Friday, October 22, 2010

تصویرِ ہمدرداں- مقررینِ ہمدرد

گو کہ اس بلاگ کا ابتدائیہ ہم 6اکتوبر کو 'تقریری مقابلے' کے عنوان سےپوسٹ کر چکے تھےجسے دو ہفتوں سے زائدہوچکے ہیں اور قارئین مکمل تحریر کے انتظار میں رہے، مگر بقول غالب ہوئی تاخیر تو  کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا۔ اور وہ یہ تھا کہ ہم نے اس تحریر کے لئے مواد جمع کرنے کی خاطر چند ایک طلبہ و طالبات اور مسز افشاں سے رابطہ کیا، محترمہ افشاں یاسمین نے ہمیں فوری جواب اور معلومات سے نواز دیا۔ ایک دو طلبہ نے بھی جواب دے دیا مگر ایک آدھ ہماری درخواست کو کلاس میں کیا گیا اعلان سمجھے جوہم رجسٹر یا جرنل جمع کرانےکیلئے کیا کرتے تھے اور انھوں نے بھی وہی سلوک دہرایا جو اسوقت  کیا کرتے تھے کہ جواب نہیں دیا۔ خیر یہ توہم نے ازراہِ مذاق ایک بات کہہ ڈالی، اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہیں اور سلسلہ گذشتہ پوسٹ سے جوڑتے ہیں۔
جی ہاں ہمدرد میں جہاں نصاب  کی تکمیل اور روایتی تدریسی انداز اپنائے جاتے تھے وہیں ہم نصابی سرگرمیوں کو بھی یکساں اہمیت حاصل تھی۔ یہاں ہم یہ کہتے چلیں کہ ان سرگرمیوں کیلئے غیر نصابی سرگرمیوں کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے مگر مسز گلزار کے ساتھ ہم نے یہ طے کیا تھا کہ ایسی تمام تقریبات اور ہلچل کو'کو کوریکیئولر' یعنی ہم نصابی ہی کہا جائے گا۔ ان ہی سرگرمیوں میں سے ایک اہم تقریری مقابلہ بھی تھی، جو اسکول و کالج دونوں میں منعقد ہوتی تھی اور طلبہ و طالبات کو مائک پر سب کے سامنے فنِ خطابت کے جوہر دکھانے کا موقع دیا جاتا تھا۔
اسکول میں صبح اسمبلی کے دوران طلبہ و طالبات کو باری باری تقاریر کرنے کو کہا جاتا تھا اور یہ تقاریر اردو و انگریزی دونوں زبانوں میں کی جاتی تھیں۔ اردو و انگریزی کے اساتذہ ان تقاریر کو تیار کرایا کرتے تھے اورطلبہ انہیں حفظ کر کے ادا کر دیا کرتے۔  یہ تو روز مرّہ کی مقامی سرگرمیوں کا معمول تھا مگر ہمدرد کا نام شہر کے مختلف تعلیمی اداروں میں کیسے پہنچا اس کے پیچھے پوری تاریخ ہے۔
اوپر بیان کیا جا چکا کہ روزانہ طلبہ و طالبات کو مائک پر آکر اپنی جھجھک نکالنے کا موقع دیا جاتا تھا تو یہ بات بھی بتانا ضروری ہے کہ اس کام کا آغاز ہمدرد میں نچلی جماعتوں سے ہی کر دیا جاتا تھا یوں جب طلبہ بلاک تھری تک آتے تو انھیں اسقدر اعتماد ضرور ہوتا تھا کہ وہ مائک سے خوفزدہ نہیں ہوتے تھے۔  سن انیس سو اٹھانوے سے پہلے کے حالات تو ہم نے نہیں دیکھے مگر بعد میں ہم نے روزانہ یا ہفتہ وار ایسی تقاریر کی مشق اور مظاہرے ہر بلاک میں ملاحظہ کئے۔
ڈاکٹر دانش حسن زیدی ہمدرد کے ان اوّلین مقررین میں سے تھے جنھوں نے سن دوہزار میں حبیب پبلک اسکول میں ہمدرد اسکول کی  نمائندگی کی، اگلے ہی برس بحریہ کالج میں ہمدرد کالج کی جانب سے اوّل انعام حاصل کیا۔ یوں ہمدرد کی فنِ خطابت میں  فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا جو کم و بیش پوری دہائی پر محیط ہے۔   
غالبا سن  دو ہزار کی بات ہے کہ پہلامقامی  اردو تقریری مقابلہ کالج میں منعقد ہوا جس کا  اہتمام بلاک تھری کی اُوپری منزل کے نو تعمیر شدہ ہال میں کیا گیا تھا۔ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ اس مقابلے کے منصفین میں مسز زیدی، مسز نگہت اور خاکسار بقلم خود شامل تھے۔  یہ مقابلہ  مسز افشاں کی اس محنت کا نتیجہ تھا جووہ عرصہ دراز سے فرما رہی تھیں۔ پوری تفصیل تو ذہن میں نہیں آرہی مگر اتنا ضرور یاد ہے کہ اس مباحثہ کا موضوع تھا 'وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ' اور اوّل ،پری میڈیکل کی طالبہ صبیحہ ارم خان قرار پائی تھیں یہ بھی  اب ماشاءاللہ ڈاکٹر ہو چکی ہیں۔ اس مقابلہ کے انعقاد سے متاثر ہو کر میڈم گلزار نے شہری سطح پر ہمدرد  کی جانب سے حکیم صاحب کے نام پر باقاعدہ تقریری مقابلے کے انعقاد کو سالانہ کیلنڈر میں شامل کر لیا یوں حکیم محمد سعید بین الکلیاتی اردو مباحثہ کا آغاز عمل میں آیا۔ اس مقصد کیلئے ایک کمیٹی بنائی گئی جس میں محترم رئیس الدین  اور محترمہ افشاں یاسمین  سرگرم اور اہم ترین ارکان تھے ساتھ ساتھ ہمیں بھی  انگلی کٹائے بِنا ہی شہیدوں یعنی اس کمیٹی میں شامل کر لیا گیا۔
