Tuesday, November 23, 2010

اردو ہے جسکا نام

اگر آج داغ زندہ ہوتے تو یہ دیکھ کر یقینا بہت خوش ہوتے کہ انکی اور ہماری زبان کی دھوم واقعی سارے جہان میں ہے کیونکہ یہ زبان آج دنیا کی چوتھی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان بن چکی ہے۔ اس میں بولنے کے لحاظ سے ہندی بھی شامل ہے۔ وکی پیڈیا کے مطابق برِصغیر کی اس زبان کے بولنے اورسمجھنے والوں کی کل تعداد سوا چوبیس کروڑ سے زیادہ ہے۔  
یہ اعدادوشمار اپنی جگہ لیکن آج ہم جس جانب قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں وہ ہے صحیح اور درست زباندانی۔ ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اردو لشکری زبان ہونے کی وجہ سے اپنے اندر خاصی جاذبیت رکھتی ہے اور اسکی یہی کشش دیگر زبانوں کے الفاظ کو عام اردوبول چال میں مستعمل کروادیتی ہے۔ مثال کے طور پر انگریزی کے الفاظ پلیٹ، ٹکٹ، بس، کپ وغیرہ ہمارے ہاں اسقدر روانی سے استعمال ہوتے ہیں کہ اب اردو زبان کے الفاظ لگتے ہیں۔
یہاں تک تو بات ٹھیک ہے اور سمجھ میں بھی آتی ہے کہ اردو کا دامن اپنی وسعت کی بدولت ان الفاظ کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ مگر ہمارے یہاں جب اردو ایک عجب طرح سے بولی جانے لگتی ہے تو داغ، غالب، میر وغیرہ سمیت بےشمار اردو پسندوں پر کیا گزرتی ہو گی اسکا اندازہ چند مندرجہ ذیل  مثالوں سے لگایا جا سکتا ہے۔
"یار میری تو حالت خراب ہوئی وی ہے"
"میں نے آج ہی یہ کام کرا ہے"
"ابے تُو میری مت ہٹایا کر"
ہم نے  محض تین جملے ہی تحریر کئے ہیں جن میں کس پائے کی اردو استعمال کی گئی ہے اسکا ادراک اہلِ زبان بآسانی کر سکتے ہیں۔ "ہوئی وی" ایک ایسی مرکب ترکیب ہے جو ہمیں تو کسی بھی اردو قواعد کی کتاب میں نہیں ملی ہاں ہم "ہوگئی" پڑھ، سمجھ  اور بول سکتے ہیں۔ گویا پہلا جملہ کچھ یوں صحیح کیا جاسکتا ہے
"یار میری تو حالت خراب ہوگئی ہے"
دوسرے جملے میں "کرا" کو "کیا" سے بدل دینے سے قواعد کی رو سے سدھار آجائے گا۔ رہی بات تیسرے جملہ کی تو یہ ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں کہ اس قسم کی اردو ہماری ناقص عقل سے بالاتر ہے۔
جہاں اس قسم کی اردوسننے میں آتی ہے وہیں ایک مرض یہ بھی ہے کہ ہم اردو میں دیگر زبانوں بالخصوص انگریزی کی آمیزش کے بنا کوئی جملہ بول ہی نہیں سکتے اور اگر کوئی ایک جملہ مکمل اردو میں کہہ دے تو اسے عجیب نظروں سے دیکھنے کے ساتھ ہمارا تبصرہ ہوتا ہے کہ اسکی اردو بہت "مشکل" ہے، حالانکہ اس غریب نے محض خالص اردو استعمال کی ہوتی ہے، مثال کے طور پر  "یہاں لائف بہت ریلیکس ہے"، "تم آئل کا یوز کیا کرو"، "میں تو ڈیلی واک کرتا ہوں" اب اگر ان چھوٹے سے جملوں کو اردو میں بیان کیا جائے  تو  کچھ یوں ہوگا "یہاں زندگی بہت پُرسکون ہے"، تم تیل کا استعمال کیا کرو"، میں روزانہ چہل قدمی کرتا ہوں"۔
ہمارے خیال میں اسطرح کی بول چال  کہ جس میں خالص اردو کے الفاظ و تراکیب استعمال ہوں بات چیت کو قطعی بوجھل و ثقیل نہیں بلکہ لطیف اور سہل بناتی ہےکہ جس سےاردو زبان کے ساتھ اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔
زبان، دیگر بہت سی چیزوں کے ساتھ ہماری شناخت ہے اور اگر ہم اس سے محبت نہیں کریں گے تو اپنی شناخت کھو دیں گے۔ اردو ہماری قومی زبان ٹھہری اور پاکستانیت کے ساتھ اسکا ایسا ہی رشتہ ہے جیساجسم کا روح سےکہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے۔اپنی زبان سے محبت کا حق ہم اسوقت ادا کرسکتے ہیں جب ہم اسے صحیح طور پر سیکھیں اور استعمال کریں ورنہ آہستہ آہستہ ہم نے اردو بول چال کے ساتھ ساتھ لکھنے میں بھی جو طرزِ روما اپنا رکھا ہے اس سے عنقریب اردو کا حال بھی کہیں مشرقِ بعید کے ممالک کی زبابوں جیسا نہ ہو کہ  انکا رسم الخط اب محض انگریزی حروفِ تہجی پر ہی انحصار کرتا ہے۔
کرنل محمد خان نے اپنی کتاب بسلامت روی میں لکھا ہے"محبت فرانسیسی کی بجائے اپنی مادری زبان میں ہی کرنا چاہیے۔۔ رومن اردو میں بہرحال دھیمی آواز میں کہ ممکن ہےپڑوس میں کوئی بیمار ہویا کوئی طالبِعلم امتحان کی تیاری کر رہا ہو"۔
اس تحریر کا اختتام ہم دلاور فگار کی زبانی کریں گے
یونیورسٹی کے ایک سوٹ پوش سے
ہم نے پوچھا کیا ہیں آپ کوئی سارجنٹ
کہنے لگے جناب سے مس ٹیک ہو گئی
آئی ایم دی ہیڈ آف دی اردو ڈیپارٹمنٹ

