Sunday, November 21, 2010

ہم نےپراٹھے بنائے

ہمارے بلاگ کے مستقل اور پرانے قارئین اس بات سے واقف ہیں کہ ہم نے اپنےشروع کے بلاگ میں تذکرہ کیا تھا کہ ہم کھانا پکانے سے کچھ ایسے ہی نابلد تھے جیسے پٹھان سائیکل چلانے سے ہوتا ہے۔مگر جب باورچی خانہ میں قدم رکھا تو، ہمارے احبابِ ِسڈنی اس بات کا انتظار کرتے کہ کب ہماری کھانا پکانے کی باری ہو اور انھیں کچھ نیا کھانے کو ملے۔ اب تک کے پندرہ ماہ کے قیام کے دوران ہم شان مصالحہ کے بغیر اور سمیت کافی چیزیں بنا چکے تھے مگر جس شےکی ہمت ہم ابھی تک نہ کرپائے تھے وہ پراٹھے تھے سو آج یہ قسم بھی توڑ ڈالی اور ہم نے پراٹھے بنا ڈالے۔
جی ہاں زندگی میں پہلی بار آٹا گوندھا اور بنا بیلن کے ہی پراٹھے بنانے  کا بیڑا اٹھایا۔ آٹا گوندھنا آسان کام نہیں اگر آپ پانی زیادہ کر دیں تو لئی بن جاتا ہے اور کم کر دیں تو ایک سا نہیں ہو پاتا۔ خیر یہ مرحلہ طے کرتے کرتے اور اپنی انگلیوں سے چپکا آٹا چھڑاتے ہوئے ہمیں نانی تو نہیں مگر اپنی اور اپنی اولاد کی  والدہ محترمہ ضرور یاد آگئیں کہ کس طرح ہم گذشتہ برس تک ان کے ہاتھوں کی بنی روٹی، چپاتی اور پراٹھے اُڑاتے آئے تھے۔ آج خودکو اس حالت میں پا کرہنسی بھی آئی اور اللہ کا شکر بھی ادا کیا کہ ہم ان رشتوں کی نعمت سے مالامال ہیں کہ وطن جاکر پھر سلسلئہ زندگانی کا وہیں سے آغاز ہو گا جہاں سے وقفہ آیا تھا، انشاءاللہ۔
خیر صاحب آٹے میں نمک ڈالنا بھی نہ بھولے اور کچھ دیر کے توقف کے بعد جب آٹا کچھ ٹھہر گیا تو ہم نے پراٹھوں کے لئے پیڑے بنائے، پھر روٹی کی شکل دے کر نعمت خانے کی چپٹی میز پر انگلیوں کی مدد سے اسکے کنارے وضع کئے اور آخر میں ہتھیلیوں پر تھوڑا پھیلا کر قدرے گول کرتے ہوئے تلنے کے برتن یعنی فرائنگ پین میں ڈالا، کیونکہ ہم توّے کی نعمت سے محروم ہیں تو پین کو ہی توّا بنا ڈالا۔ آٹے کو ہم ہلکا سا تیل پیڑا بناتے وقت ہی لگا چکے تھے اور تلتے ہوئے بھی تیل کا استعمال کیا، جب پراٹھے نے پین میں پکتے ہوئے اپنی روایتی صورت اختیار کی تو ہمیں ایسی خوشی ہوئی جیسے کسی بچے کو اپنی رنگ بھری تصویر میں جماعت میں اپنی ٹیچر یعنی استانی سےایک اسٹار یعنی ستارہ ملنے سے ہوتی ہے۔
ایک کے بعد دوسرا پراٹھہ بھی بنایا کیونکہ پہلا کامیابی سے پین سے نکل کر رکابی یعنی پلیٹ میں پہنچ چکا تھا۔ رات کھانا بنانے کی باری بھی ہماری ہی تھی تو گذشتہ رات کی ماش کی دال، بند گوبھی کی ترکاری اور بادرنگ یعنی کھیرے کا رائتہ فرج میں موجود تھے تو ہم نے دونوں سالن گرم کرکے، رائتہ کے ساتھ تناول کیا۔
بادرنگ پشتومیں کھیرے کو کہتے ہیں اور فارسی میں اسکے لئے خیار کا لفظ استعمال ہوتا ہے، ہمارے پٹھان دوست قاضی فہد خان کی محبت میں ہم سب نے کھیرے کو بادرنگ کہنا شروع کردیا ہے اور یہ طے پایا ہے کہ ہمارے ہاں اب کھیرے کو بادرنگ ہی کہا جائے گا۔ قارئین بھی اپنی اردو لغت میں اس لفظ کا اضافہ فرما سکتے ہیں کہ اردو تو ویسے بھی لشکری زبان ٹھہری ۔
بعد میں قاضی فہد خان ، سید فراز علی اور عمار انیس کو بھی ہم نے پراٹھےبنا کر کھلائے جو کہ متذکرہ دال اور ترکای بھرے تھے۔ تو گویا ہم نے ایک ہی دن میں سادہ اور بھرے دونوں طرح کے پراٹھے بنا ڈالے۔ اس بلاگ پر محمد عمران اور ہمارے سڈنی سے گئے دیگر احباب ضرور منہ بسوریں گے کہ انھیں یہ پراٹھے نصیب نہ ہوئے تو ان کے لئے ہم نے یہاں تصاویر لگا دیں ہیں کہ دیکھیں اور مزے کریں۔
اگر کوئی قاری بالخصوص  پردیسی ترکیبِ ترکاری، دال، رائتہ یا پراٹھہ معلوم کرنا چاہے تو ہمیں لکھے، ہم جواب ضرور دیں گے۔  


