Monday, October 4, 2010

انڈا نامہ


امی آج پھر آپ نے شلجم بناڈالے، پتہ بھی ہے آپکو کہ مجھے ان سے چڑ ہے'- 'او ہو بھئی سبزی بھی کھانی' 
   چاہیئے، چلوکوئی بات نہیں ہے انڈا بنا دُونگی تمہیں میں'۔اسطرح کے یا ملتے جلتے جملے کم و بیش ہر گھر میں سننے کو ملتے ہیں اور نجات دہندہ انڈا ہی ہوتا ہے۔ انڈے کا اصل مرغی ہے اور انڈے مرغی کی بحث ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے کہ جو ازّل سے جاری ہے، اس بات سے  ذکرِ انڈا اور اس کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

فطری اور سائنسی اعتبار سے انڈا پرندوں، مچھلی اور جل تھلی جانوروں، گھونگے، تمام خزندے یعنی حشرات اور رینگنے والے جانوروں کی مادہ دیتی ہیں ، مگر عرف عام میں انڈے سے مراد مرغی کا انڈا ہی لیا جاتا ہے تاوقتیکہ واضح نہ کردیا جائے۔ انڈے میں دوسیّال ایک ساتھ پائے جاتے ہیں جنھیں ان کے رنگوں کی وجہ سےزردی اور سفیدی کہا جاتا ہے۔
مرغی کا انڈا  غذائی طور پر اپنے اندر تمام اجزاء رکھتا ہے جس میں پچھتر فیصد پانی کے ساتھ توانائی، وٹامن، لحمیات، نشاستہ وغیرہ سبھی شامل ہیں۔اسے میٹھے اور نمکین ہر طرح کے کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہےا ور انفرادی طور پر بھی مختلف انداز سے بنایا اور کھایا جاتا ہے۔ اُبال لیں یا تل لیں، خاگینہ بنا لیں یا مرغ کے ساتھ سالن کے طور پر پکا لیں غرض کسی بھی روپ اور ذائقہ میں انڈا اپنی مثال آپ ہے اور انڈا ہی رہتا ہے۔ بچے کھانا کھانے سے کترائیں یا بڑے اُکتا جائیں دونوں صورتوں میں انڈا خدمت کو حاضر ہے۔
انڈے کی یہ سائنسی اور غذائی  خصوصیات اپنی جگہ مگر اس کی سماجی اور معاشرتی اہمیت بھی ہے کھانے کی میز کے ساتھ ساتھ انڈا روز مرّہ کی گفتگو کا حصہ ہے، اردو میں اسکے معنی صفر کے لئے جاتے ہیں اور بیضوی شکل کے بیان کے لئے بھی  انڈا ہی استعمال ہوتا ہے کیونکہ بیضہ عربی میں انڈے کا ہی مترادف ہے۔  انگریزی میں بھی اس شکل پر 'او' موجود ہے، گو کہ یونانی زبان میں یہ تھِیٹا بن جاتا ہے، مگر یہ کسی نہ کسی طور ریاضی، اردو، انگریزی اور دیگر زبانوں میں پایا ضرور جاتا ہے۔
پڑھائی سے دور بھاگنے والے طلبہ و طالبات ہوں یا آزاد میدوارانِ الیکشن، رشوت خور افسران ہوں یا جواری، انڈے سےسب ہی محبت رکھتے ہیں کہ کچھ کو یہ نصیب ہو جاتا ہے اورچند اسکی تمنا میں آہیں بھرا کرتے  ہیں۔ جواریوں اور رشوت خوروں کو یہ کسی بھی ہندے  کے دائیں جانب ہی پسند آتا ہے۔ ہندسوں سے کھیلنے والے اس سے ڈرتے بھی ہیں کہ انڈے سے حاصلِ ضرب خود انڈا اور تقسیم نا قابلِ بیان یعنی لا متناہی ہو جاتی ہے۔
انڈوں کا کھانے اور گفتگو کے علاوہ ایک استعمال جلسوں یا تقریری مقابلوں میں بھی  کیا جاتا ہے، کہ جب سامعین کے مزاج کے برخلاف کوئی بھی بات ہوتی ہے تو مقرر یا لیڈر کی تواضح انڈے سے کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ٹماٹر بھی شامل ہو جاتے ہیں ۔
انڈوں میں چند انڈے گندے بھی ہوتے ہیں  اور ان گندے انڈوں سے ہی اچھے اور صاف انڈوں کی پہچان ہوتی ہے، کہتے ہیں کہ صاف انڈا پانی میں ڈوب جاتا ہے مگر گندہ انڈا نہیں ڈوبتا، چاہے پانی زیادہ ہو یا چُلّو بھر۔
انڈوں کو مصنوعی یا قدرتی طور پر سینے سے ان میں سے چوزے نکل آتے ہیں ، چوزے چوں چوں ضرور کرتے ہیں اور انڈے سے برآمد ہوتے ہی  چلنا شروع ہو جاتے ہیں کہ بقول شاعر
واہ واہ مرغی کے بچے واہ واہ
آج ہی انڈے سے نکلے، آج ہی چلنے لگے
انڈوں کا کاروبار کر کے آپ شیخ چِلّی بھی بن سکتے ہیں گو کہ آخر میں آپ کو ان انڈوں سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔ آپ  انڈوں  کا لحاظ کریں یا نہ کریں مگر انھیں  آپ کے جذبات سے کوئی غرض نہیں۔ آخر میں آغا سعید کا ایک نمکین قطعہ یاد آرہا ہے کہ
رکھی تھی میری کاپی میز پر بس ٹیسٹ والے دن
مہینے بھر تک سب اسٹودنٹس پر غصّہ کیا سر نے
پھر اسکے بعد یہ قصہ عجیب معلوم ہوتا ہے
مجھے مرغا بنایا اور انڈا دےدیا سر نے 

8 comments:

  1. Mujhay woh wala gaana yaad agaya yeh parh kar

    "Aao sikhayain tumhain Anday ka Fanda
    Yeh nahi piyaare koi maamooli Fanda"

    :-D

    ReplyDelete
  2. mujhey zaati tor pe andey se koi ikhtelaf ya ijtenab nahi basaht-e wo "HATCH" ho chuka ho

    ReplyDelete
  3. Wah sir.. bohat khoob!! apke is blog ko parh k mene ghoar kia k waqai anda different shakalon me, kis kis tarhan khaya jata hai, shyad hi koi aur cheeze aisi ho jo itni different shakalon me khane me use ho!! and yrr shakal ek new n unique zaiqa de.. :)

    ReplyDelete
  4. hahaha kia fanda hai andey ka sir :D
    Agha Saeed ka qata wakai jaan hai aap k is blog ki ...lol

    ReplyDelete
  5. As-salam-o-alikum, sir mujhay to laga tha kai aap sirf insaano per he gahree nazar rakhtay hain magar aaj ye blog read kiya to pata chala kai aap na baycharee......MURGI...ko bhee nahee chora :D

    ReplyDelete
  6. bauhatttt aacha likha hai sir :)

    ReplyDelete
  7. sir ayaz k totkay=D ek kitab ban jani chahye is pe=D

    ReplyDelete
  8. Maza aa gaya parh ker, very well written.

    ReplyDelete