Sunday, October 17, 2010

تصویرِ ہمدرداں- حکیم محمد سعید

ہم نے اس یادداشت کا آغاز ہمدرد میں گُزرے ایّام کا حال  کُریدنے سے شروع کیا تھا اور اس سلسلے کی پہلی تحریر میں ہی حکیم محمد سعید کا ذکر کیا تھا کیونکہ جس طرح کراچی، شہر ِقائد کے نام سے جانا جاتا ہے ویسے ہی ہمدرد پاکستان اور اس کے تمام ذیلی ادارے  بجا طور پر حکیم صاحب کے نام سے منسوب ہیں۔ اس ادارے کے بانی کے بارے میں کچھ لکھنا خاصا مشکل کام ہے، کہ انکے بارے میں ہمارا کچھ کہنا چھوٹا منہ اور بڑی بات ہوگی۔ ہم ان سے مل پائے اور نہ ہی انکی حیات میں ہمدرد سے  ہمارا کچھ تعلق رہا۔  یہ خلا  اپنی جگہ مگر ہم ان سے اس وقت سے ان دیکھی محبت اور عقیدت رکھتے ہیں جب ہم نے ہوش میں آکر پہلی بارہمدرد نونہال پڑھا۔اُنکی تحاریر اور جاگو جگاو پڑھ کر  ہم تک ان کا پیغام ضرور پہنچا اور اُنکے قلم کی سچائی نے ہمیں اُنکے دل تک پہنچایا۔  
آج اُنکی بارہویں برسی پر ہم  اُنکی تاریخِ پیدائش و شہادت کا ذکر کئے بغیر  اُنکی زندگی کے مقصد اور اسکے حصول کی لگن کا ذکر کرنا چاہیں گے ۔ معاشرہ میں بہتری لانے کیلئے فردِ واحد کا کردارکس قدر اہمیت کا حامل ہوتا ہے اُسکی منہ بولتی تصویر کا نام حکیم محمد سعید ہے۔
آج اگر ہم اپنے ارگرد نظر دوڑائیں  تو ایک نفسا نفسی کا عالم ہے اور ہر کوئی اپنا آپ بچانے اور خود کو معاشی دوڑ میں سبقت دلانے کی کوشش میں سرگرداں ہے۔ ایسے میں سب ہی  ہر طرح کے  مسائل کا ذکر کرتے دکھائی دیتے ہیں اور مجموعی بہتری کی جانب آنا کوئی پسند نہیں کرتا۔ حکیم محمدسعید کی لغت میں شکایت، ناکامی اور مایوسی کے الفاظ نہیں تھے۔ انھوں نے تن تنہا اسی معاشرہ میں ایک کمرے کے دواخانے سے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس ایک کمرے کےمطب نے جو شکل اختیار کی وہ آج سب کے سامنے ہے۔
جب کوئی اس مصرعہ کی تشریح بن جائے کہ
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
اور ایک وسیع بصارت و بصیرت اور درد مند دل رکھتا ہو، اس بات پر یقین رکھتا ہو کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اس شعر کا علمی مظاہرہ کرتا ہو کہ
فیض گر چاہتا ہے فیض کے اسباب بنا
پل بنا، چاہ بنا، مسجد و محراب بنا
بنیادی صحت اور تعلیم کی اہمیت سے آگاہ ہو اور انکی ترقی و ترویج کیلئے کوشاں ہو، بچوں سے ویسی محبت و شفقت کرتا ہو کہ جیسی آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے کی، انسان کو انسان سمجھتا ہو تو فلک برسوں پھرنے کے بعد خاک کے پردے سے  وہ دیدہ ور انسان پیدا کرتا ہے جو حکیم محمد سعید کے نام سے پکارا جاتا ہے اور  ایسے ادارے تشکیل پاتے ہیں جنھیں دنیا   ہمدرد کے نام سے جانتی ہے۔
آج انکی برسی پر جہاں ہم انکے درجات کی بلندی کیلئے دعا گو ہیں وہیں پُر امید ہیں کہ جو چراغ حکیم محمد سعید نے جلایا تھا وہ بجھنے نہ پائے گااورہماری نئی نسل  اپنے اپنے مقامات اور حیثیتوں میں ان کے نقشِ قدم پر چلے گی۔ہمدرد سے  وابستہ ہر طالبعلم و فرد  اُنکی انسان دوستی کے عمل کو جاری رکھے گا اور جب تک یہ عمل جاری رہے گا قدرت ابنِ آدم زمین پر اُتارتی رہے گے چاہےیہ ابنِ  آدم اپنے بھائی  کا خون کرتا رہے- 
موت برحق ہے اور ہر نفس کو اسکا مزہ چکھنا ہے لیکن قاتل شائد یہ نہیں جانتا کہ ایک  حکیم محمد سعید کو موت کی نیند سُلانے سے اُنکا مشن اور اُنکے تراشیدہ ان گنت محمد سعید ختم نہیں ہونے والے۔ احمد فراز نے سچ کہا تھا
کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے
تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے
ہم اپنے پیاروں کی  برسی اور سالگرہ  منانے کیلئے  چراغاں کرتے اور کیک کاٹتے ہیں مگر ہمارے نزدیک حکیم محمد سعید کی برسی یا سالگرہ منانے کا اصل طریقہ یہ ہے کہ ہم انکی طرح بیمار معاشرے  کے نبّاض بنیں اور اپنے ہم وطنوں کے زخموں پر مرہم رکھیں کہ اُنکی روح کواور بھی تسکین حاصل ہو اور ہمدرد اُنکی نجات کا ذریعہ بنے۔
اللہ اُنکی اور ہماری مغفرت کرے اور ہمیں جنت میں ان سے ملائے، آٰمین۔
جاری ہے 

7 comments:

  1. this made me cry :(
    Anam Latif

    ReplyDelete
  2. aap ne bilkul sahi farmaya ke ab humain hakim sahab ke mission ko aagay berhana chahiye.
    sir aap ka yeh blog perh ke dil bhar aaya.

    ReplyDelete
  3. Mujhay aaj tak woh din nahi bhoolta hai main class 6th mai tha hamara Monday ko Science ka paper tha aur woh Qayamat khaiz din Haftay ka tha jab hamain yeh khabar pata chali hum sab ghar walon ka yeh haal tha k koi azeezi qareeb hum say juda hogaya hai...
    Hakeem Sahab ko Allah nay Sa'aadat ki zindagi aur Shahadat ki moat say nawaza aur yeh hum Hamdardian ki zimmedaari hai k hum unn k mission ko aagay pohnchayain...

    ReplyDelete
  4. Bohat khoob..!! Hum hakim sahab k mission to zarur kamyab karengee...'inshallah'

    ReplyDelete
  5. boht acha blog hay ap ka aur bht e informative , main na ap k blog ko dakh ker apna urdu blog banaya hay , mujay zara rah numair farma day iss ko behtr kernay k lye aur kea kero http://usmanmustafvi.blogspot.com/

    ReplyDelete
  6. يا آخر لطيف، أنا حقا يتمتع بقراءة هذا المنصب. لا بد لي من إضافة شيء جديد يتعلق هذا المنصب الذي هو زراعة الشعر في دبي. زيارة والحصول على مزيد من التفاصيل حول هذا الموضوع.

    ReplyDelete