Sunday, December 19, 2010

انوکھا ساتھی

وہ جب سے اِس فوجی ہسپتال میں داخل ہوا تھا باہر کی دنیا سےکٹ کر رہ گیا تھا۔ اسکا وجود خود اس کے اختیار میں نہ تھا اور دو بستر کے  اس چھوٹے سے کمرے میں قیدتھا کہ جہاں نرس اسکی تیمارداری کرتی اور دوا وغیرہ پلاتی تھی۔وارڈ بوائے دو ساتھیوں کی مدد سے ہر دوسرے دن اسکے بستر کی چادر بدلتے تھے اور ڈاکٹر ہر چھ گھنٹوں کے بعد اسکا معائنعہ کرتے اور دوا تجویز کرتے۔ اسکے دستہ کے جوان بھی اسکی عیادت کو آتے تھے۔ بظاہرسب معمول کے مطابق تھا مگر امن مشن کے اس فوجی ہسپتال میں کوئی اپنا اسکا پُرسانِ حال نہ تھا کیونکہ وہ اپنے گھر اور وطن سے دُور دیارِ غیر میں خدمات انجام دے رہا تھا۔ فرائض کی ادائگی کے دوران اسے اسقدر گہری چوٹ آئی تھی کہ اسکا پوراجسم مفلوج ہو گیا تھا اور وہ فقط اپنی گردن ہلاسکتا اوربات چیت کرسکتا تھاگویااُسکا ذہن مکمل طور پر ٹھیک تھا اورجسم اپاہج۔