آپکی آراء کا انتظار رہے گا

11 comments:

  1. میں بھی عموماً اس اردو انگریزی مکس خلائی زبان بولنے پر احتجاج کرا ہی کرتا ہوں۔

    ReplyDelete
  2. Bohat Umda Sir Bohat Hi Khoob Likkha Hai...
    Per Masla Yehi Hai K Aaj Kal Loag Urdu Mai Baat Kar Kay Naak Nahi Katwana Chahtay Hain..Apni Maadri Zaban Mai Baat Karna Unhai Beizzati Mehsoos Hoti Hai...

    ReplyDelete
  3. baat to aap ki sahi hai. aaj kal to talaffuz ka bhi rona hai. sheen aur qaaf ka hashar hi ho chuka hai. khaas ker qaaf ka. mushkil samajh ker lagta hai ke us ko urdu se nikaal hi dya gya hai.

    ReplyDelete
  4. Some statistic that I would like to share regarding Urdu.

    http://www.wolframalpha.com/input/?i=urdu

    ReplyDelete
  5. bht khoob sir..aap ne tanqeed ke saath saath islaah bhe ke hai.is khoobi ke saath bht kam log tanqeed kertai hain..
    ap ke aur ashfaq ahmad ke tehreer parh ke mujhay ehsaas hoota hai ke urdu mein agar likha jae to urdu ko parwaan charhaanay ke liye urdu andaz e bayan ke saath saath nafees urdu huroof bhe istemaal kiye jayein..umeed hai ke is hafte me urdu software kharreed ke apne urdu articles bhe likhoonge!

    ReplyDelete
  6. Ayaz aap ne bohat umda likha ha waqai dukh hota ha aajkal ki urdu sun ker. t.v per b isi tarah ki urdu boli aur lihki ja rahi ha. aap unko b email krein aur jihaad jari rakhein. good work

    ReplyDelete
  7. خوب لکھا ہے آپ نے ۔ ميں تو مزيد بگاڑ پر بل کھاتا رہتا ہوں کہ جس بری طرح اُردو ميں انگريزی ملائی جاتی ہے ۔ کچھ الفاظ اُردو کے اور کچھ بے ہنگم انگريزی کے

    ReplyDelete
  8. بالکل صحیح نشاندہی کی آپ نے۔

    ReplyDelete
  9. میرے خیال سے جو اردو میں جیسا بھی کام کر رہے ہیں وہی غنیمت ہے ہمارے انگریزی زدہ پالیسی سازوں کا بس چلے تو اردو کو یسکر ہی نکال باہر پھینکیں۔

    ReplyDelete
  10. ویسے یہ آخری جملہ تو میری سمجھ میں بھی نہیں آیا۔۔
    ہمارے یہاں جو اردو بولتا پایا جاتا ہے اسے عجیب سی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ہاں، انگریزی کا استعمال کرنے والا ذرا رعب بٹھانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

    ReplyDelete
  11. Bohat khob......par Aap sirf bolny ki baat kar rahy hein....social media tu likhny mein bhi bohat ghalat hai....jab hum school mein thy...tu likhai ki yeh ghlitiaan sageen ghaltiaan mani jati thi....par aagay kia kaho....ke meira chota baita bhi gulabi urdu hi bolta hai....jesy..."Mama kia aaj barish hoay gi"

    ReplyDelete