مقررین  میں جو نام ہمارے حافظہ میں ہیں ان میں آصف امتیاز خان، تابش ہاشمی، مر تضٰی شبیر، محمد منیب طارق، مبّشر معین، شائق بشیر،فیصل کریم، عدنان ذاکر، فیضان بشیر، سیّد حسان علی، عثمان حسن خان، اطہر شریف،  صبا صابر خان، جویریہ عثمانی، کلثوم ارشد مغل،  طلال خان،اریبہ عارف، افزا ءصدیقی اور عائشہ خان شامل ہیں، اگر کوئی نام ذکر ہونے سے رہ جائے تو ہم معذرت خواہ ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ تبصروں میں ذکر کر دیا جائے۔ یہ ان لوگوں کے ناموں کی فہرست ہے جنھوں نے شہر کے مختلف تعلیمی اداروں میں ہمدرد کی نمائندگی کی اس میں اسکول و کالج دونوں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ روزانہ کی تقاریر میں کم و بیش سبھی طلبہ و طالبات شرکت کیا کرتے تھے۔
یہ مقررین محض اردو میں ہی فنِ خطابت سے آگاہ نہ تھے بلکہ چند ایک تو انگریزی اور اردو دونوں زبانوںمیں اپنے جوہر دکھا چکے تھے۔انعامات اور مقابلوں کی  مکمل تفصیل تو ہمیں یاد نہیں مگر چیدہ چیدہ کا ذکر کرنا چاہیں گے۔ مثال کے طور پر محمد منیب طارق ساتویں جماعت سے ہی مقرر تھے اور ان کے دلائل ماشاءاللہ خود ان کی طرح وزنی ہوا کرتے تھے انھیں ہمدرد اسکول کے مقامی مقابلوں سے لے کر کل پاکستان تقریری مقابلہ جیتنے کا اعزاز حاصل ہے، ان کے ہمعصر مبشر معین اور صبا صابر تھے جو خود بھی ان مقابلوں کے فاتح تھے۔ غالبا پہلی ٹرافی منیب اور مبشر ہی ہمدرد لائے تھے۔  جویریہ عثمانی اور کلثوم ارشد کے انداز بھی بھرپور طورپر خطیبانہ تھے۔ گورنمنٹ ڈگری کالج ناظم آباد میں منعقدہ تقریری مقابلہ میں جویریہ عثمانی اور صبا صابر نے ٹرافی جیتی مقابلے کا موضوع تھا'شکایت ہے مجھے یارب خداوندانِ مکتب سے'۔فیصل کریم نے تو تقاریر میں اسقدر مہارت حاصل کی کہ آجکل وہ ٹی وی چینلز پر بھی تقاریر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دیگر مقررین میں سے زیادہ تر کو ہمدرد میں منعقدہ  بین الکلیاتی مباحثہ میں بطور قائدین مدعو کیا جاتا تھا اور انکے علاوہ ایک ایک  حاضر طالبِعلم مقرر اعزازی طور موضوع کی موافقت اورمخالفت میں ہمدرد کی ٹیم سے  تقاریر کرتا۔
بین الکلیاتی اردو مباحثہ کا ذکر چل نکلا ہے تو بتاتے چلیں کہ اس کے پیچھے مہینوں کی محنت ہوا کرتی تھی، سب سے پہلے موضوع کا انتخاب کیا جاتا،مقابلے کے قواعد وضوابط مرتب کئے جاتے، پھر میزبان مقررین کی تقاریر کی تیاری کی جاتی، مصنفین کا انتخاب ہوتا اور انکے لئے دعوت نامے لکھے جاتے،تعلیمی اداروں کیلئے دعوت نامے تیار کئے جاتے  اور ہر ادارے تک خود پہنچاِئے جاتے، پھر انکے جواب کا انتظار کیا جاتا جو بہت سے اداروں سے آخری دم تک بھی نہ آتا تھا، پنڈال کی تیاری کی جاتی جو کہ جامعہ ہمدرد کا آڈیٹوریم ہوا کرتا تھا، تقاریر اور چند ایک بڑے شعراء کے کلام کو ترنم کے ساتھ ریہرسل کرایا جاتا، مباحثہ کے دن ہمدرد مرکز سے مقررین کو جامعہ ہمدرد لانے کے واسطے الگ بس چلائی جاتی، مہمانان کے طعام کا بندوبست کیا جاتا۔ یوں ایک طویل عرصہ کی ریاضت تقریری مقابلے کے دن رنگ لاتی اور تقریب کے اختتام کے بعد مسز گلزار کی شاباشی پر ہی سکون کا سانس لینے کو ملتا۔ مقررین طلبہ و طالبات کی محنت اپنی جگہ لیکن اس پورےمنظرنامے کو کامیاب بنانے میں تسلیم، ارشداور لقمان سے لے کر بخاری صاحب تک جُت جاتے تھے۔ہمدرد سے  مہمان مقررین کو بس سے لانے کی ذمہ داری صالح جتوئی کی ہوا کرتی تھی۔ مقررین کو جانچنے کیلئےایک جدول وضع کیا جاتا جس پر منصفین انھیں نشانات سے نوازتے تھے۔ اس کی ذمہ داری محترم رئیس صاحب کی ہوتی اور آخر میں حتمی نتائج کی ہماری گنتی پر ترتیب پاتے۔ طلبہ کی ایک پوری فوج رضاکاروں کے طور پر مرتب کی جاتی جو مہمانان مقررین، اساتذہ، منصفین، مہمانِ خصوصی اور میزبانوں کا خیال کرتی۔ انکی خدمات کے بغیر اس مقابلے کی کامیابی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ محترم سلیم جتوئی بھی ایک اہم فرض انجام دیتے اور وہ وقت کے مطابق گھنٹی بجانے کا تھا جسے بہت سے مقررین ناگوار گردانتے۔ مسز گلزار ابتدائی کلمات سے نوازتیں اور مہمانان کا شکریہ ادا کرتیں۔ آخر میں تقسیمِ انعامات کی تقریب ہوتی اور ٹرافی کے حقدار ادارے کو یادگاری گردشی ٹرافی محترمہ سعدیہ راشد کی موجودگی میں دی جاتی جسکے بعد ظہرانہ کا اہتمام ہوتا تھا۔انتظامی اورداخلی امور میں حسن احمر، طارق ظفراور فاروقی صاحبان پیش پیش رہتے تھے کہ ان کی بدولت شرارتی طلبہ بھی مباحثہ کے دوران دلچسپی سے تقاریر سنتے دکھائی دیتے تھے۔  
اس پوری کاروائی کی یادداشت تحریری صورت میں مرتب کی جاتی اور مسز افشاں اس یادداشت کو اگلے برس کی تقریب کی تیاری کیلئے اٹھا رکھتیں ۔ یوں یہ پورا عمل حتمی انجام کو پہنچتا۔ ہم اس تمام منظر کے عینی شاہد بھی رہ چکے ہیں اور کسی نہ کسی موڑ پر عملی طور پر اس میں حصہ بھی لے چکے ہیں تو بلا مبالغہ کہیں گے کہ اب ہمدرد ایسی تقریب سے محروم ہو گیا ہو گا، کیونکہ اردو تقریری مقابلہ کی روحِ رواں مسز افشاں اب ہمدرد میں نہیں رہیں۔
اوپر مختلف مقررینِ ہمدرد کا تذکرہ کیا جاچکا، اسی ذکر کو مزید آگے بڑھاتے ہیں۔ شائق بشیر بھی ہمدرد کے ایک کامیاب مقرر گزرے ہیں، ان سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق وہ ۲۰۰۳-۰۴ میں چار بار انعام یافتہ رہے،۲۰۰۳ میں بحریہ کالج این او آر ای ون میں اوّل، اگلے برس کامکس میں دوم، ناظم آباد برائے طلبہ میں چہارم اور سینٹ جوزف میں دوم انعامات ان کے حصہ میں آئے۔
اسی برس یعنی ۲۰۰۴ میں جہاں کالج کے طالبِعلم فنِ خطابت میں اپنے کمالات دکھا رہے تھے وہیں نئی پود بھی تیار ہو رہی تھی۔ نہم جماعت کے اسوقت کے طلبہ و طالبات  نے حبیب پبلک اسکول میں ٹرافی جیتی، مقررین تھے طلال خان اور اریبہ عارف اور موضوع تھا 'اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے'اگلے برس حبیب پبلک اسکول میں ہی ہمدرد نے پھر ٹرافی جیتی، یہ کل پاکستان تقریری مقابلہ تھا جو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں کی تقاریرپر مشتمل تھا، انگریزی میں اطہر شریف اور اردو میں اریبہ عارف نے میدان مارا ، اردو کے مقابلے کا موضوع تھا'گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی' ۔ سن دو ہزار چھ میں افزءصدیقی اور اریبہ عارف نے پھر حبیب پبلک میں شہری سطح پر فتح حاصل کی اور 'اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناوں' کے موضوع پر تقاریر کیں۔ عائشہ خان نےجامعہ ہمدرد میں انگریزی میں ان ہی دونوں میں اسکول کی جانب سے تقریر کی جو تمباکو نوشی کے خلاف تھی۔
اریبہ عارف نے ہمدرد کالج کے دو برسوں  میں بھی کراچی کے مختلف تعلیمی اداروں میں اپنی خطیبانہ صلاحیتوں کومنوایا اورکامکس، سرسید کالج، جامعہ سرسید اور ڈی ایچ اے گرلز میں ہمدرد کی نمائندگی کی۔ جس میں ڈی ایچ اے میں انھیں کوئی انعام نہیں ملا اور یہ خاصی حیرت کی بات ہے، شائد اسکی وجہ کوئی جانبدارانہ فیصلہ ہو ورنہ دیگر متذکرہ اداروں میں انھوں نے انعامات حاصل کئے۔
آجکل ڈھاکہ گروپ آف ایجوکیشن کے مالک اظفر رضوی صاحب کے زیرِ انتظام تقریری مقابلوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے ان مقابلوں میں بھی ہماری معلومات کے مطابق ہمدرد کے طلبہ و طالبات حصہ لے رہے ہیں جسکی تفصیل بیان کرنے سے ہم قاصر ہیں کیونکہ ہم ہمدرد میں نہیں رہے بس اخبار سے آگاہی ملتی ہے۔
ہمدرد میں اردو تقاریر اور مباحثوں  کی ترقی اور ترویج میں یقینا مسز افشاں ،مس ممتاز فاخرہ اور مسز اسد کے نام لئے جا سکتے ہیں ۔انگریزی تقاریر کی تیاری میں اس زبان کے اساتذہ کی محنت اور دلچسپی شامل ہے جن میں مرحومہ ترانہ عثمانی سے لے کر مسز فوریہ خالد سب کا حصہ ہے۔مجموعی طور پر اردو تقاریر کا پلڑا بھاری رہا ہےاور ماضی کے مقررینِ ہمدرد آج معاشرہ میں علمی طور پر قدم رکھ چکے ہیں یا رکھنے والے ہیں یوں انکی یہ تربیت اور صلاحیت  زندگی کے ہر موڑ پر انھیں فائدہ پہنچائے گی اور وہ گفتار کے ساتھ ساتھ کردار کے غازی بھی بن سکیں گے۔

