Sunday, December 5, 2010

اپنے پانچ سالہ بیٹے کے نام

ہوسکتا ہے کہ قارئین کو یہ بلاگ بچگانہ لگے،مگر وطن سے دُور رہ کر اس خط کے ذریعہ اپنے پانچ سالہ بیٹے کو کچھ سمجھانےکی کوشش کی ہے۔

پیارے بیٹے محمد علی
اسلام علیکم
آج میں آپ کو ایک خط لکھ رہا ہوں جو آپ خود سے پڑھنا، اگر کوئی لفظ آپ سے نہ پڑھا جا سکے تو وجیہہ یا امی آپ کی مدد کریں گی۔ آپ روزانہ اسکول جاتے ہو اچھا سا پڑھتے ہو تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کہ علی ایک نیک بچہ ہے اور سب اس سے پیار کرتے ہیں۔
اب میں  آپ کو ایک بات بتاتا ہوں کہ سڈنی میں جب ہم کچرا جمع کرتے ہیں توکاغذ، پلاسٹک، کانچ اور دوسرا کچرا الگ الگ رکھتے ہیں۔ یہاں پر کچرے کے بڑے بڑے ڈرم ہوتے ہیں جو لال اور پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ لال رنگ کے ڈرم میں کوئی سابھی کچرا ڈال سکتے ہیں جس میں پھلوں کے چھلکے اور تھیلیاں وغیرہ ہوتی ہیں۔ پیلے رنگ والے ڈرم میں کاغذاور پلاسٹک وغیرہ ڈالتے ہیں کیونکہ یہ چیزیں دوبارہ فیکٹری میں استعمال کے قابل بنائی جا سکتی ہیں۔
سب لوگ اپنے گھر کا کچرا اس طرح کے ڈرموں میں ہی ڈالتے ہیں اور ہر پیر کو کچرے والا ٹرک ان ڈرموں کو خالی کرتا ہے۔ اس ٹرک کے اندر لوہے کے دو بڑے بڑے بازو لگے ہوتے ہیں اور ایک موٹر کی مدد سے یہ ٹرک خود ہی کچرے کا ڈرم اٹھا کر خالی کرتا ہے اور خالی ڈرم کو پھر سے محلے کے لوگ بھرتے ہیں۔ اس طرح یہ ٹرک ہر ہفتہ آتا ہے اور کچرا جمع کرتا ہے۔
ہم سب کو اپنا اپنا کچرا خود جمع کرنے کی عادت ہوگی تو ہم اپنا گھر اور محلہ صاف ستھرا رکھ سکیں گے اور ہمارے رہنے اورکھیلنےکودنے کی جگہ اچھی لگے گی۔ آپ بھی ٹافی، چپس اور کھانےپینے کی چیزوں کے کاغذ اور تھیلیاں خود سے کچرے کے ڈبے میں ڈالا کریں۔
اگلے خط میں مزید باتیں ہوں گی۔
اللہ حافظ

8 comments:

  1. Awwwww...
    That's such a lovely letter...:)

    Ali ko iss ki importance 15 say 20 years baad hogi when he will be grown up he will remember this letter...:)

    ReplyDelete
  2. Bohat khoobsoorat khat hai Ayaz Bhai aur paighaam aur bhi khoobsoorat...

    ReplyDelete
  3. یقین کریں بالکل بچگانہ نہیں لگا یہ خط۔۔۔ایسے خط تو میرے دیس کے بالغان کو بھی ضرور لکھے جانے چاہئیں۔یہاں کی پوش ترین آبادیوں میں بھی میں روز دیکھتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ سوسا ئیٹی والوں نے ہر گھر کے باہر کوڑا ڈالنے کی ٹوکریاں دیوار میں نصب کی ہوئی ہیں اور اس کے علاوہ جگہ جگہ کوڑا دان بھی پڑے ہیں مگر لوگ باگ جب تک خالی پلاٹس پر اور اِدھر اُدھرکوڑا نہ ڈال دیں، انہیں دلی تسکین ہی نہیں ہوتی۔ یہ شاید یہاں کا کوئی کلچرل ایشو ہے۔

    ReplyDelete
  4. بالکل بچگانہ نہیں ھے۔بیٹا کو لکھا گیا خط تو ہماری تربیت کیلئے بھی ھے۔

    ReplyDelete
  5. awwww i love it

    ReplyDelete
  6. Muhammad Moiz Ullah KhanJuly 27, 2011 at 8:37 PM

    استاد محترم ، آپ یے با لکل تصوّر نہ کریں کہ یہ خط طفلانہ ہے. اگرچے لکھا ایک طفل مکتب کے لیے گیا ہے ، مگر اس میں نصیحت ہے ، جو آپ کا والد ہونے کے ناتے این فرض ہے ، مگر اس میں پوری قوم کے لیے ایک پیغام ہے ، کیوں کے ان اخلاقیات کا ہم میں بہت فقدان ہے .

    ReplyDelete