Saturday, January 1, 2011

تصویرِ ہمدرداں- ہمدرد کے نام

پیارے ساتھیومیں ہوں فارِحہ جمال اور میں ہوں احمد راجپوت

دوستو, ہمدرد ہم سب کیلئے ایک دوسرا گھر رہا ہے، یہاں گزرنے والے لمحات ہم سب کیلئے نہایت قیمتی اور خوُشکن ہیں۔اگر میں اپنا تجربہ بیان کروں تومیرے لئے سب سے فتح کُن لمحہ وہ تھا کہ جب ہمدرد کو ایک ساتھ دو دوٹرافیز کی صورت میں انعامات سے نوازا گیا۔ حماد،عائشہ، حفصہ میں تم لوگوں کے دمکتے چہرے کبھی نہیں بھُلا سکتی کہ جب فاتحین کا اعلان کیا گیا اور تم لوگوں کی کیفیت تھی کہ واہ یہ تو ہمارا انعام ہے۔جیت ہماری ہے۔ میری اب تک کی زندگی کا بطور انسان اور ہمدرد کی طالبہ کے یہ خوبصورت ترین لمحہ تھا۔
صبح سویرے جلد اٹھنے پر اور اسکول جانے کے شوق کے باوجود بھی یہ کہنا "امی ایک منٹ اور"بس میں سفر کرنا اور خواہش کرنا "یار، انکل آج لیٹ پہنچیں تو ہم ایکسرسائز سے بچ جائیں"۔کلاس کے دوران کوئی بیوقوفانہ لطیفہ سنانا یا بات کرنا اورسب کو ہنسنے پر مجبور کرنا باوجود اسکے کہ سخت ترین استاد کلاس میں ہوں۔بینچ پر بیٹھ کر والی بال کا میچ دیکھنا اور دعا کرنا کہ میچ چھُٹی تک ختم نہ ہو۔
یہ وہ لمحات ہیں جن کو ہم اپنی آئندہ زندگی میں نہاِت شدّت سےیاد کرنے والے ہیں۔آج جبکہ ہم اِس وقت میں موجود ہیں تو ہم اسے اہمیت نہیں دیتے مگر کل جب یہ لمحات ہمارا ماضی ہوں گے تو ہماری زندگیوں کی نہایت ہی خوشگواراور میٹھی یادیں ہونگی اورہم جب تک زندہ رہیں گے یہ یادیں ہمارے ساتھ ہونگی۔
ہمارے کھلنڈرے پن کی عمر کا سنہرا دور اب رخصت ہوا چاہتا ہے۔ میرے ہمدرد کے تمام طالبِ علم ساتھیوں نے بھی یہاں یقینا  مسرورکُن وقت گزارا ہے۔ ذرا ماضی کے دریچے وا کرتے ہیں کہ جب ہم بچے تھے،پیارے سے چہروں والے، چمکتے اور دمکتے سرخ گالوں والے کہ جیسے کسی سلطنت کے خوبصورت شہزادے اور شہزادیاں، اس جگہ وارد ہوئے کہ جو ہمارا دوسرا گھر ٹھہرا۔ اور اب ہم ہمدرد میں اپنےتعلیمی دور کا آخری بسر گزار رہے ہیں  ایسا لگتا ہے کہ ہم نے محض پلک جھپکی ہو مگر درحقیقت دس برس بیت چکے ہیں۔
میرے ذہن میں ہمدرد کی یادیں اَنمِٹ  سیاہی سے لکھی گئی ہیں۔

فارِحہ نے اپنی یادیں آپ سے بانٹیں اب میں اپنی یادیں آپ کو سنانا چاہوں گا جن کی اپنی الگ اہمیت ہے۔ میں کھیل کے حوالے سے اپنی فتوحات کو نہیں بھُلا سکتا جن میں ہار کا ڈر اور جیت کی لگن دونوں شامل رہے تاکہ ہم مسز گلزار کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر سکیں۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اس برس ہمدرد نے انٹر اسکول والی بال کا مقابلہ جیتا ہے۔ آئیے میں آپ کو کھیل کے میدان کا منظر سناتا ہوں، کہ جب ہمارے ہاتھوں سے فتح نکلتی محسوس ہو رہی تھی ، وہاں دیگر کھلاڑی بھی موجود تھے اوروہ بھی سر ظفر کا چہرہ نہیں بھُلا سکتے جنھوں سے سرخ آنکھوں سے کہا تھا " میں کچھ نہیں بولوں گا" اور اسکے بعد ہم نے اپنی پوری جان لگا ڈالی کہ  پانسہ پلٹ گیا اور فتح ہماری تھی، وہ لمحہ شادمانی بھرا تھا۔
فارِحہ اور میں یہاں یقینا ہمدرد کے اساتذہ کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتے جو اتنے برس ہمارے ساتھ تھے، جنھوں نے اپنی پوری محنت سے ہماری  شخصیت میں ایمانداری بھری اور ہماری کردار سازی مثبت انداز میں کی۔ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ آپ ہمارے اساتذہ رہے اور ہم اس پرآپ سب کو سلام پیش کرتے ہیں۔
ہمدر کی تعریف مسز گلزار کے بغیر نامکمل ہے، ہمدرد آج کامیابی کے جس مقام پر ہے محض آپکی انتھک محنت اور پُرستائش قیادت کی بدولت ہے۔ہماری شرارتوں پر سر بخاری کی پابندیاں اور پکڑ دھکڑ چاہے کتنی ہی سخت اوراساتذہ کی دی گئی سزائیں کتنی ہی تکلیف دہ تھیں مگر  ہم اِن لمحات کو بہت زیادہ یاد کریں گے  ساتھ ہی یہ بھی کہ شرارت کر چُکنے کے بعد سر ظفر پر تکیہ کرنا کہ وہ ضرور ہمیں بچا لیں گے۔
تصور کریں کہ اگلے چند برسوں بعد ہم کسی جامعہ کی کلاس میں ہوں گے، ہم میں سے چند کسی دفتر میں اور کچھ بال بچے دار ہو چکے ہوں گے تو یقینا یہ تمام یادیں ہماری لبوں پر مسکان لے آئیں گی۔ پیشہ ورانہ طور پر ہم ڈاکڑ، انجینئر یا استاد کچھ بھی بن جائیں ہم ہمیشہ ہمدردیئن ہی رہیں گے۔ہم یہ سب یاد کریں گے کہ ہمدردیئن ، ہمدرد کو بھُلا نہیں سکتا۔
جاتے جاتے ایک شعر ہمدرد کے نام،
جدائی پر ہی قائم ہے نظامِ زندگانی بھی
جداہوتاہےساحل سےگلے مِل مِل کےپانی بھی  

یہ تقریر حالیہ ہونے والی ایک پارٹی میں متذکرہ طلبہ نے کرنا تھی مگر وقت کی کمی کے باعث پیش نہ کی جا سکی۔ انگریزی کی اس تقریر کا اصل متن اس رابطہ پر پڑھا جا سکتا ہے۔ ہم نے ہمدرد کی یاد میں اسکا اردو ترجمہ کرنے کی جسارت کی ہے، ان دونوں بچوں کو ہم نے نہیں پڑھایا مگر انکے بڑے برادران ہمارے دور میں ہمدرد میں پڑھا کرتے تھے۔ ان لوگوں کی اپنے تعلیمی ادارے سے محبت کا یہ معصوم انداز ہمارے دل کو چھُو گیا ۔ اُمید ہے کہ قارئین بھی اس لمس کو محسوس کر پائیں گے۔ 

6 comments:

  1. Awesome sir.. you have translated it so well :)

    ReplyDelete
  2. Hamdard is in me -- I am from Hamdard.
    I miss those wonderful days!

    ReplyDelete
  3. Buhat khoob..me to waqai blg parhte parhte maazi ki yadon me kho gai! I miss hamDard alot, n wish if those dayz can come back!!!!!!!!!!!!!! :'(

    ReplyDelete
  4. mashallah sir=D urdu mein parhne mein mazeed maza agaya.=D

    ReplyDelete
  5. proud to be Hamdardian.

    ReplyDelete