعلان کے بعد ہم سے بحث کی کہ انھیں فاتح قرار کیوں نہیں دیا گیا اب ہم انہیں کیا بتاتے کہ مقابلہ خوبصورت آواز کا تھا کہ جو گلے سے ہی برآمد ہوئی ہو۔
جہاں طلبہ ناچ گانے کا اہتما م کرتے وہیں طالبات بھی ڈانڈیاکی صورت میں اپنے شوق پورے کرتی تھیں اور اس کی ریہرسل خاصی لگن سے کیا کرتیں کہ پارٹی کے روز اُن کی کارکردگی  میں کوئی کمی نہ رہے۔ ایک گروپ نے توغیر مخلوط پارٹی کے دوران محبتیں فلم کے ایک  گانے پر اور ایک اور گروپ نے شرارہ شرارہ پر اپنے اپنے ادوار  میں اِس آتشِ شوق کو بجھایا۔ یہ والی غیر مخلوط پارٹیاں اسکول کے طلبہ و طالبات کے لئے منعقد ہوئی تھیں کالج والے اس سہولت سے مستثنٰی تھے۔
ان پارٹیوں کے دوران اور بعد میں چند افراد ناراض بھی ہو جاتے جس کی وجہ تقریب کے دوران بیان کردہ کوئی جملہ یا شعر ہوتا جو انہیں ناگوار گذرتا، مگر ہم یہ جانتے ہیں کہ طلبہ کا مقصد قطعی کسی کو ذاتی تنقید کا نشانہ بنانا یا کسی کی دلشکنی کرنا ہرگز نہیں ہوتا تھا۔ان ہی رویّوں سے بچنے کی خاطر مسز گلزار نے اساتذہ کو ٹائٹل دینے پر پابندی لگا دی تھی۔
پارٹیوں میں کھانے کا اہتمام بھی خوب ہوتا۔ عام طور پر بریانی اور مشروبات کا دور چلتا تھا، مگر ایک سال کباب پراٹھوں کا انتظام بھی کیا گیا جو خاصہ کامیاب رہا۔
کہا جاتا ہے کہ کیمرے کی آنکھ سے کوئی نہیں بچ سکتا اور اس بات کا عملی مشاہدہ ہم نے بارہا ان پارٹیوں کے دوران کیا بھی۔ ان مشاہدات کی تفصیل کے لئے الگ سے ایک بلاگ لکھنا پڑے گا کہ کِس نے کِس کو کِس زاویہ عدسہ سے کِس رنگ ڈھنگ سےکب کب دیکھا کہ بقول شاعر
یہ کِن نظروں سے تُو نے آج دیکھا
کہ تیرا دیکھنا، دیکھا نہ جائے
جاری ہے   

14 comments:

  1. راقم السطور شاید اپنی جوانی یاد کرتے ہیں اور آہیں بھرتے ہیں

    Kahin yeh mere us comment ke natijay mein to line nahi hai, jo meine apko chat pe bola tha lol :D

    ReplyDelete
  2. hmmm nice, mujhe 2003 ki eid milan yad agai aur uske sath hi sara hua firdge e nikla hua khana.. aur miss saira ke aur miss maheen ke saad bahu walay acts...

    Hamein to lag ra tha kiunke miss maheen ki shadi honay wali hai to unhon ne sab kuch usi ke tanzur mein banaya hai :D

    ReplyDelete
  3. And i also remember the pitai that we got on college's eid milan party in 2004 december 17.. OMG i even remeber the date :D

    ReplyDelete
  4. LOL, good hai Ali, u know as I have written k hum sirf observation bayan kertay hain to bus ker dee bayan. Ms Maheen aur Saira Arif dono he nahi rahein ab Hamdard main, they were active particulaly XB was their favorite section ;)

    ReplyDelete
  5. یہ پوشاک نئی ہے مگر پارٹی کے لحاظ سے مناسب نہیں ہے،
    sir yeh tu har ghar ki kahani thi :D bht achay se describe kia h aaap ne

    ReplyDelete
  6. ایک پوری شادی کی تقریب کی تیاری کا منظر اعلانِ پارٹی کے دنوں میں دیکھنے کو ملتا۔ punch line h sir yeh tu pori writing ki :D

    ReplyDelete
  7. گذشتہ طلبہ کو اعتراض بھی ہوتا تھا کہ مسز گلزار انہیں ہمدرد کیوں نہیں آنے دیتی تھیں، مگر دیکھا جائے تویہ بالکل برحق ہے کہ کسی بھی بیرونی عنصر سے ایسی تقاریب کا ماحول خراب ہونے کا اندیشہ ہے sir yeh zaror aap ne ussi maar ki manzar kashi ki h jo humaray batch mates kabhi nahin bhoolai gay ;) :D

    ReplyDelete
  8. sir humaray batch k singers n dancers ka tu zikar e nahin kia aap ne :(

    ReplyDelete
  9. گروپ نے شرارہ شرارہ پر اپنے اپنے ادوار میں اِس آتشِ شوق کو بجھایا۔ sir iss dance ne tu humaray batch naak katwa di thi , sab male teachers uth kar bhaag gaye the :P

    ReplyDelete
  10. sir humere batch ke to barii heee nhe atii,, 2005,,,:(((

    well ,,
    sir app nay bohat acha likha,,,ese hum ko apnay seniours ka bheh pata chalaa,,ab kuch humara likhain takay un ko bheh bata lagay

    urooj

    ReplyDelete
  11. Ohhh My God!!!!!!
    And I remember k Ali Raza Aqib and baaqiyon ki pitaayi hui KIS ki wajah say thi aur uss KIS k saath hum nay College mai 2 saal parha tha...
    :-D

    ReplyDelete
  12. sir bohat khoob likha hai. main to khair remind nahi ker sakti yeh parties ke humaray time per yeh nahi hoti thin, lekin yeh zaroor pata chal gya ke humaray janay ke baad hamdard main kia kia activities hoti thin.

    ReplyDelete
  13. dil khush hugaya sir
    Anam Latif

    ReplyDelete
  14. dekha sir har sab likhari ki tareef kar rahay hain idea jis nay dia us ki nahi :P
    waisay good hay maza aa raha hay :D

    ReplyDelete