Wednesday, November 24, 2010

نہ ہوتے گر اشتہارات

اشتہار سازی اور اشتہاربازی رابطہ کا ایک ایسا ذریعہ ہے جسے صدیوں سے انسان  اظہارِ خیال کے طور پر استعمال کرتا چلا آیا ہے۔ بعض اوقات تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر یہ اشتہارات نہ ہوتے تو ہم کتنے دقیانوسی، لاعلم اور محروم قسم کے انسان ہوتے، کہ نہ تو ہمیں یہ پتہ ہوتو کہ بالوں میں کونسا شیمپو استعمال کرنا ہے، نہ یہ کہ صابن کونسا اچھا ہے۔ دودھ سوکھا بہترہے یا چائے میں محض رنگ لانے والا سفوف، سر کی جووں کو کیسے مارنا ہے اور ڈینگی بخار کے مچھروں سے چھٹکارا کیسےپانا ہے۔بچوں کو کونسے اسکول میں داخل کرایا جائے، ان کےاسکول کی وردی یعنی یونیفارم کس دوکان سے خریدا جائے، بیٹی کی شادی کے جہیز کی خریداری سے لے کر اس کے دلہن بننے اور رخصتی تک کے تمام معاملات اور داماد و سسرال کے تحفہ تحائف سمیت ہر قسم کی معلومات ہمیں اشتہارات ہی مہیا کرتے ہیں۔
یہ تو چند سیدھی سی مثالیں تھیں مگر ایک عجب مقابلہ بازی بھی ان اشتہارات میں دیکھنے کو ملتی ہے کہ جب ایک جیسی اشیاء یاخدمات پیش کرنے والے ادارے آپس میں ایک دوسرے کو نیچہ دکھاتے ہیں، دھلائی کے سفوف سے لے کر ، لال رنگ کے مشروبات اور موبائل والوں تک تمام اس دوڑ میں دوسروں پر سبقت لے جانا چاہتے ہیں۔
کیا ہی اچھا ہوتا کی ہم صبح بیدار ہوتے اور منجن سے دانت صاف کر لیا کرتے کہ توٹھ پیسٹ پر بھی اشتہاربازوں کا قبضہ ہے، بیت الخلاء کی صفائی بھی بنا کسی سیالِ خاص کے نہیں کی جاسکتی کہ اس کا بھی اشتہار نشر کیا جاتا ہے۔ اور تو اور سڈنی میں تو خلیفہ بھی اشتہار نشر کرواتے ہیں کہ ایک عدد نائی کی دوکان پر دوشیزائیں صرف بالغان کے بال کاٹیں گی، یہ اشتہار یہاں ریڈیو پر بجتا ہے اور کیا دیسی کیا گورے سب محض اس اشتہار کو سن کر ہی مفت میں اپنے آپ کو ان دوشیزاوں سے بال کٹاتا ہوا تصور کر لیتے ہیں۔
ان اشتہارات کو مزید ترقی انٹرنیٹ سے بھی ملی اور انواع و اقسام کے پیغامات، عرضیاں اور معلوماتی مواد برقی رقعوں یعنی ای میل پر گردش کرنے لگے۔ ایک اسی قسم کی گردشی ای میل ہمیں بھی موصول ہوئی جسکا ترجمہ ہم کچھ اختصار کے ساتھ قارئین کی نذر کرتے ہیں۔

