Thursday, October 28, 2010

ایک غزل

زندگی حالتِ گمنامی میں جو بسر کرتے ہیں
قیدِ دوراں کی رہائی سےبسر کرتے ہیں
زینت محفل کی ہوجانا کچھ بڑی بات نہیں
جھونکے ہوا کے بھی شجر کو ثمر کرتے ہیں
طالبِ مسکراہٹ سے فقط عرض ہے اتنی
ہم،چشمِ نم سے حالِ دل نشر کرتے ہیں
بکھرنا ذات کا اپنی، قابلِ ماتم ہی سہی
اہلِ دل ہر غم پر، صبردرصبر کرتے ہیں
تکمیلِ حصولِ مقصد حاصلِ زندگی جانو
پختہ حوصلے ہی دیوار میں در کرتے ہیں
ہمنشیں چھوڑ دے گر ہاتھ، نہ دل ہاراپنا
تنہا ذات کو اپنی، رب کی نذر کرتے ہیں
نام اسکا نہ پکاریں گے سرِ عام کبھی
عہد نبھا نہ سکیں گے، پر کرتے ہیں
رنج و غم میر نے بھی دیوان کرڈالےکتنے
ہم طریقِ  میر کی دل سےقدر کرتے ہیں

8 comments:

  1. Bikharna zaat ka apni, qabil-e-matam he sahi...

    Wah wah .. bht khoob.. !

    ReplyDelete
  2. wah wah!! sir ap to chah gaye=D

    ReplyDelete
  3. Ayaz Bhai kya hi baat hai. Balike ek adad sher main apne Facebook status k liye udhaar le raha hun. Bohat aala.

    ReplyDelete
  4. wah wah
    نام اسکا نہ پکاریں گے سرِ عام کبھی

    ReplyDelete