Thursday, December 2, 2010

شاعری کا جواب شاعری سے

ہماری ایک پرانی شاگردہ ماہ رُخ انصرخان جوکہ اب میڈیکل کی طالبہ ہیں، شاعری سے خاصا شغف رکھتی ہیں اور اکثر کچھ نہ کچھ کہا کرتی ہیں۔درج ذیل شاعری بھی انہی کی ہے اور اسکے بعد ہم نے اس کا جواب لکھنے کی جسارت کی ہے۔ ماہ رُخ نے اپنی اس کاوش کا عنوان 'شکوہ' رکھا ہے تو ہم نے 'جوابِ شکوہ' پیش کیا ہے۔
ہم دونوں استاد وشاگردہ شاعری کے قواعد سے نابلد ہیں پر اپنی سی جیسی تیسی کوشش کی ہے،قارئین سے گزارش ہے کہ ہماری شاعری کو برداشت کریں اور ماہ رُخ کی حوصلہ افزائی فرمائیں۔شکریہ

شِکوہ
دلِ حساس کو دیا زخم پھر اک اور نرالا
رہا نہ کوئی سہارا نہ ہی پوچھنے والا
مضطرب ہے یہ دل کسی زندان میں
اے خدا بڑے سنگدل ہیں لوگ ترے جہان میں
 گزر رہی تھی زیست پرسکون، اپنی رفتار سے
نہ تھی کوئی فکر، نہ ہی شِکوہ گردشِ دوراں سے
گیا وہ چین وسکوں کسی کی بدمست نگاہ میں
اے خدا بڑے سنگدل ہیں لوگ ترے جہان میں
 گزر جاوں جو حدِغم سےتو رونے نہیں دیتا
عجیب شخص ہے جو راحت کے دو پل بھی جینے نہیں دیتا
چاہوں جو دُوری، تو الجھ جاتی ہوں یادوں کے حصار میں
اے خدا بڑے سنگدل ہیں لوگ ترے جہان میں
 چاہا جو سنبھلنا تو سہارا نہیں دیا
طوفانِ حوادث میں کوئی کنارا نہیں دیا
بجھ گئیں سب مشعلیں راہِ دشوار میں
اے خدا بڑے سنگدل ہیں لوگ ترے جہان میں
 تڑپتا رہا یہ دل،کوئی ہمدرد نہ پایا
شبِ غم ہوئی طویل، مژدہءآفتاب نہ پایا
تھی آنکھ پُرنم اور لب خاموش گوشائے تنہائی میں
اے خدا بڑے سنگدل ہیں لوگ ترے جہان میں
 وہ جورہا تھا دُور رحم ووفا کےسبھی تقاضےتوڑ کے
مری چاہتوں کوکیا فراموش تمام وعدے توڑ کے
ہُواقتل تمناوں کا اسکے عہدِجنون میں
اے خدا بڑے سنگدل ہیں لوگ ترے جہان میں
 ایک ادھوری سی حکایت زیرِلب باقی ہے
وحشتوں کے اس سفر کا مداوا بھی باقی ہے
'ماہی' کچھ نقش خلش بن کر بسا کرتے ہیں دِلوں میں
اے خدا بڑے سنگدل ہیں لوگ ترے جہان میں

جوابِ شکوہ
 دلِ حساس کو ہر دم تری یاد نے سنبھالا
ترا احساس ہے سدا دل میں بسنے والا
رہتاہوں میں ہر پل ترے دھیان میں
اے خدا بڑے سنگدل سہی لوگ ترے جہان میں
گزر رہی ہے زیست پرسکون، اپنی رفتار سے
غم جاں گرچہ ہے،نہیں شِکوہ لیل ونہار سے
مری قسمت، ہوئی مژگاں وہ نگاہ ایک آن میں
اے خدا بڑے سنگدل سہی لوگ ترے جہان میں
خیال ترا مجھے کہیں کھونے نہیں دیتا
ہو جلوت کہ خلوت کسی کا ہونے نہیں دیتا
رکھتا ہے ہردم ساتھ مجھے لامکان میں
اے خدا بڑے سنگدل سہی لوگ ترے جہان میں
چاہا اگربھٹکنا بھی تو ٹھکانا مجھے ملا
طوفانِ حوادث میں کنارا مجھے ملا
ترے وجودکی لَو ہےمرےجذبہ ایمان میں
اے خدا بڑے سنگدل سہی لوگ ترے جہان میں
ترےسواجہاں میں کوئی ہمدرد نہ پایا
تاریکیءشبِ غم کو خیالِ یار نےچمکایا
آنکھوںسے تُواُتراہےدل میں، دل سے پھرجان میں
اے خدا بڑے سنگدل سہی لوگ ترے جہان میں
گوآگیاہوں دوراپنوں کووطن میں چھوڑکے
ممکن نہیں یہ فاصلہ جُڑےدلوں کو توڑدے
مرا یقین ہے کامل اسی آس اسی گمان میں
اے خدا بڑے سنگدل سہی لوگ ترے جہان میں
زیست کے جام میں ابھی مئےباقی ہے
وحشتوں کےسفر میں ساتھ اپنے ساقی ہے
محرومیوں کوسجا رکھتے ہیں ہم طاقِ نسیان میں
اے خدا بڑے سنگدل سہی لوگ ترے جہان میں 

7 comments:

  1. sir... superb!! hit hai ye JAWAB-e-SHIKWA!! great!! :)
    _(Mahrukh)

    ReplyDelete
  2. بھئی یہ نامعلوم قارئین مہربانی فرما کراپنا نام تو لکھ دیا کریں

    ReplyDelete
  3. envy you both.
    awesome!!

    ReplyDelete