گوندھے آٹے سے کچے پراٹھے تک


پہلا پراٹھہ پین میں
پہلا پراٹھہ تیار ہوچکنے کے بعد


ہمارے کھانے کی پلیٹوں کا منظر


ماش کی دال بھرا پراٹھہ جو شکمِ قاضی فہد خان میں اتر چکا

14 comments:

  1. wowww hahhah sir its nice


    urooj

    ReplyDelete
  2. Bohat aala...
    Akelay ghar walon say door reh kar banday ko kam az kam yeh kaam tu karnay aa hi jatay hain...:)

    ReplyDelete
  3. wow.. maza agayA! kafi der se bore hori thi.. sari boriat door hogaii..!! :)

    ReplyDelete
  4. nice work sir and ur parathas look yummy :P

    ReplyDelete
  5. wah sr kia baat hai ...akhir ye kaam bhi kar hi dalla aap nay :d

    ReplyDelete
  6. Woh Ayyaz wah,ab to khahne ke liye khch raha hi nahi,Maan bhai phale gai the,Jaan bhai phahle gai the.Wonderful!!!!!!

    I wished aap ke hand ka ham bhai PARATHa khain

    Shabnam Meraj

    ReplyDelete
  7. that's not tooo bad hamaray gher main to jabb larkon kee baari aati hai roti bananay kee to ajeeb ajeeb naqshay bantay hain aur jaisay hee kabhi hum offer ker dain roti bananay kee sabb kai liay to aisai khush hotay hain jaisai eid ho gaee ho aur kehtay hain jeeo hazaron saal behna. ( dua dainay main bhi apna faida, hazaroon saal jeo aur roz paratha roti banatay raho) U r really very good. First time without bailan and tawa.Sabina

    ReplyDelete
  8. wah g wah buhat alaa=) ap to ek ache cook bhi hain

    ReplyDelete
  9. Aray khiyal karna kheen bhbi na par lain, ham nay bhi apnay khanoon ki parak mari thi ab tak bhukat rahay hain

    Tariq

    ReplyDelete
  10. zabardast sir, pics se to nahi lagta ke aap ne pehli martaba banaye honge parathay. sir aap to chupay rustam niklay

    ReplyDelete
  11. :D
    impressive :P
    kIya baat hay,paratha storie :D

    ReplyDelete
  12. wow sir.... good effort!! :) nice parathey.
    _(Mahrukh)

    ReplyDelete
  13. wow...pehli dafa mein itny achy prathay....mujhay aap ki es khobi ka pata nahi tha....zindagi ba khair....ab ki bar pakistan aany par....aap ke sath lunch karna bohat aezaz ki baat ho gi....;-)

    ReplyDelete
  14. daal aur sabzi ki tareef tu reh hi gaai.....aqeen karein....itni khili khili daal banana aasan baat nahi......god job

    ReplyDelete