Thursday, October 28, 2010

تصویرِ ہمدرداں- مقررینِ ہمدرد، گذشتہ سے پیوستہ

زیرِ نظر سطور فارِحہ جمال کی تقریر کے متن کی ہیں جو کل یعنی 27اکتوبر کو ڈھاکہ سینکڈری اسکول میں کی گئی، اِسکا ذکر ہم نے اپنی گذشتہ تحریر میں کیا تھا۔ اس تقریری مقابلہ کا نتیجہ ہم دِل سے قبول کرتے ہیں  اور فارِحہ جمال کو اس میں شرکت پر شاباشی دیتے ہیں-گو کہ ہمدرد اس مقابلہ میں کوئی انعام حاصل نہ کرپایا مگر قارئین اس تقریر سے ہمدرد کے اساتذہ اور مقررین کے میعار کا بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں نیزیہ تقریر انعام کے قابل ہے یا نہیں اسکا فیصلہ ہم قارئین پر چھورتے ہیں۔

"پاکستان کی معاشی بدحالی کا سبب دہشت گردی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
جنابِ صدر، ہماری یہ پا ک سر زمین جب دنیا کے نقشے پر پاکستان کے نام سے اُبھری تو آہستہ آہستہ ایک ننھے بچے کی مانند پروان چڑھتی گئی اور گزرتے ماہ و سال کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک کے لوگوں اور معاشی ترقی میں اضافہ ہوتا گیا۔ کراچی سے لے کر خیبر تک اور کشمیر سےلے کر زاہدان تک ملک کے طول و عرض میں تمام قدرتی وسائل تک رسائی حاصل کی گئی اور انھیں وطن کی معاشی ترقی کی خاطر استعمال میں لایا گیا۔ یوں عام آدمی سے لے کر ملکی سطح پر معاشی استحکام کی فضا پیدا ہوئی۔
اباسین کا ذکر کروں یا چناب کا، راوی کا نام لوں یا جہلم کے پانیوں کا سب نے میرے اس ملک کے کھیتوں کو سیراب کیا اور چمن کے سیبوں سے لے کر ملتان کے آموں میں رس اور ذائقہ بھرا کہ دنیا کی منڈیوں میں یہ ہماری پہچان بنے۔
جنابِ والا یہی حال صنعتوں کا بھی تھا  سیالکوٹ کا فٹبال ہو یا فیصل آباد کا سوتی کپڑا، حیدرآباد کی چوڑیاں ہوں یا کراچی کے شان مصالحے ہماری  برآمدات کااہم حصہ رہے ہیں۔
معدنیات کی بات کروں تو سینڈک کا کرومائٹ اور کھیوڑا کا نمک بھی دنیا میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ قدرتی مناظر کا ذکر دُکھے دل کے ساتھ کروں گی کہ وادئ سوات  اب کسی اور ہی وجہ سے مشہور ہو کر رہ گئی ہے۔ کے ٹُو کو سر کرنے والے اور چترال کے سبزہ زاروں میں آنے والے سیّاح اب اپنے ممالک سے پاکستان کا رخ نہیں کرتے کہ کیا پتہ کب ،کسی خود کش حملہ آور کا شکار ہو جائیں، کسی دہشت گرد کے ہتھے چڑھ جائیں یا نیٹو کے ہیلی کاپٹر سے داغی گئی گولی کا نشانہ بن جائیں۔
جی ہاں صدرِ محترم اب ہم  امن و سکون سے محروم ہو چکے ہیں اور ہمارے بازاروں اور گلی کوچوں میں موت راج کرتی ہے۔ دہشت کے مارے ہم ایک دوسرے پر بھی اعتبار کرنے سے قاصر ہیں۔ ایک مزدور جب صبح گھر سے کام کی خاطر نکلتا ہے تو اس کے اہلِ خانہ اسکے زندہ لوٹ آنے کے دعا گو رہتے ہیں۔ اس جیسی صورتِ حال میں جب ایک عام آدمی حصولِ معاش کی تگ و دو کے ساتھ ساتھ اپنی جان اور مال کے تحفظ کی فکر میں بھی لگا رہے گا تو مجھے بتائیے کہ کیا معاشی طور پر معاشرہ مستحکم ہو سکے گا؟
حضورِ والا آپ کا جواب یقینا نفی میں ہوگا، تو بس اسی وہشت و دہشت کی بدولت ہمارا ملک پاکستان معاشی طور پر بدحال ہے اور بدحال تر ہوتا جا رہا ہے۔
دنیا بھر کے اخباروں میں اُلٹ پُلٹ کر
روزانہ ہی
ایک خبر چھپ جاتی ہے
کل بھی جب اخبار آئے گا
اُس میں بھی بس نام بدل جانے ہیں
مسخ شدہ لاشوں کے چہرے کس نے پہچانے ہیں
انیس ملک اپنے دو کماو بیٹوں کے ساتھ شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں دہشگردوں کی گولیوں کا شکار ہوا، ایک دن میں تیس تیس لاشے اُٹھے، اگلے دن پھر اسی شہر میں دس قتل ہوگئے، پشاور میں نمازی دہشتکردی کا شکار ہوئے تو کوئٹہ میں لسانیات کے نام پر لوگ قتل، ایسے میں کہاں کی معاشیات اور کہاں کی ترقی، ارے جب غربت کے بجائے غریب ہی ختم ہونے لگیں گے تو کارخانوں میں مشینیں اور سڑکوں پر پہیہ کون چلائے گا؟
جنوجی ایشیا کی ایک جائزہ کارتنظیم کے مطابق پاکستان میں سن دو ہزار تین سےا س ماہ کی سترہ  تک یومیہ ۱۰ تا ۱۲ افراد دہشتگردی کی وجہ سے لقمئہ اجل بنتے ہیں۔ صرف سن دو ہزار نو میں گیارہ ہزارسے زائد  اموات دہشتگردی کی وجہ سے ہوئیں۔
لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملہ نے ملک میں کھیلوں کی بدولت ہونے والی معاشی ترقی کے راستے بند کر دیئے ۔  دیگر شہروں  کی طرح  وفاقی دارالحکومت  بھی دہشتگردی سے نہیں بچ سکا اور  ایک بڑے ہوٹل میں موت کا رقص آگ وخون کی ہولی کی صورت میں کھیلا جاتا رہا۔
جنابِ والا مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اس ماہ میں ،میں تمام دن اسکول جا پائی ہوں ۔ہر ہفتہ ہی کسی نا کسی وجہ سے تعلیمی ادارے بند ہوتے رہے ہیں۔ داتا دربار، لاہور،عبداللہ شاہ غازی، کراچی اور غلام فرید،پاکپٹن جیسے مزارات بھی اب خطرے کے مقامات بن گئے ہیں مِینا بازار اور شیرشاہ مارکیٹ تو  پھر کاروباری مقامات ہیں۔
تعلیمی ادارے، مدارس، مساجد، بازار، تفریحی مقامات، ڈاک خانے، محلے، گلی کوچے، بس، ریل گاڑیاں حتیٰ کہ پولیس اسٹیشن سب ہی دہشگردوں کے نشانے پر ہیں تو یہ بجا طورر پر کہا جا سکتا ہے کہ میرے ملک پاکستان کی معاشی بدحالی کاسبب دہشتگردی ہے۔
لوری کی رم جھم میں سونے والے بچے،
گولی کی آواز سے ڈر کر اٹھ جاتے تھے
لیکن اب تو لوری  کی رم جھم میں ڈر کر اُٹھ جاتے ہیں
گولی کی آواز پر ہنس کر سو جاتے ہیں
شکریہ "
جاری ہے

1 comment: