Friday, October 29, 2010

تصویرِ ہمدرداں- اٹینشن، اسٹینڈ ایٹ ایز

اس عنوان سے کافی چہروں پر مسکراہٹ آگئی ہو گی، ہمدرد کے درودیوار بھی یہ الفاظ روازانہ بیسیوں بار سُنا کرتے ہیں۔ ہم ماضی کی طرف پلٹے ہیں تو کچھ درج ذیل مناظر پردہ چشم پر نمودار ہوتے ہیں۔
صبح بسوں سے اترتے ہی طلبہ اپنی اپنی جائے مجمع یعنی اسمبلی ایریا کی جانب لپکا کرتے اور کچھ دل ہی دل میں دُعا کر رہے ہوتے کہ یا اللہ بس تاخیر سےاسکول پہنچائےتاکہ ورزش سے نجات مل سکے۔ مگر ہر دعا اسی دنیا میں یا فوری طور پر پوری نہیں ہوتی لہٰذا چار و نا چار بوجھل قدموں اور بھاری بستوں کے ساتھ گھنٹی بجتے ہی دست بدستہ اپنی اپنی قطاروں میں لگنا پڑتا۔اس پر جھگڑا یہ ہوتا کہ سب سے آگے کون کھڑا ہوگا، کیونکہ سب سے آگے کھڑا ہونے والا طالبِعلم ایک ایسا مجاھد ہوتا جسکا درمیانی فاصلہ مسز گلزار کے تھپڑوں سے کافی گھٹ جاتا تھا جو کہ شناخت پریڈ کے دوران پڑنے کا احتمال رہتا تھا۔
تلاوتِ کلامِ پاک اور قومی ترانے یا دُعائے سعید کے بعد یہ ورزشی نعرہ اٹینشن، اسٹینڈ ایٹ اِیز بلند ہوتا اور بخاری صاحب کی سیٹی اور فوجی آواز پورے اسمبلی ایریا کا احاطہ کرتی کہ گروہِ ہمدرداں اس آواز کو صوتِ صور سمجھتے اور میکانیکی انداز میں حکم کی بجا آوری پر مجبور ہو جاتے۔ ہم اساتذہ کی ذمہ داری ہوتی کہ ہم سب پر نظر رکھیں اور جانچ پڑتال کریں کہ کون ورزش میں ڈنڈی مار رہا ہے۔ اِدھر بخاری صاحب کی آواز ون،ٹُو، تھری،فور، فائیو، سِکس، سیون، ایٹ اور اٹینشن اسٹینڈ ایٹ ایز کا کاشن اور اُدھر اسا تذہ کا ڈر، طلبہ و طالبات اپنی حرکات و سکنات ٹھیک رکھنے کی کوشش کرتے، مگر جیسے ہی کسی قطار سے استاد دور ہوتے ورزش میں بے ایمانی شروع ہو جاتی۔
چند ایک ورزشی انداز کچھ پیچیدہ ہوتے تھے اور قطار میں لگے طلبہ کے مناسب  درمیانی فاصلہ نہ ہونے کے باعث عجیب سی صورتِ حال پیدا ہونے کا خدشہ رہتا تھا۔ طلبہ کی آپس کی تفریح کا اپنا انداز ہوتا تھا، کبھی کبھار ان کے دل کی آواز دبے لفظوں لبوں تک آتی اور ہمارے پردہ سماعت پر ٹکراتی مگر ہمیں بہرے پن کا تاثر دینا پڑتا۔ ابھی بھی ہم اُن دل کی آوازوں کو احاطہ تحریر میں لانے سے قاصر ہیں کہ ان میں چند ایسے مشکل الفاظ استعمال ہوتے تھے جو لانڈھی کورنگی کے کالے پیلے اسکولوں کے طلبہ کو ہی سمجھ آسکتے ہیں۔
 لڑکوں کی قطار میں الگ  طرح کی پھبتیاں جاری رہتیں اور دوسری جانب لڑکیوں کی قطاروں میں دوپٹوں کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ جملے بھی اچھالے جا رہے ہوتے ، احتیاط یہ کی جاتی کہ یہ جملے صرف اپنی قطار والوں کو ہی سنائی دیں۔لڑکوں اور لڑکیوں کی قطاریں جہاں ملتیں وہاں مِلا جُلا رجحان رہتا اور سرحدوں کے دونوں جانب  کبھی واہگہ بارڈر اور کبھی لائن آف کنٹرول کا سماں بندھ جاتا۔
ہیلدی مائنڈ اِن ہیلدی باڈی، دِس ایکسرسائز وِل اسٹرینگتھن یوئر آرمس، ڈُو دِس نَیک ایکسرسائزکیئر فُلی اِٹ اِزویری امپورٹنٹ، یہ اور اس سے ملتے جُلتے جملے سب کو یاد ہوں گے جو مسز گلزار ورزش کے دوران دہراتی رہتی تھیں۔ کیونکہ وہ خود خاصی چاق و چوبند تھیں اس وجہ سے کوئی بھی ورزش خود کر کے دکھا دیا کرتی تھیں اور طالبِعلموں کو ان سے مرعوب ہونا پڑتا تھا، ہمیں ان پر رشک آتا کہ وہ اتنی عمر رسیدہ ہونے پر بھی ورزش کر لیتیں اور ہمارے چند ایک نوجوان اپنے جسموں کو ٹھیک طور پر موڑنے کے قابل بھی نہ تھے۔
سب سے زیادہ سہولت میں مقرر رہا کرتے تھے کیونکہ انھیں ورزش نہیں کرنا پڑتی تھی اور ان کی بدولت باقی بھی سکون کا سانس لیتے کہ تقریر جتنی طویل ہوتی پہلا پریئڈ اتنا ہی چھوٹا ہو جاتا۔طلبہ کی یہ تمنا ہوتی کہ تقاریر روز ہوں تاکہ ایک تو انھیں ورزشی اوقات کم ہونے کا فائدہ ہو اور دوسرا پہلے پریئڈ میں کم پڑھائی کرنا پڑے۔
اس روز مرّہ کی ورزش کے ساتھ شناخت پریڈ بھی ہوا کرتی جس میں گذشتہ کسی شرارت کو ترتیب دینے والے ملزمان پیشِ عدالت ہوتے اور مسز گلزار کے تھپڑ انکی تواضع کرتے یا پھر بخاری صاحب کا کاشن برائے پُش اَپ انکی ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کی تعداد انھیں گنواتا۔ کبھی ان کرداروں کو پورے گراونڈ کا چکر لگانے کا حکم بھی صادر فرمایا جاتا۔ اس کورٹ مارشل کے دوران چند ایک محظوظ ہوتے اور چند دل ہی دل میں بخاری صاحب کے گناہوں میں کمی کر رہے ہوتے جبکہ چند  سپوت مزید ایسے کارناموں کےمنصوبے سوچ رہے ہوتے، ان لوگوں کا ایمان ہوتا کہ عزت آنی جانی شے ہے، اگر اسمبلی میں سزا ملی تو کیا ہوا، سب کے سامنے ہیرو تو بنے۔
ان میں ایک آدھ غریب ایسا بھی ہوتاجو مفت میں مارا جاتا، اسکا قصور یہ ہوتا کہ وہ دوستوں کا ساتھ دیتا تھا اور زبان بند رکھتا تھا۔ البتہ اگر کوئی وعدہ معاف گواہ بنتا تو اس کی جان چھُٹ جاتی تھی۔
رمضان کے مبارک مہینہ کی جہاں دیگر بے شمار فضیلتیں اور برکات ہیں وہیں یہ مہینہ تمام طبلہ و طالبات کو بخاری صاحب کے احکاماتِ ورزش سے بھی نجات دلاتا تھا اور سب کی جان بخشی ہو جاتی تھی۔
مذاق اپنی جگہ مگر یہ ورزش اور صبح کی سرگرمی دن بھر طلبہ کو چاک وچابند رکھتی اور جو بس میں سوتے ہوئے آتے وہ بھی ورزش کے دوران بیدار رہتے تھے۔ اور ہمیں یقین ہے کہ ہمدرد چھوڑنے کے بعد تمام طلبہ وطالبات ہمدرد کی اسمبلی کو شدّت سے یاد کرتے ہیں۔ 
یادِ ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
جاری ہے