میں اپنے تمام دوستوں اور خاندان والوں کا مشکور ہوں جنھوں نے مجھے کڑی در کڑی چلنے والی ایک ہی ای میل مسلسل سن دوہزار پانچ، چھ، سات ، آٹھ، نو میں بھیجی  اور اب دوہزار دس میں بھی بھیجے جا رہے ہیں ۔ اپنے احباب کی بدولت میں نے
کوکا کولا پینا چھوڑ دیا ہے کیونکہ مجھے پتہ چلاکہ اس سے بیت الخلاء کے داغ دھوئے جا سکتے ہیں
میں اس ڈر سے سینما بھی نہیں جاتا کہ کہیں  میں کسی ایسی نشست پر نہ بیٹھ جاوں جسمیں کوئی  سوئی چھپی ہو اور اسکے  چبھنے پر مجھے ایڈز ہو جائے۔
آپ کے سیکڑوں گردشی پیغامات اور اشتہارات کو میں آگے بڑھا چکا مگر مجھے ابھی تک ایک بھی مفت کا لیپ ٹاپ، کیمرہ، موبائل فون وغیرہ نہیں مل سکا
مجھ میں سے اب ایک گیلے کتے کی سی باس آتی ہے کہ میں خوشبویات اس ڈر سے استعمال نہیں کرتا ہے آپ کے پیغامات کےمطابق ان سے سرطان کا خطرہ رہتا ہے
میں نے اپنی ساری جمع پونجی ایمی بروس کے کھاتے میں منتقل کردی ہے جو کہ ایک سات سالہ بیمار بچی ہے اورایک مہلک مرض میں مبتلا ہے واضح رہے کہ یہ بچی سن انیس سو تیرانوے سے اب تک سات برس کی ہی ہے۔
میں ابھی تک ان لاکھوں ڈالروں کا منتظر ہوں جو کوئی نائجیریا سے اپنے چچا کی جائیداد کی مد میں میرے کھاتے میں منتقل کرنا چاہتا ہے۔ اسقدر اعتماد کا شکریہ
میں اب تک  وصول شدہ اشتہارات میں سے پینتیس پیغامات چار سو افراد کو اس امید پر بھیج چکا ہوں کہ نوکیا اور ایرکسن والے مجھے جدید موبائل مفت میں دیں گے مگر اب تو یہ ماڈل متروک بھی ہے چکے ہیں اور سونی اور ایرکسن آپس میں ایک ہو چکے ہیں۔
اگر آپ یہ پیغام کم از کم گیارہ ہزار دوسو چھیالیس افراد کو اگلے دس سیکنڈ میں نہیں بھیجیں گے تو کل دوپہر ساڑھے بارہ بجے ایک پرندہ آپ کے سر پر فارغ ہو سکتا ہے۔
ویسے آج تک تو ایسا کچھ ہوا نہیں مگر کیا پتہ ہو بھی جائے لہٰذا  یہ اشتہارات  آگے  بڑھاتے رہیں۔شکریہ

8 comments:

  1. hehehhe Aallaaa Sir Ji

    ReplyDelete
  2. waisay hud hi hogyi. aisay ishteharaat wasool ker ker ke main bhi tung aagyi thi. lekin aaj pehli martaba in ishteharaat ko aap ka blog perh ker mujhe hansi aayi.zabardast sir.

    ReplyDelete
  3. Hahahaha
    Wesay baat tu such hi hai Sir aur ab tu bethtay hue haath mai remote lekar bethna parta hai k kaunse waqt kesa ishtehaar ajaye....

    ReplyDelete
  4. MashAllah, bohat khoob.. sentence of the blog is (which i lyk the most)..

    اگر آپ یہ پیغام کم از کم گیارہ ہزار دوسو چھیالیس افراد کو اگلے دس سیکنڈ میں نہیں بھیجیں گے تو کل دوپہر ساڑھے بارہ بجے ایک پرندہ آپ کے سر پر فارغ ہو سکتا ہے۔

    ReplyDelete
  5. that's we call cut-throat competition in economics :D

    ReplyDelete
  6. ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔
    کمال ہے جی۔۔۔ بہت خوب لکھا ہے۔ مزا آیا پڑھ کے۔

    ReplyDelete
  7. ZABERDUST aYAZ. AAP NE KITNE DUKHE DILON KI AWAZ BUN KER YEH BLOG LIKHA HA aLLAH APKO IS KI JAZA DE:)

    ReplyDelete