اس بلاگ کی تیاری میں ہمیں محمد منیب طارق، ڈاکٹر دانش حسن زیدی، شائق بشیر، اریبہ عارف اور مسز افشاں نےمعلومات مہیا کیں  سو ہم تفصیلات کی فراہمی پر ان سب کے تہہِ دل سے مشکور ہیں اوراس بلاگ میں کسی بھی قسم کی کمی یا کوتاہی اپنے ذمہ لیتے ہیں ۔


علی رضا کے مطابق دہم جماعت کی حاضر طالبہ فریحہ جمال ۲۷ اکتوبر کو ڈھاکہ سیکنڈری اسکول میں ایک فی البدیہہ تقریری مقابلے میں حصہ لے رہی ہیں جس میں پانچ میں سے کوئی ایک موضوع اسی وقت چُن کر اس پر تقریر کرنا ہوگی اور اُسی دن ہمدرد میں ششماہی امتحان بھی ہے، ہم ان کے اس مقابلے اور امتحانات میں کامیابی کیلئے دعا گو ہیں ۔
جاری ہے

4 comments:

  1. sir bohat hi zabardast.mujhay to pata tha ke itnay intazaar ke baad jo tehreer aaye gi woh zabardast hi hogi.aur yeh hua.

    ReplyDelete
  2. بھترِین یادگاریں ھمدرد :شکرِیہ

    ReplyDelete
  3. well said sir n thank u for the encouragement I'll try my best to make my school n teachers proud of me

    ReplyDelete
  4. Bohat dair say parha yeh blog laiken tamam manaazir zehan mai aik daffa phir say taaza hogaye hain...:)

    ReplyDelete