Thursday, January 6, 2011

میں ایک پیچ ہوں

سائنسی اعتبار سے میراشجرہ بیلن اورسطح مائل سے ملتا ہے، یوں سمجھ لیں کہ میرا جنم ایک سطح مائل کو ایک بیلن پر لپیٹنے سے ہوا۔ سطح مائل کی لپیٹ کی وجہ سے میری شکل تخلیق ہوئی اور میری خوبصورت چوڑیاں وجود میں آئیں۔ میرے حسن کااندازہ انہی چوڑیوں سے ہوتا ہے اگر میری یہ دھاری دار چوڑی ٹوٹی ہوئی ہو یا یکساں درمیانی فاصلہ نہ رکھتی ہو تو میں کسی کام کا نہیں رہتا۔میری چوڑیوں کا یہ یکساں درمیانی فاصلہ عمودی طور پر ایک مکمل گردش پر جو فاصلہ طے کرتا ہے اسے انگریزی میں پِچ کہا جاتا ہے۔
میری بہت سی اقسام اور استعمالات ہیں۔ میرا ساتھی نٹ کہلاتا ہے جسکے ساتھ مِل کر تو میری پکڑ میں خاصا اضافہ ہو جاتا ہے۔ مجھے بہت سی جگہوں پراستعمال کیا جاتا ہے، گاڑی کے پہیے کو اس سے منسلک کرنا ہو یا گاڑی کو اٹھانا،دو پُرزوں کو جوڑنا ہویا کسی بھی میکانیکی مشین مثلا لیتھ وغیرہ، کو اسکی عملی حالت میں لانا ہو ہر جگہ مجھ سے ہی مدد حاصل کی جاتی ہے۔
مجھے کسی چھید میں کَسنے کیلئے پیچ کَس کی ضرورت پڑتی ہے جسکا منہ میرے سر کے لحاظ سے ہونا چاہئیے ورنہ مجھے کسَنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایک ننھی سی کلائی کی گھڑی سے لے کر ایک عظیم الجثہ آہنی پُل یا بحری جہاز کی تخلیق میرے وجود کے بغیر ناممکن ہے۔موٹر مکینک کی دوکان پر بھی میری موجودگی اسکی روزی کمانے کا باعث ہوتی ہےجہاں مالک یا استاد کی آواز پر 'چھوٹے' یعنی شاگرد پانا اور رینچ لاکر استاد کو دیتے ہیں اور استاد موٹر کے کَل پُرزوں کو کسَتا ہے اور یوںمیری اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے اور میں پھولے نہیں سماتا۔
کسی بچے کے کھلونے میں بھی میری وجہ سے حرکت آتی ہے۔ اگر میں یا میرا کوئی بھائی بند ڈھیلا پڑ جائے تو بچے کے چہرے کی ہنسی ہوا ہو جاتی  ہے اور اسے اس بات کی فکر پڑ جاتی ہے کہ میں  جلد سے جلد کس دیا جاوں۔
گو کہ میں انسانی جسم میں کوئی عمل دخل نہیں رکھتا مگر پھر بھی کہا جاتا ہے کہ میں کسی کے دماغ سے گِر گیا ہوں۔ میرے یہ فوائد اورا ہمیت اپنی جگہ مگر مجھے ایک بات کا افسوس رہے گا کہ کاش میں انسانوں کے دلوں کو جوڑ سکتا یا کم از کم دو پڑوسیوں کے درمیان ہی محبت کی چادر سے انھیں منسلک کر دیتا کہ اسطرح انسان کو دوسرے انسان کا احساس رہتا۔ 

1 comment:

  1. ahaannn ... kya tareef byaan ki h Peech ki ...
    peeCh b khush hOgya hOga :P =D

    ReplyDelete