Monday, November 22, 2010

با ادب با نصیب

کہا جاتا ہے کہ استاد کا رتبہ باپ سے بھی برتر ہے کہ باپ اگر اپنے بیٹے کو عالمِ بالا سے زمین پر لانے کا باعث بنتا ہے تو استاد اپنے  شاگرد کو علم کی دولت سے مالا مال کرکےاسے گیان، دھیان اور آگہی کے ساتویں آسمان پر پہنچا دیتا ہے۔ یہ بھی حکم ہے کہ اگر کوئی تمہیں ایک حرف بھی سکھا دے تو اسکی غلامی کرو، مگر کیا کریں کہ دل اس وقت خون کے آنسو روتا ہے جب چند منچلوں کی جانب سے استادوں پر نازیبا کلمات کسےجاتے ہیں۔
ہم کوئی واعظ ہیں نہ ہی خطیب مگر ایک استادضرور رہ چکے ہیں اور یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ آج بھی ایک استاد کی عزت ہمارے معاشرے میں دیگر معاشروں سے زیادہ کی جاتی ہے۔مگر ساتھ ہی افسوسناک امر یہ ہے کہ ازراہِ مذاق استادوں کے نام رکھنا اوران پر پھبتیاں کسنا بھی آجکل طالبِعلموں کیلئے ایک معمولی سی بات  بن چکی ہے۔  
اقتصادی اور معاشی دوڑ میں استاد بھی اسی معاشرے کا حصہ ہونے کی وجہ سے کسی حد تک نفسانسفی کا شکار ہیں اور  اپنے اہلِ خانہ کی آسودگی  کی خاطر نجی طور پر گھروں میں یا محلوں کے کوچنگ سینٹرز اور اکیڈمیز  میں طلبہ کو پڑھانے پر مجبور ہیں۔ لیکن اسکا مقصد یہ قطعی نہیں ہے کہ استاد کی عزت طالبِعلم پر فرض نہیں ہے۔
اگلے وقتوں میں امراءوروساء اپنی اولادوں کے اتالیق مقرر کیا کرتے تھے جو انھیں ادب آداب اور علوم و فنون سکھاتے تھے۔ یہ اتالیق ان کےگھر کے فرد کی حیثیت رکھا کرتے تھے اور معاشرہ میں شریف زادوں کی پہچان اور شرافت کا اندازہ کرنے کیلئے انکے اتالیق یا استادِ محترم کا نام ہی کافی ہوتا تھا۔
اگرچہ آجکل یہ روایت ختم ہو چکی مگراب بھی  شرفاء کی پہچان جہاں انکے خاندان سے ہوتی ہے وہیں تعلیمی ادارے کا نام بھی لیا جاتا ہے کہ جہاں سے انکی اولاد فارغ التحصیل ہوتی ہے۔اور تعلیمی ادارے کا نام بنانے والے اساتذہ ہی ہوتے ہیں جن سے کسی طالبِ علم نے پڑھا ہو۔ اب اگر یہی طالبِ علم بجائے اس کے کہ اپنے استادوں کو عزت دیں الٹا انکی  بےعزتی کریں یا برے ناموں سے پکاریں تو ایسے بدنصیب نا صرف خود اپنے آپ کو بدنام کرتے ہیں بلکہ اپنے خاندان والوں کا بھی براتاثر چھوڑتے ہیں کہ انکی تربیت کے ذمہ دار تو والدین ہی ہیں۔
تفریح اور مذاق کرنا انسانی فطرت کا حصہ سہی مگر ہم مذاق کرنے کے بجائے مذاق اڑاتے ہیں اور اس کا سب سے بڑا اور آسان نشانہ کسی تعلیمی ادارے میں طبلہ کے ہاتھوں قدرے شریف قسم کے ایسے استاد بنتے ہیں جو طلبہ پر سختی کرکے  انھیں کسی وجہ سے قابو میں نہیں کر پاتے۔ورنہ سخت قسم کے اساتذہ کے سامنے تو شاگرد ویسے بھی منہ کھولنے سے پہلے ہزار بار سوچتے ہیں۔
ان سطور کے لکھنے کا مقصد محض اتنا ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کی قدر کریں اور ان کی عزت کریں کیونکہ طالبِعلمی کے زمانے میں کی گئی غلطیاں اگر حصولِ علم سے متلق ہوں تو انکا اثر امتحان کے نتیجہ پر پڑتا ہے لیکن اگر ہم سے کوئی ایسی غلطی ہوئی ہوکہ جس سےجانے یا انجانے میں کسی استاد کا دل دکھا ہوتو اسکا مداوا کرنا خاصا مشکل ہے۔ ہمارے نزدیک  پڑھائی میں کمزور طالبِعلم جو باادب ہو اس ہونہارشاگرد سے لاکھ درجہ بہتر ہے جو بے ادب ہو کیونکہ باادب ہی با نصیب ہوتا ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟

5 comments:

  1. بالکل صحیح کہاآپ نےدراصل استادکی بھی مجبوریاں ہوتیں ہیں کہ وہ ان ٹیوشن سنٹرزمیں آتےہیں نہیں توکس کادل نہیں کرتاکہ وہ آرام سےپڑھائے۔

    ReplyDelete
  2. really good sir n very true sabina

    ReplyDelete
  3. Bohat khoob Sir per hota yeh hai k jo Talib-e-Ilm apnay doar-e-ilmi mai aisi harkatain kartay hain chand saal baad jab woh apni practical life mai aatay hain tu unhain andaza hojata hai k unn k asaatza-e-karaam nay un ki zindagi sanwaarnay ki koshish ki thi na k bigaarnay ki per woh samajh nahi patay per waqt sab samjha deta hai...

    ReplyDelete
  4. Bohat khub:)
    aur 1 to mera pasandeeda jumla likha hay app nay is main ;)
    یہ بھی حکم ہے کہ اگر کوئی تمہیں ایک حرف بھی سکھا دے تو اسکی غلامی کرو،

    ReplyDelete