باہر کی دنیا سے اسکا تعلق اس کمرے میں ایک ہی کھڑکی کی بدولت تھا جو دوسرے بستر کی جانب تھی اور اس سے آنے والی ہوا اور پرندوں کی چہچہاہٹ سے اسے زندگی کا کسی حد تک اندازہ ہوتا تھا۔ زندگی کہ جو کبھی اس نے بھی گزاری تھی اس کسمپرسی کی حالت سے بہت بہتر تھی۔ اب تو وہ محض اس زندگی کا تصور ہی کر سکتا تھا اوراپنی جسمانی حالت کی وجہ سے  کافی مایوس ہو چکا تھا۔ طرح طرح کے وسوسے اسے تمام وقت گھیرے رہتے کہ کبھی وہ اپنے پیاروں سے مل بھی سکے گا یا انکے دِیدار کے بِنا ہی اسے اس دنیا سے جانا ہوگا، اسکی ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن کیا گیا تھا اور ڈاکٹر اسے تسلیاں تو دیتے کہ وہ ٹھیک ہو جائے گا مگر اسے یہ ساری تسلیاں اور دلاسے جھوٹے لگتے تھے۔ وہ اپنے اندر جینے کی اُمنگ کو ہی مار بیٹھا تھا۔
اسکے یہاں آنے کے  چند دنوں کے بعد اسکے کمرے میں ایک اور مریض کو لایا گیا یہ بھی فوجی تھا جو کہ اسی کی طرح غیر مقامی تھا اور اسکا ہم وطن بھی نہ تھا۔ اس نئے مریض کو دوسرے بستر پر جگہ ملنے سےاسے  ایک غمگسارمیسر آگیا۔اس نئے مریض کی دائیں ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی جس پر پلستر چڑھا تھا اور یوں وہ چل پھر نہ سکتا تھا، نیا مریض کافی خوش مزاج تھا اور بہت اچھی اچھی باتیں کرتا تھا۔ دونوں کی جلد ہی دوستی ہو گئی۔ نیا مریض اسے روزانہ نت نئے قصے سناتا اور اسکا جی بہلاتا تھا۔ اس کی کھڑکی سے باہر کی دنیا کو دیکھنے کی حسرت کو بھی اس نئے مریض نے پورا کردیا تھا  کیونکہ نیا مریض اسے باہر کا منظر کسی کرکٹ کے کھیل کے رواں تبصرے کی طرح سناتا تھا " سامنے والے پارک میں مجھے بچے کھیلتے دکھائی دے رہے ہیں، مجھے انکی آوازیں تو نہیں آرہی ہیں مگر انکے چہروں کی چمک اور لبوں کی مسکراہٹ صاف دکھائی دے رہی ہے۔اِدھر ایک جوڑا بیٹھا آسکریم کھا رہا ہے اور اُدھر ایک ماں اپنے ننھے سے بچے کو گیند سے کھیلنا سکھا رہی ہے"
یہ اور ایسے کئی مناظر اس میں آہستہ آہستہ جینےکی  امنگ کو بیدار کرتے اور اِس نئے مریض کی باتیں اسکے ذہن پر خوشگوار اثر ڈالتیں۔یوں وقت گزرتا رہا اور اس کی حالت میں بہتری آتی گئی، اب وہ اپنی قوتِ ارادی کو کام میں لانے لگا تھا اور کسی قدر ہاتھ اور پاوں ہلا جلا سکتا تھا، مگر کمر کو نہیں موڑ سکتا تھا اور نہ ہی بستر سے اُٹھ سکتا تھا۔ ڈاکٹر پُر اُمید اور خوش تھے کہ وہ تیزی سے بہتری کی جانب جا رہا تھا۔ اسکا ساتھی نیا مریض بھی چند دنوں میں اپنے وطن بھیجا جانے والا تھا کیونکہ اسکے  ہم وطن فوجیوں کے دستے کو انکی حکومت نے واپس بُلا لیا تھا۔ ایک صبح جب وہ بیدار ہوا تو نئے مریض کو ساکت پایا، کمرے میں  نرس  اور وارڈ بوائے موجود تھے جنھوں نے اسکے منہ پر چادر ڈال دی ۔ اِس نے نرس سے دریافت کیا کہ اسکے ساتھی کو کیا ہوا تھا،نرس نے اسے بتایا کہ اچانک حرکتِ قلب کے رکنے سے اس نئے مریض کی موت واقع ہو گئی تھی، یہ خبر اسکے لئے ناقابلِ یقین تھی کہ ابھی رات ہی تو دونوں باتیں کرتے رہے تھے اور اب صبح اچانک ایسا ہو گیا تھا۔
اسکا کمرہ پھر سےخالی ہو گیا اوروہ دوبارہ تنہا ہو گیا تھا، مگر اب اسکی جسمانی حالت مزید بہتر ہو چکی تھی اور وہ اپنا اوپری جسم تکیے لگا کر اُٹھانے کے قابل تھا اور ہسپتال کے آہنی پلنگ کی ٹیک کا سہارا لے سکتا تھا۔ اسکی درخواست پر اسے کھڑکی کے ساتھ والے بستر پر منتقل کردیا گیا، بستر پر آنے کے بعد اس نے جیسے ہی کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھا تو اسے  وہاں کوئی پارک دِکھا نہ کھیلتے بچے، وہاں تو محض گھنے درختوں کا جنگل تھا  جس سے پرندوں کی چہچہاہٹ آتی تھی۔اس نے نرس سے کہا کہ اسکا ساتھی تو اسے کھڑکی سے باہر کا منظر بتایا کرتا تھا نرس اسے حیرت سے تکنے لگی اور بولی "اوّل تو یہاں کوئی پارک نہیں ہے دوسرا یہ کہ تمہارا ساتھی مریض اپنی بینائی کھو چکا تھا، جنگی حادثے میں ایک گولہ لگنے سے اسکی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی اور اونچائی سے گرنے کی وجہ سے وہ اپنی ٹانگ تُڑوا بیٹھا تھا"۔  ختم شُد
(ماخوذ)

6 comments:

  1. my GOD.. aik film b bani hai abi isi plot pe with a little modification.. bobby deol ki.. i think VADA RAHA naam hai

    ReplyDelete
  2. Kafi arsa pehlay maine yeh kahani parhi thi aik daffa phir say parhwanay k liye Shukriya.
    Bohat kuch hai is say seekhnay k liye...

    ReplyDelete
  3. achai tahreer hay gud.
    main nay bhi parhi thi par us main bahar ka haal sunanay wala aik bacha hota hay :D

    ReplyDelete
  4. NyCe Sir!! May ny yeh story kahin or b parhi hy likin us may woh patients soldiers nhi thy...

    ReplyDelete
  5. mene to kher kahin nahi parhi yeh story.. :P par buhat interesting lagi..!

    ReplyDelete