14 comments:

  1. sir khair se is maazi ki yaad azaab nahi hai bulkay khushgawaar hai. apni halat yaad ker ke hansi hi aati hai.

    ReplyDelete
  2. Good hai... but without DEEP DETAILS of Bukhari Sahab, this post is spice-less

    ReplyDelete
  3. YEah details could be more deeper but its nice anyway! )

    I remember in matric when we use to go in the class to put the bags over there, before assembly, we used to hide there! to avoid it!

    SOmehow MAdam Got to know it and after that this new rule was imposed thatstudents shall keep the bags outside in assembly area.. infront of their lines! :)

    ReplyDelete
  4. wah bhi kia baat hay .
    طلبہ کی آپس کی تفریح کا اپنا انداز ہوتا تھا، کبھی کبھار ان کے دل کی آواز دبے لفظوں لبوں تک آتی اور ہمارے پردہ سماعت پر ٹکراتی مگر ہمیں بہرے پن کا تاثر دینا پڑتا۔
    ye line parh kar to maza aa gaya.

    ReplyDelete
  5. ان لوگوں کا ایمان ہوتا کہ عزت آنی جانی شے ہے، اگر
    اسمبلی میں سزا ملی تو کیا ہوا، سب کے سامنے ہیرو تو بنے۔

    bilkul sai likha sir app na waqaee mai buhat fakhar mahsos hota thaa kyun k pora din sab humaree hi baat kertaa thaaa :P

    ReplyDelete
  6. ان میں چند ایسے مشکل الفاظ استعمال ہوتے تھے جو لانڈھی کورنگی کے کالے پیلے اسکولوں کے طلبہ کو ہی سمجھ آسکتے ہیں۔

    Ohhh Waaahhhh Sir...
    Kiya kiya yaad dila diya aap nay..
    Moat aati thi mujhay tu hamesha Exercise kartay hue aur main tu Sir Bukhari ki hit list per tha hamesha say hi..;)

    ReplyDelete
  7. Excersie ka maza tu tab aata tha jab Sir Bukhari leave par hotay thay Sir Ameer karwatay thay excercise

    ReplyDelete
  8. sir kia time yaad dila dia ... :P

    ReplyDelete
  9. aray kuch log bemari ka bahana bana kar aagay jakar bench par bhi tou beth jaya kartay thay ,, aur phir door sey hansa kartay thay baqi logon par,,

    ReplyDelete
  10. very nice...awsome...really i miss it too :S

    ReplyDelete
  11. bohat khoob Ayaz. derya ki si rawani ha aap ki tehreer me aur tazaa hawa ka thunda jhonka mehsoos hota ha. aapne wohi kiya ha------- ajab purda ha k chilman se lage bethey hein, saaf chupte bhi nahi aur saamne aate b nahi. maza agaya perh ker. shukr ha me student nahi thi hamdard mei werna Gulzari begum mujh per haath saaf kiya kertein apne thapparao se ku k excersize se sakht nafrat ha mujhe hahahahaha

    ReplyDelete
  12. xbrdast sir kia yaad dila dia xcrcise kam n humari choryan n mazay xyada yaad aagye...

    ReplyDelete