Saturday, December 18, 2010

چاول خوروں کے نام

چاول کو متروک لغت میں چانول بھی کہا جاتا تھا، مگر اب اسے 'ن' کے بغیر ہی ادا کیا جاتا ہے۔ تاریخ دانوں کے مطابق اسکی کاشت کا آغار ہندوستان یا چین میں ہوا۔ اسکا  نباتاتی نام اورِیزا سَتِیواہےاور یہ اس پودے کا بیج ہوتا ہے۔ اسے اردو میں دھان بھی کہتے ہیں۔ غذائی اعتبار سے اِس میں اَسی فیصد نشاستہ، گیارہ فیصد پانی، سات فیصد لحمیات،ایک فیصد غذائی ریشہ اور بقیہ دیگر عناصر اور مرکبات شامل ہیں۔ اس تفصیل کے بیان کرنے  کا مقصد قارئین کو کوئی  نباتاتی سبق پڑھانا نہیں ہےبلکہ چاول کی اہمیت اور چاول خوروں کی اس سے محبت بیان کرنا ہے یہ غذائی حقائق تو محض تمہید کے طور پرتحریر کر دیئے گئے ہیں۔
پاکستان چاول کی کاشت اور صارفین کے اعتبار سےدنیا کے بارہ بڑے  ممالک میں شامل ہے۔لگتا ہے کہ ملکہ فرانس نے اپنی قوم کو چاول کھانے کا مشورہ دیا تھا کہ جسے بعد میں تاریخ دانوں نے کیک اور برگر سے بدل ڈالا۔ چاول خوشی اور غم دونوں طرح کی تقاریب میں یکساں مقبول ہے، پڑوس میں میّت ہو یا خاندان میں شادی، بچے کا عقیقہ ہو یا حج کی دعوت، کسی کی نسبت ٹھہری ہو یا کسی کے نکاح کی تقریب ہو دسترخوان، چاول کے بنا نامکمل ہے۔
اقسامِ طعام میں بھی اسکا کوئی ثانی نہیں ہے، میٹھااورنمکین دونوں طرح سے بنایا جا سکتا ہے۔ زردہ، کھیر، فِرنی،پلاو، بریانی، متنجن کچھ بھی بنا لیں اور مزے سے کھائیں۔گڑ والے چاول بھی اگر سادہ دہی کے ساتھ کھائے جائیں تو عجب لطف دلاتے ہیں۔
گُزرے وقتوں میں جب کسی کے پاس اچانک دولت آتی تھی تو وہ نَو دولتیابھی میٹھے چاولوں کی ضیافت دیا کرتا تھا، مگرآجکل تو ٹی وی کی بدولت ماہرینِ باورچی خانہ، جنھیں اردو میں خانساماں اور انگریزی میں شیف کہا جاتا ہےدیگر اقسام کے طعام کے ساتھ ساتھ چاول پر خاص طور پر ہاتھ صاف کرتے ہیں اور ایسا کوئی نہ کوئی پکوان ضرور ایجاد فرماتے ہیں جس کا ذائقہ بعد میں ناظرین کے گھر والوں کو بھگتنا پڑتا ہے اور کسی غلطی کی وجہ سے  چاولوں کا ضیاع الگ ہوتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ جب مغلیہ سلطنت  دہلیزِ زوال پر تھی اسوقت بھی مغلوں کے دسترخوانوں پردیگر پکوانوں کے علاوہ  بیسیوں طرح کے پکوان محض چاول کے ہی ہوتے تھے۔ گویا چاول حکومتوں کو زوال پذیری کی جانب دھکیلنے کا ایک سبب بھی ہیں۔
ہمارے ہاں سندھ میں گرمیوں میں ہم نے اپنے سندھی بھائیوں کو سندھڑی آم کے ساتھ بھی سادہ چاول کھاتے دیکھا ہے، اور ماضی کے مشرقی پاکستان کے باسی کس قدر چاول  پسند ہیں اس سے سب ہی بخوبی واقف ہیں کہ ہمارے یہ بنگالی بھائی مچھلی کے ساتھ چاول کھاتے ہیں۔
چند گھروں میں ظہرانہ ،دال اور چاول کےبغیر نا مکمل ہے اور چند افراد جن میں ہمارےکچھ دوست بھی شامل ہیں اسقدر چاول پسند اور خورے ہیں کہ ان کے ساتھ رہنے والے مہینے کی تاریخوں کا حساب بھی  چاول سے لگاتے ہیں کہ آج اٹھارہ روز سے گھر میں چاول بن رہے ہیں تو ضرور مہینہ کی بھی اٹھارہ تاریخ ہی ہو گی۔
شروع میں ہم نے یہ بتا دیا تھا کہ چاول میں نرا نشاستہ بھرا پڑا ہے تو اگر آپ چاول خورے ہیں تو پھر دُبلے ہونے کا خیال ذہن سے نکال دیں اور چاول کھائے چلے جائیں۔ ہم نےسُنا ہے کہ پُرانا چاول زیادہ لذیزہوتا ہے مگر ہمارے گھر میں چاول بچتا ہی کب ہے کہ پرانا ہو اور لذیز ہو سکےاور گوداموں سے تو ویسے بھی برآمد ہوکر کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے سو ہم اس خیال سے روزانہ چاول نہیں کھاتے کہ کہیں مستقل قسم کے چاول خوروں کی دلشکنی نہ ہو۔ اُمید ہے کہ اس تحریر سےچاول خوروں کے جذبات مجروح نہیں ہوں گے۔

5 comments:

  1. Zabardasst Sir.. :)

    Ye sub tou theek .. lekin mene ek dafa pakkey huwe chawalon ko gond (glue) k tor pe bhi istemaal kia hua hai..

    Yun Chawal kaaghaz chispan krny k liye bhi kar-amad hain.. :)

    ReplyDelete
  2. wow!! yeh to mere matlab ka blog hai.. m rice loverrrRR...

    ReplyDelete
  3. chawal aj apney chawal huney pe PHOOLEY NAI SAMA rahey hungey :-)

    ReplyDelete
  4. Waaahhhh Kia Baat Hai Sir Aap Ki...:D

    ReplyDelete