Wednesday, December 8, 2010

سن 1432ھ کےآغازپر

تمام عالمِ اسلام کو سال ہجری سن چودہ سو بتیس کی آمد مبارک ہو۔ اس نئے قمری برس میں اللہ تعا لٰی سے ہماری دعا ہے کہ تمام عالمِ اسلام کو اخوت ،امن اور سلامتی کے جذبات سے مالا مال کرے اور ہمیں اپنی گمشدہ میراث حاصل کرنے کی توفیق عطا کرے کہ جس کو گنوانے کی وجہ سے ہم ثرّیا سے زمین پر دےمارے گئے ہیں۔

سالِ نو کا آغازمحرم الحرام سے ہوتا ہے جبکہ اختتام ذوالحجہ پر۔ ان دونوں مہینوں میں کئی قدریں مشترک ہیں، دونوں ماہِ حرام ہیں اورایک ساتھ ملےہوئے ہیں، ذیل میں ان مہینوں کا ایک تقابل پیش کیا جارہا ہے۔
سال کا آخری مہینہ بھی قربانی،پہلا بھی قربانی
وہ بھی ماہ کی دس تاریخ کو، یہ بھی ماہ کی دس تاریخ کو
وہ بھی نبی کا لعل ،یہ بھی نبی کا لعل
اُنکی یادبھی مناتے ہیں، اِنکی یاد بھی بُھولا نہیں سکتے
 وہ ذبیح ِعظیم، یہ شہیدِعظیم
اُنھوں نے خواب نبھایا، اِنھوں نے وعدہء طفلی نبھایا
وہ صبر کی ابتدا، یہ صبر کی انتہا
وہ کعبہ کے بنانے والے، یہ کعبہ کو بچانے والے

حضرتِ اسمعیل علیہ اسلام کی فرمانبرداری کو کس خوبصورتی سے اقبال نے بیان کیا ہے کہ  
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسمعیل (علیہ اسلام) کو آدابِ فرزندی

 آخر میں حضرت امام حُسین کو ہم ان الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں
ہر ابتداسے پہلے اور ہر انتہا کے بعد
ذاتِ نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) بلند ہے ذاتِ خدا کے بعد
 دنیامیں احترام کے قابل ہیں جتنے لوگ
میں سبکو مانتا ہوں مگر مصطفٰی(صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد
قتلِ حُسین (رضی اللہ تعالٰی عنہ) اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

4 comments:

  1. Sab ko Naya Islami Saal 1432 Hijri Mubarak ho..
    Bohat hi accha taqaabul kia hai Sir aap nay Zulhajj aur Moharram k darmiyaan...

    ReplyDelete
  2. Brilliant..But I would like to know what sort of priorities and expectation from 1432 be?

    ReplyDelete
  3. اللہ سالِ نو مبارک کرے اور ہميں حق کو سمجھنے کی توفيق عطا فرمائے

    ReplyDelete